کیا خلا میں گوشت ’اگایا‘ جا سکتا ہے؟ حیران کن تجربے نے بڑے راز افشاں کر دیئے

لاہور: (ویب ڈیسک) جیف بیزوس اور ایلون مسک دونوں ہی خلا میں کالونیاں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ناسا بھی مریخ کے دھول و مٹی والے حصے پر آبادیاں بسانا چاہتا ہے۔ لیکن اگر چاند یا دوسرے سیاروں پر انسانوں کی آبادی کو بسانا ہی ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ کھائیں گے کیا؟ اس حوالے سے کئی تجربات کیے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا پودے خلا میں پنپ سکتے ہیں یا نہیں۔

اور گذشتہ ہفتے ایک نئے تجربے کا آغاز ہوا ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ گوشت کے خلیوں کو خلا میں اگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ غذائیت کا ذریعہ جانچنے کے لیے ایک چھوٹا سا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ خلا میں مستقبل کے حوالے سے تحقیق کاروں کو اس سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ اس تجربے کا آئیڈیا ایک اسرائیلی کمپنی ایلف فارمز کا تھا جو خلیوں سے گوشت اگانے کا تجربہ رکھتی ہے۔ اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن کا دورہ کرنے والی نجی خلابازوں کی ٹیم خلا میں یہ تجربہ کر رہی ہے۔تنقید نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار بہت ہی غیر مستحکم ہے اور خلاباز اس پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ زمین سے گوشت لیجانے کے بجائے گوشت اگانے کا عمل کبھی بھی آسان نہیں ہو گا۔گوشت کیسے اگایا جائے: خلیوں سے گوشت اگانا، خاص کر بڑے پیمانے پر، زمین پر بھی آسان نہیں ہے۔ ایلف فارمز ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو زمین پر ’کلچرڈ میٹ‘ تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن خلا میں ایسا کرنے کی کوشش کرنے والی یہ پہلی کمپنی ہو گی۔ یہ کمپنی ’لیب میں تیار کیا گیا گوشت‘ کی اصطلاح استعمال کرنا پسند نہیں کرتی لیکن حقیقیت میں یہ طریقہ کار کسی بھی طرح سے روایتی فارمنگ جیسا نہیں ہے۔ گائے کے خلیات (یہ کوئی بھی جانور ہو سکتا ہے) کو ایسی چیزیں دی جاتی ہیں جو انھیں بڑھنے میں مددگار ہوتی ہیں، جیسے امینو ایسڈ اور کاربوہائیڈریٹ۔ یہ خلیات بڑھ کر پٹھوں کے ٹشو بن جاتے ہیں اور بلاخر یہ گوشت بن جاتا ہے جسے آپ کھا سکتے ہیں۔ اس عمل کو ’کاشت‘ یا ’پرولیفریشن‘ کہا جاتا ہے۔

ایسے گوشت سے بنائے گئے جانور کی زندگی کے دورانیہ، پیدائش کا وقت، ذبح کب کیا جائے وغیرہ، یہ سب تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کو پسند کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس کے ماحول پر ممکنہ طور پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثال کے طور پر میتھین کے اخراج میں زبردست کمی ہوتی ہے۔ خلا میں گوشت کیوں اگاتے ہیں؟ زویکا تماری کا، جو ایلف فارمز خلائی پروگرام کے سربراہ ہیں، کہنا ہے کہ سائنس دانوں کو ابھی یہ علم نہیں ہے کہ یہ عمل صفر کششِ ثقل والی جگہ پر بھی انجام دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ’ہم پچھلی بہت سے سائنسی تحقیقات سے جانتے ہیں کہ کم کششِ ثقل والے ماحول میں فزیالوجی اوربیالوجی کا مختلف برتاؤ سامنے آتا ہے۔ لہذا ہم حقیقت میں نہیں جانتے، بلکہ کوئی نہیں جانتا کہ خلا میں گوشت اگانا ممکن ہے یا نہیں۔‘ چنانچہ جب 8 اپریل کو چار خلاباز سپیس ایکس راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے پہلے نجی مشن پر روانہ ہوئے تو وہ اپنے ساتھ جوتوں کے باکس کے سائز کا ایک کنٹینر لے کر گئے تھے، جس میں جانوروں کے خلیے اور ہر وہ چیز موجود تھی جس کی انھیں گوشت اگانے کے لیے ضرورت تھی۔ لیری کونر، ایٹن سٹیب، اور مارک پیتھی نے فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے اپنا سفر شروع کیا اور ان کے ساتھ سابق خلاباز مائیکل لوپی۔الیگریا بھی تھے۔ انھیں اتوار 24 اپریل کو خلا میں واپس جانا تھا، جس کے بعد خلیات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جانا ہے۔

