کم عمری کی شادیاں!!!! پاکستانی قوانین کیا کہتے ہیں؟ کس عمر میں شادی کی اجازت ہے ؟ جانیں

لاہور: (ویب ڈیسک)کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکیاں دعا زہرا اور نمرہ کاظمی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں منظر عام پر آ گئی ہیں. دونوں نے اپنے علیحدہ علیحدہ ویڈیو بیانات میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے وہاں شادیاں کر چکی ہیں۔ نمرہ کاظمی پیر کو ڈیرہ غازی خان میں میں پولیس کو ملیں تھیں اور ان کے مطابق وہ تونسہ میں شاہ رخ نامی لڑکے سے نکاح کر چکی ہیں۔

جبکہ 16 اپریل کو کراچی سے لاپتہ ہونے دوسری لڑکی دعا زہرا کے حوالے سے پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کی جانب سے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور وہ اس وقت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اوکاڑہ کے دفتر میں موجود ہیں۔ اس حوالے سے دعا زہرا کا ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ’انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے ظہیر احمد نامی لڑکے سے شادی کر چکی ہیں۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان کے خاندان والے ان کی عمر بھی غلط بتا رہے ہیں اور وہ 18 سال کی ہیں۔‘ جبکہ کراچی میں دعا زہرا کے والد مہدی علی کاظمی جانب سے فراہم کردہ نادرا دستاویز کے مطابق دعا زہرہ 27 اپریل کو 14 برس کی ہوں گی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ کیس موضوع گفتگو ہے اور کئی صارفین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کم عمری کی شادی کی معاملہ ہے اور 14 سال کی عمر میں شادی سندھ اور پنجاب میں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔ترمیم شدہ پنجاب میرج ایکٹ 2015 کے مطابق کوئی بھی بالغ فرد 18 سال سے کم عمر لڑکے اور 16 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر چھ ماہ تک قید کی سزا اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح نکاح خواہ کو بھی دو بچوں یا ایک بالغ فرد اور بچے کی شادی کرانے کے جرم میں اسی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔صوبہ سندھ جہاں سے دعا زہرا اور نمرہ کاظمی کا تعلق ہے، وہاں کے قوانین کے مطابق بچوں کی شادی کے وقت عمر کم سے کم 18 برس ہونی چاہیے۔اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر تین سال کی قید کی سزا متعین کی گئی ہے۔ سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ 2016 میں پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کی گئی تھی اور اس کی دفعہ 292-اے کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے کو بہلا پھسلا کر جنسی تعلقات استوار کرنا بھی جرم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 18 سال اور پنجاب میں 16 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی جرم ہے۔جبران ناصر نے رواں سال اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری ہونے والے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کے لیے رضامندی کو رضامندی تصور نہیں کیا جا سکتا۔دعا زہرا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ جو بھی ہوا ہے سراسر غیرقانونی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.