پیٹرول 171 اور ڈیزل 235 روپے فی لیٹر!! کیا شہباز حکومت آئی ایم ایف کے تمام مطالبے مان لے گی؟ اندر کی خبر سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک)میاں عمران احمد لکھتے ہیں کہ” میاں عبدالحنان ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ برآمدات اور کنسٹرکشن کے کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کا شمار پاکستان کے چند بڑے ایکسپورٹروں میں ہوتا ہے۔ وہ ملکی معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں بھی درست معاشی سمت کے تعین کے لیے تجاویز دیتے رہے ہیں، لیکن افسوس کہ کمزور معاشی ٹیم ان تجاویز پر مکمل عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے۔

جب سے نئی وفاقی حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ ایک طرف واضع حکمت عملی کا فقدان دکھائی دے رہا ہے اور دوسری طرف انہوں نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ٹی وی پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالرز قرض پروگرام بحالی کے لیے پانچ سخت شرائط رکھ دی ہیں۔ ان میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کا خاتمہ، بزنس ایمنسٹی اسکیم کا خاتمہ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، 13 کھرب روپے پرائمری بجٹ خسارے کو 25 ارب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس میں تبدیل کرنا اور نئے ٹیکسز لاگو کرنا شامل ہیں۔ وہ سوچنے لگے کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کر دی تو ان کے خام مال کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا، جس سے براہ راست برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ پہلے ہی پاکستان برآمدات کے مطلوبہ ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے باعث کرنٹ اکاونٹ خسارہ 20 ارب ڈالرز کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تجارتی خسارہ 54 ارب ڈالرز ہونے کا خدشہ ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 17 ارب ڈالرز تک گر گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر تقریبا 10.8 ارب ڈالرز رہ گئے ہیں اور نجی بینکوں میں موجود ڈالرز ذخائر میں چند دنوں میں تقریباً 50 کروڑ ڈالرز کی کمی آ گئی ہے۔ ایسی صورت حال میں سبسڈی ختم کرنے سے پیٹرول کی قیمت 171 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 235 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے، جو پاکستانی تاریخ کی سب سے زیادہ قیمت ہو گی۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے مطالبات من و عن تسلیم نہیں کرنے چاہییں، سرکار کو کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نئی حکومت کی معاشی ٹیم نے بھی سابقہ حکومت کی معاشی ٹیم کی طرح آئی ایم ایف کے تمام جائز اور ناجائز مطالبات ہی ماننے ہیں تو ان میں اور ماضی کی حکومت میں کیا فرق رہ جائے گا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی آئی ایم ایف سے اچھے تعلقات کی دعویدار ہے۔ بلکہ ن لیگ اسحاق ڈار صاحب کو آئی ایم ایف مذاکرات کا گُرو تسلیم کرتی ہے۔ گو کہ اس وقت وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل ہیں لیکن اسحاق ڈار صاحب کو عارضی طور پر مشیر کی ذمہ داری دے کر لندن سے امریکہ بھجوایا جا سکتا ہے، جہاں وہ مفتاح اسماعیل اور رضا باقر صاحب کے ساتھ واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں۔

آئی ایم یف کی دوسری شرط بزنس ایمنسٹی سکیم کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔ اس حوالے سے حنان صاحب سوچتے ہیں کہ بزنس ایمنسٹی سکیم کے خاتمے کا مطالبہ پاکستانی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سکیم کے تحت نئی فیکٹریاں لگانے والوں سے ان کے سرمائے کاسورس نہیں پوچھا جائے گا۔ سرمایہ داروں کے پاس موجود کالا دھن نکلوانے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے نئی انڈسٹریاں لگیں گی، روزگار میں اضافہ ہو گا، ملک کی ٹیکس آمدن بڑھے گی اور جی ڈی پی میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ لیکن آئی ایم ایف کے مطابق یہ سکیم جائز ٹیکس دینے والوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ آئی ایم ایف کا نقطہ نظر درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت ڈاکومنٹڈ نہیں ہے۔ اسے ڈاکومنٹڈ کرنے کے لیے بڑے سرمایہ کاروں کو ایمنسٹی سکیم جیسی آفرز فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ دنیا کی بڑی اور مضبوط معیشتیں بھی ایمنسٹی سکیموں سے ملتی جلتی اسکیمیں متعارف کروا رہی ہیں۔ پاناما، برٹش ورجن آئی لینڈ سمیت کئی مثالیں موجود ہیں۔ دبئی، امریکہ اور برطانیہ جیسی مضبوط معیشتوں میں ٹیکس ہیونز کا تصور عام ہے۔ یہ ملک نہ صرف انھیں سپورٹ کرتے ہیں بلکہ آج بھی کالے دھن سے خریدی گئی جائیدادوں کی تفصیلات دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ اگر آئی ایم ایف کے مضبوط رکن اور ڈونر ممالک کالے دھن کو ملکی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے سکیمیں متعارف کروا سکتے ہیں تو پاکستان کو بھی اس کی اجازت دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ کنسٹرکشن میٹریلز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے اس کاروبار کو بھی بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ گھر کی تعمیر عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو سکتی ہے اور کمرشل پلازے بنانے والوں کے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ایسی پالیسیز ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک سے سرمایہ باہر جانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ جو پاکستان جیسی کمزور معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔

تیسری شرط بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ حنان صاحب کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ان کے کاروبار کے کیے نقصان دہ ہے۔ منافع کی شرح کم ہونے سے کیش کی سرکولیشن رک سکتی ہے۔ یہ بجلی کے نقصانات پورا کرنے کے لیے نامناسب فیصلہ ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں 25 مرتبہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے بھی نقصانات پورے نہیں ہو سکے ہیں۔ 42 مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں 200 گنا سے زیادہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔ ماہ اپریل کے بلوں میں پہلے ہی چار روپے 85 پیسے اضافہ کیا جا چکا ہے۔ یہ حکمت عملی غیر فعال دکھائی دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ کاروباری حضرات کے لیے بھی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف کو چاہیے کہ وہ حکومت پاکستان پر بجلی چوری روکنے کے لیے دباو بڑھائے اور بجلی کی بچت کے لیے موثر پالیسی بنانے میں مدد کرے۔ خیبر پختونخواہ کے کئی اضلاع میں سر عام بجلی چوری کی جاتی ہے۔ اس کی علاوہ سندھ میں بھی سر عام بجلی چوری کرنے کے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ چوتھی شرط پرائمری بجٹ خسارے کو پرائمری بجٹ سرپلس میں تبدیل کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان کا بجٹ خسارہ 13 کھرب روپے ہے۔ آئی ایم ایف نے اسے 25 ارب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس میں تبدیل کرنے کا ہدف دے رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ مذاکرات میں اسے مزید بڑھائے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنے ایک ماہر معیشت دوست سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان پر مزید قرض لینے پر پابندی لگ سکتی ہے۔ اور ہدف حاصل کرنے کا واحد حل ٹیکسز میں اضافہ ہو گا۔ جس سے مہنگائی کا نیا سونامی جنم لے سکتا ہے۔ اگر موجودہ میٹنگز میں اس شرط پر عمل درآمد کو وقتی طور پر التوا میں بھی ڈال دیا جائے تو اگلی میٹنگ میں اس پر عمل درآمد لازم ہو گا۔ حنان صاحب سوچنے لگے کہ آنے والے دن عوام اور کاروباری حضرات کے لیے کوئی اچھی خبر لاتے دکھائی نہیں دے رہے۔ شاید پاکستانی معیشت سری لنکا جیسے معاشی حالات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حالات کے ہیش نظر ان کے کئی دوست سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف کی ان شرائط کو حکومت پاکستان نے من و عن تسلیم کر لیا تو کاروبار بیرون ملک منتقل کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف کی پانچویں شرط ٹیکسوں میں اضافہ کرنا ہے۔ خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کے ٹیکسوں کو دو گنا بڑھائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حنان صاحب سوچتے ہیں کہ ان کی کمپنی کے ملازمین پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ ہیں اور اس صورت حال میں ان کی آمدن میں سے دو گنا ٹیکس کاٹنا نامناسب عمل ہے۔ ان کا سٹاف بھی اس مطالبے پر معترض ہے۔ سٹاف کا کہنا ہے کہ ہم تو پہلے ہی اپنی آمدن پر پورا ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ جو پاکستانی ٹیکس کی ادائیگی بروقت اور مکمل کر رہے ہیں انہی پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالنا نا انصافی ہے۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے ایسے شعبوں کی طرف جانے کی ضرورت ہے جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں، تاکہ ٹیکس بیس بڑھ سکے۔ حنان صاحب کے آفس سٹاف کا موقف درست دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں ٹیکس ریٹ بڑھانے کی بجائے ٹیکس بیس بڑھانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں 22 کروڑ کی آبادی میں سے تقریبا 7.5 ملین افراد ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں۔ جن میں سے صرف 25 کروڑ ریٹرنز جمع کرواتے ہیں۔ ایف بی آر کی اس ناکامی کا بوجھ پہلے سے ٹیکس ادا کرنےوالوں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان حالات کے پیش نظر عبدالحنان صاحب کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس تجربہ کار اور کامیاب معاشی ٹیم کے دعوے کو میں اس وقت درست تسلیم کروں گا جب وہ آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر قرض پروگرام بحال کروائیں۔ مجھے ان پر یقین اس وقت آئے گا جب مذاکرات کے بعد میرے خام مال کی قیمت نہ بڑھے، میری برآمدات میں اضافہ ہو اور میرے ملازمین کی زندگی میں بہتری آئے۔ اگر موجودہ حکومت ایسا نہ کر سکی تو ان کے تجربے اور مہارت میرے لیے اور پاکستان کے لیے کسی کام کی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.