لیکن اس گوشت کی کوئی اہمیت ہے؟ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ خلا میں گوشت اگایا جا سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ یہ ایک اچھا خیال ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مقامی سپر مارکیٹوں میں بھی خلیوں سے اگائے جانے والا گوشت نہیں بیچا جا رہا۔ اگرچہ اس صنعت میں سینکڑوں ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے (لیونارڈو ڈی کیپریو ایلیف فارمز میں ایک سرمایہ کار ہیں) لیکن اس کے باوجود اس خوراک کو بڑے پیمانے پر اگانا مشکل عمل ہے۔ ایلف فارم بھی اسے ریستوران میں پیش کرنے سے قبل اسرائیل میں ریگولیٹرز کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔ کہنےکا مطلب یہ ہے کہ یہ خوراک ابھی تک زمین پر اپنی جگہ اور نام نہیں بنا سکی، خلا تو بہت بعد کی بات ہے۔ جب خلا میں گوشت اگانے کی بات آتی ہے تو اس کے علاوہ اور بھی عملی مسائل ہیں جن میں سے پہلا مسئلہ بانجھ پن کا ہے۔برکلے کے ایک کیمیکل انجینئر ڈیوڈ ہمبرڈ کہتے ہیں ’جانوروں کے خلیے آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔‘ ہمبرڈ کہتے ہیں ’اگر بیکٹیریا یا فنگس ماحول کا حصہ بن جائیں تو یہ جانوروں کے خلیوں سے زیادہ تیزی سے بڑھیں گے اور اس صورت میں ان کا غلبہ ہو گا یعنی پھر آپ جانوروں کے خلیے نہیں بنا رہے، آپ بیکٹیریا بنا رہے ہیں۔ اور یہ سب آپ کو پھینکنا پڑے گا۔‘ ایلف فارمز کا کہنا ہے کہ بانجھ پن کے مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے، خاص طور پر خلا میں جہاں نسبتاً کم مقدار میں گوشت تیار کرنے کی ضرورت ہو گی۔ لیکن کسی بھی طرح کی ملاوٹ مریخ پر موجود کمیونٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔ یہ ایسے ہی ہو گا کہ جیسے آپ کی ساری فصل برباد ہو گئی۔ ایلف فارمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلا میں خوراک بھیجوانے کا عمل انتہائی مہنگا ہے۔
اگرچہ اس حوالے سے اعداد و شمارمختلف ہیں، تاہم 2008 کے ناسا کے اندازے کے مطابق زمین کے مدار سے صرف ایک پاؤنڈ پے لوڈ بھجوانے کی لاگت 10 ہزار ڈالر یا 7800 پاؤنڈ ہے۔اور مریخ پر ایک پاؤنڈ خوراک بھجوانے میں کئی گنا زیادہ لاگت آئے گی۔ تماری کہتے ہیں ’مریخ لاکھوں کروڑوں کلومیٹر دور ہے اسی لیے وہاں مقامی طور پر اپنا کھانا اگانے کے قابل ہونا ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔‘ تاہم ہمبرڈ اس ممکنہ فائدے والی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں ’خود بخود اگنے والے خلیوں کے لیے چینی، امینو ایسڈ اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور آپ جو خلیات بنا رہے ہیں ان میں کیلوریز کی مقدار کم رہے گی۔‘ ’بہترین حالات میں بھی آپ شاید 25 فیصد کیلوریز اگا کر انھیں کھا پائیں گے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس کے لیے آپ 75 فیصد کو گھسیٹ کر وہاں خرچ کرنے کیوں لیجائیں گے؟‘ لیکن لمبے خلائی مشنوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت اور بھی تحفظات ہوتے ہیں جیسا کہ خلابازوں کی ذہنی صحت۔ کیرن نیبرگ ناسا کی ایک سابق خلاباز ہیں جنھوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر ساڑھے پانچ ماہ گزارے اور اب وہ ایلف فارمز کے مشاورتی بورڈ میں شامل ہیں۔ ’پاؤڈر ملک اور اس طرح کا کھانا سفید پیکٹوں میں آتا ہے جسے ہمیں صرف ہائیڈرٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔ میں لہسن اور زیتون کے تیل کی خوشبو کو ترس گئی تھی۔ لہذا وہاں سے کچھ بھی گھر واپس لانے کا خیال بہت شاندار ہے۔‘ نائبرگ کے مطابق اگر انسانوں کو کئی سالوں تک زمین سے دور رہنا پڑے تو ان کے لیے تازہ خوراک اور سبزیاں ضروری ہیں۔‘یقینی طور پر اگر انسانیت مریخ پر لوگوں کو بھیجنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو خلابازوں کو غذائیت سے بھرپور ایسا کھانا فراہم کرنا جو خراب نہ ہو اور جس کا ذائقہ اچھا ہو، ایک اہم اور مشکل مسئلہ ہے۔اگر کسی بھی طرح یہ ثابت ہو جائے کہ گوشت خلا میں اگایا جا سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ قابلِ بھروسہ ہے اور زمین سے لائے جانے والے کھانے کا عملی متبادل بھی ہے۔ ایلف فارمز کے خواب تو بڑے بڑے ہیں لیکن واقعی گوشت زمین پر تیار کیا جا سکتا ہے یا نہیں، یہ کمپنی کے لیے ایک بہت اہم سوال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.