عمران خان کو انہوں نے نکالا جو اس اقتدار میں لائے تھے ، مگر جناب کپتان انکا نام لینے کی بجائے امریکہ پر کیوں بار بار چڑھائی کر رہا ہے ؟ اعزاز سید نے ساری کہانی بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) 9اپریل 2022ء رات 11بجکر9منٹ پر اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر دفاع پرویز خٹک اور تحریکِ انصاف کے عامر ڈوگر کے ہمراہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی بیسمنٹ میں گاڑی سے اترے تو انہیں دیکھتے ہی میں نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی.اسپیکر صاحب آپ ووٹنگ کیوں نہیں کروا رہے؟

نامور کالم نگار اعزاز سید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ بڑے کمزور واقع ہوئے کیا کچھ کہیں گے اس پر؟ آپ کی وجہ سے آئینی بحران پیدا ہوگیا؟ آپ نے اسپیکر آفس کو وزیراعظم آفس بنا دیا؟ جونہی میں نے آخری سوال کیا‘. سابق اسپیکر اپنے ساتھیوں اور قومی اسمبلی کےچیف افسر سارجنٹ مسٹر اشفاق کے ہمراہ لفٹ میں داخل ہوچکے تھے جس کا دروازہ آہستہ آہستہ بند ہورہا تھا کہ اتنے میں مجھے ایک مغلطات کی آواز سنائی دی لیکن یقین بالکل نہ آیا کہ اسپیکر صاحب سوالوں کا جواب مغلطات سے دیں گے۔دراصل اس وقت اسد قیصر عمران خان سے وزیراعظم ہائوس میں ایک ایسی ہیجان خیز ملاقات کرکے آرہے تھے جس میں انکا مستقبل طے ہوچکا تھا۔ اس ملاقات میں ان پر وزیر اعظم دبائو ڈال رہے تھے کہ وہ سپریم کورٹ کے 7 اپریل 2022 ء کے حکمنامے اور ائین پاکستان میں درج ہدایات کی پروا کیے بغیر ووٹنگ کا عمل اگلے روز یعنی 10اپریل تک ملتوی کردیں۔اسپیکر پر مگر ایک نامعلوم سمت سے دبائو تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر من وعن عمل کیا جائے۔ اس اجلاس میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور اسپیکر کے درمیان تلخی بھی ہوئی۔ یہ اس روز دونوں کے درمیان تلخی کا دوسرا موقع تھا۔ صرف چند گھنٹے قبل فواد چوہدری پارلیمنٹ ہائوس میں اسپیکر سے ملاقات کرکے انہیں دوٹوک مگر تلخ انداز میں بتا چکے تھے کہ انہیں کچھ اور نہیں بلکہ وہ کرنا ہے جو عمران خان کہہ رہے ہیں۔عمران خان سے ملاقات میں دبائو کا شکار اسپیکر نے اپنے استعفے کی تجویز دی

تو وزیردفاع پرویز خٹک نے اسد قیصرکا ساتھ دیا یوں عمران خان کو نظر آگیا کہ اب وہ اپنا اقتدار کسی صورت نہیں بچا سکتے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسپیکر سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرکے اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بارے میں آئین اورسپریم کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کرکے معاملہ ایک بار پھر اگلے دن تک ٹال دیں۔ دراصل وہ بھی آئین پاکستان کو عملی طور پر وہی مغلطات دے رہے تھے جو بعد میں اسپیکر کے منہ سے نکلی۔ اس ملاقات کے بعد عمران خان اٹھے اور وزیراعظم ہائوس کے ہیلی پیڈ کی طرف روانہ ہوگئےجہاں سے وہ سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے بنی گالہ چلے گئے۔ادھر لفٹ کا دروازہ بند ہوا تو مسٹر اشفاق نے اسپیکرکو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، سرآپکی مغلطات ویڈیو پر ریکارڈ ہوگئی ہے۔ اسپیکر اسد قیصرنے ہاتھ جھٹکا اور ایک بار پھر وہی مغلطات دہرا دی۔اشفاق نے اپنی مسکراہٹ پر بمشکل قابو پایا۔ اتنے میں لفٹ اسپیکر دفتر کے عین سامنے پہنچ گئی۔ اسد قیصر ساتھیوں کے ہمراہ اسپیکر آفس داخل ہوئے تو انکے سرکاری کمرے سے ملحق ریسٹ روم سے مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق برآمد ہوئے اور انہیں دیکھتے ہی بولے،’’کیا کرنے جارہے ہیں؟‘‘ اسد قیصر نے انہیں بتایا کہ میں استعفیٰ دینے جارہا ہوں اب اجلاس کی صدارت ایاز صادق کرینگے۔ یوں ایازصادق نے ایوان میں ووٹنگ کرائی اور اس رات عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو انہی قوتوں نے اقتدار سے بے دخل

