لڑکی گھر سے کیوں بھاگتی ہے؟ کیا بچپن کی شادی حل ہے؟ معاشرے کے بڑھتے مسائل کی وجہ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) سلیم ملک لکھتے ہیں کہ”کم عمر لڑکی گھر سے ”بھاگ“ جائے یا نکاح کر کے جائے دونوں صورتوں میں لڑکی محفوظ نہیں ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ والدین یا گارڈین سے دور ہو گی۔ اس کا بچپن چھن جائے گا۔ سکول نہیں جا سکے گی۔ جنسی زیادتی اور تشدد کا شکار ہو گی۔ نکاح سے ناپسندیدہ یا زبردستی جنسی فعل کے نفسیاتی اور جسمانی اثرات کم نہیں ہو جاتے۔ وہ حاملہ ہو گی اور کم عمر ماں بنے گی۔

یہ سب خطرات اور مسائل بھاگنے یا نکاح کرنے میں برابر ہیں۔ اس لیے یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بچپن کی شادی کسی مسئلے کا نہیں بلکہ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ان دنوں ہمارا مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا بچیوں کے گھر سے ”بھاگ“ جانے کی خبروں سے اٹا پڑا ہے۔ لوگ فکرمند ہیں اور اس نازک مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ میں نے بھی کمپیوٹر پر بیٹھ کر کافی سر کھپایا اور کافی مایوسی ہوئی۔ درست حل کی جانب شاید ہی کسی نے اشارہ بھی کیا ہو۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ گھر میں بچوں کو ان کی مرضی کا ماحول ملے۔ ان پر ٹرسٹ کیا جائے۔ انہیں جج نہ کیا جائے تاکہ وہ ساری باتیں سب سے پہلے والدین کے علم میں لائیں اور رہنمائی حاصل کریں۔ والدین کا کام ہے کہ ان کے سوالات اور مسائل کو اہمیت دیں۔ اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا اپنے مسائل آپ کے ساتھ ڈسکس کرنا چاہتا ہے تو اس بات کو غنیمت جانیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اچھے والدین ہیں۔ بچوں کی جانب سے سوال سے پہلے بھی والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل پر اپنے بچوں سے بات کریں۔ تاکہ وہ (بچے ) اپنی باری پر مسائل کے ساتھ اچھے طریقے سے ڈیل کر سکیں۔ اور اپنے والدین کو اپنا رازدار بنا سکیں۔ اگر آپ کا بچہ اپنے مسائل آپ کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتا تو یہ پریشانی کی بات ہے۔ ہر عمر اور ہر شخص کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ اپنے سوالات ہوتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی کے ساتھ ڈسکس کرنے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا آپ کے ساتھ ڈسکس نہیں کر رہا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ کسی اور کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ کسی اور کے ساتھ مسائل کو ڈسکس کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ دوسرا شخص بچے کی کمزوری جان لینے کے بعد ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

بچوں کو اتنا ٹرسٹ دیا جائے کہ انہیں والدین سے زیادہ کسی اور پر ٹرسٹ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ اس عمر کے تمام خطرات سے انہیں آگاہ رکھا جائے تاکہ وہ دھوکہ کھانے سے بچ جائیں۔ سکول اور گھر میں سیکس ایجوکیشن کی جائے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کی عمر کی جسمانی اور جذباتی ضروریات کیا ہیں اور۔ ان جسمانی اور جذباتی ضروریات کو کیسے مینج کرنا ہے۔ کیسے ایک خاص عمر تک پہنچنے کا انتظار کرنا ہے تاکہ ان ضروریات کے ساتھ جڑے مسائل اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔ اگر بچے اور والدین کے درمیان تعلقات دوستانہ ہوں اور بچوں کے ذاتی مسائل پر کھل کر بات ہوتی ہو تو پھر ہی بچے اپنی جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے اور مینج کر پائیں گے۔ والدین ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ کے بچوں کو اپنا لڑکپن صحت مند اور محفوظ طریقے سے گزارنے کرنے کے لیے سیکس ایجوکیشن کی اشد ضرورت ہے۔ آپ اگر شرمائیں گے اور ان کی یہ ضرورت پوری نہیں کریں گے تو دوسرے بیچ میں آ جائیں گے اور یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ حل تعلیم و تربیت اور بچوں کے ساتھ دوستی میں ہے نہ کہ بچپن کی شادی میں۔ بچپن کی شادی ایک مصیبت ہے اور اس کے بہت نقصانات ہیں۔ شاید ہی کسی معاشرے میں ٹین ایج ماں کو درست سمجھا جاتا ہو۔ البتہ ہمارے معاشرے میں اس بات کی خوب تبلیغ کی جاتی ہے۔ میڈیا کے رجعت پسند سیکشن اور ملا اس معاملے کو جی بھر کے خراب کرتے ہیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور ضروریات کے مطابق سیکس ایجوکیشن دیں۔ گھر، سکول اور میڈیا سب کا اس میں رول ہے۔ ان کو شادی کے جھنجھٹ سے بچائیں۔ شادی بچوں کھیل نہیں ہے۔ آخری بات، کوئی بچی یا بچہ گھر سے تبھی بھاگے گا جب اس کا گھر اس کے رہنے کا قابل نہیں رہے گا۔ اگر گھر پرسکون ہو، اس کی عزت نفس محفوظ ہو اور اس کی زندگی کے متعلق فیصلوں میں اس کی رائے لی جاتی ہو تو وہ کیوں بھاگے گا گھر سے۔ گھر سے بھاگنے کے فیصلے اس وقت کیے جاتے ہیں جب نوجوانوں کو یہ لگتا ہے کہ ان کی شادی کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف کر دیا جائے گا۔ اپنے بچوں پر اپنے فیصلے نہ تھوپیں۔ انہیں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے دیں۔ آپ کی جھوٹی انا کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.