کیا جن کی انگلی پکڑ کر وہ اقتدار میں آئے تھے۔ مگر انہیں اقتدار سے نکالنے کا منظرنامہ تیار کرنے والوں کے گمان تک میں نہیں تھا کہ عمران خان اپنا اقتدار بچانے کے لیے اتنا آگے نکل جائیں گے کہ آئین و قانون کو بھی روند ڈالیں گے۔اس لاعلمی پر ایک اہم شخصیت نےکسی کو ڈانٹ بھی پلائی۔جنوری کے مہینے میں میاں شہباز شریف کو بتایا گیا تھا کہ عمران خان 28 فروری تک استعفیٰ دے دیں گے۔ ایسا مگر نہ ہوا تو 8مارچ کو اپوزیشن جماعتوں نے تحریکِ عدم اعتماد جمع کرادی۔ پھر بالترتیب 14اور 16 مارچ کی تاریخیں بھی دی گئیں آخر میں بتایا گیا کہ او آئی سی اجلاس کے بعد عمران خان کی طرف سے استعفیٰ آجائےگا۔ مگر استعفیٰ آنا تھا نہ آیا۔27 مارچ کو اسلام آباد میں جب عمران خان نے جلسے سے خطاب میں امریکی سازش کے ذریعے خود کو اقتدار سے ہٹائے جانے کا دعویٰ کیا تو عوامی ردِعمل دیکھ کر انہیں نکالنے والے خود ڈانواں ڈول ہوگئے۔ پھر ایک اجلاس ہوا اور چند پردہ نشینوں کی وجہ سے عمران کو بچانے کے عمل سے دور رہنے کےفیصلے پرمستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنے پراتفاق کیا گیا۔ ویسے یہ سب بھی ہماری جمہوریت کے لیے اسپیکرکی طرف سے دی گئی اسی مغلطات کےمترادف ہے۔عمران خان کا اقتداربچانے کیلئے اس وقت ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی آئین و قانون کو3 اپریل کی رولنگ کے ذریعے مغلطات دی تھی، اس بات پر اسد قیصر تعریف کے مستحق ہیں کہ وہ کم از کم اس معاملے میں آگے نہیں

بڑھے۔ڈپٹی اسپیکر کی غیرآئینی رولنگ پر میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ اپنے اقدام پر نادم ہونے کی بجائے فخر کر رہے تھے، یہ الگ بات کہ سپریم کورٹ نے 7 اپریل 2022 ء کو اپنے حکم نامے میں ان کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دے دیا یوں عمران خان کی طرف سے 3 اپریل کو ہی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حکم بھی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا۔ 9اپریل کی رات عمران خان ان 22بدقسمت وزرائےاعظم کی فہرست میں شامل ہوگئے جو 1973 ء کے آئین میں درج 5سالہ مدت پوری نہیں کرسکے۔دراصل پاکستان میں وزرائے اعظم اور سیاسی جماعتوں کو اقتدار سے بے دخل کیا جاتا رہتا ہے کیوں کہ یہاں مستقل طور پر مقتدرہ ہی فیصلہ سازی کے عمل میں نمایاں رہی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ عمران خان اقتدار سے برطرفی کے بعد ان کرداروں کا نام لینے کی ہمت بھی نہیں کررہے جنہوں نے انہیں اقتدار کے پرآسائش ایوانوں سے واپس سڑکوں چوراہوں پر دھکیل دیا ہے۔ عمران خان اپنے اقتدار کےا صل دشمنوں کی بجائے امریکہ کو مغلطات دے رہے ہیں۔ یہ مغلطات مشہور بھی بہت ہورہی ہے کیونکہ ہمیں بچپن سے پڑھایا گیا ہے کہ پاکستان میں جو واقعات سمجھ نہ آئیں وہ یا تو ایجنسیوں کی کارروائی ہوتے ہیں اور ایسا نہ ہو تو امریکہ اس میں ضرور ملوث ہوتا ہے۔ اب ہمارے ہاں ایجنسیوں کا نام لینے پر کوئی تیار نہیں لہٰذا امریکہ کو مغلطات دے کر سیاسی دکان چمکانا آسان ہے۔ وہی کام ہورہا ہے۔عمران خان کی اقتدار سے فراغت کے صرف چار روز بعد ریٹائرڈ فوجیوں کے ایک وفد نے ان سے بنی گالہ میں ملاقات کرکے انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ کے تازہ بیانیے نے اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی دراڑیں ڈال دی ہیں۔سازش پہلے بھی ہوئی تھی اور اب بھی ہورہی ہے مگر منتخب ہونے کے بعد زیادہ ترقید میں ہی رہنے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے علاوہ مرکزی دھارے کی کوئی سیاسی جماعت سازش اور سازشی کرداروں کا نام لینے کو تیار ہی نہیں۔ میڈیا کے پر پہلے ہی کٹ چکے ہیں۔ ملک میں یہ فکری بانجھ پن دیکھتا ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.