حیران کن باتیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حماد غزنوی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سنتے ہیں کہ سکندر جب دنیا سے گیا اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے، اورپھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ جب عمران خان پرائم منسٹر ہائوس سے گئے تو ان کا ایک ہاتھ خالی تھا، دوسرے میں ایک ڈائری تھام رکھی تھی،

بالشت بھر کی ڈائریوں میں اکثر طولِ شامِ غم کے قصے ہوا کرتے ہیں،مگر ہم نہیں جانتے خان صاحب کی ڈائری میں وظائف لکھے تھے یا توشہ خانے کے تحائف کی تفصیلات،لہٰذا آئیے وہ بات کرتے ہیں جو ہم جانتے ہیں۔ہمیں روزِ اول سے بتایا گیا، ذہن نشین کروایا گیا کہ ــ’بندہ ایمان دار ہے‘۔ ہم نے کہا آمنا و صدقنا، اور چوم چاٹ کے سینے سے لگا لیا۔ناقدین کو ہم نے حاسدین قرار دیا اوران کے الزامات کا ہمیشہ یک لفظی جواب دیا، ہشت! خان صاحب نے لندن میں فلیٹ لیا اور ڈکلیئر کرنا بھول گئے، پھر کالے دھن کو سفید کرنے کی ایک اسکیم سے فائدہ اٹھا کر اسے قانونی حیثیت دلائی مگر یہ نہ بتا سکے کہ لندن فلیٹ خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایمنسٹی اسکیم میں کالا پیسہ ریاست قانونی طور پر سفید کرتی ہے، مگر دنیا کی عدالتی تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ چور کو معافی کے ساتھ ساتھ ’صادق اور امین‘ کا سرٹیفیکیٹ بھی تھما دیا جائے۔ان الزامات کا عُشاق ایک ہی جواب دیتے تھے، ’پرانی باتیں ہیں، بھول چوک ہو جاتی ہے، بہرحال، بندہ ایمان دار ہے‘۔بنی گالہ تین سو کنال کی جو منی ٹریل پیش کی گئی اس پر ہنسنا منع تھا، یعنی سابقہ بیوی نے تحفہ دیا تھا، نہیں، نہیں اپنی سابقہ بیوی سے ادھار پیسے لیے تھے، بعد میں فلیٹ بیچ کر اسے پیسے واپس کر دیے تھے، اور دونوں باتوں کا کوئی ثبوت نہیں، وہ جی دراصل جمائما نے ارشد نامی شخص کو پیسے بھیجے تھے،

اس نے آگے دیے تھے، آئیں بائیں شائیں۔لیکن عُشاقِ نیازی بے نیاز رہے، اُن پر ’ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر، سوچتا ہوں تری حمایت میں‘ والی کیفیت طاری رہی۔ سب سے بڑا دفاعی نکتہ یہ تھا کہ ایک کرکٹر نے منی لانڈرنگ کی یا ٹیکس چوری، قوم کا پیسہ تو نہیں کھایا۔اور اس دلیل پر سب عشاق مطمئن ہو جاتے، بات ختم ہو جاتی مگر اب تو بات آگے چلی گئی ہے، حکومت بھی ہو گئی اور قوم کے پیسے بھی کہانی میں شامل ہو گئے ہیں۔توشہ خانہ کے تحائف سے گھڑی فروشی تک کا افسوسناک قصہ تو ہم سن چکے ہیں۔ آگے چلتے ہیں۔ہیلی کاپٹر کی کہانی سنی ہے آپ نے؟ عمران خان صاحب نے گھر سے دفتر جانے پر ایک ارب روپے خرچ کئے جو ان کے ہر پیش رو سے سو گنا زیادہ ہیں۔ قوم کے پیسوں سے کھلواڑ اور کسے کہتے ہیں؟اور یہ فرح شہزادی صاحبہ کون ہیں، جن کا نام پنجاب میں ہونے والی ہر واردات پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے، چوالیس بینک اکائونٹ، درجنوں گاڑیاں، بیسیوں پلاٹ، سینکڑوں ایکڑ زمین، یہ سب کیا ہے؟ چلیں صرف اتنا بتا دیں کہ القادر روحانی یونی ورسٹی کی ٹرسٹی کے طور پر آپ کی نگاہِ انتخاب فرح شہزادی پر کیسے پڑی ، 450کنال زمین اور کروڑوں کے عطیات سنبھالنے کے لئے آپ کو اس سے موزوں کوئی شخص میسر نہیں آیا؟ بہرحال، خان صاحب روحانی یونی ورسٹی کے لیے آپ کے انتخاب کی داد دینی چاہیے کہ آج پورا ملک تسلیم کرتا ہے کہ فرح گوگی صاحبہ بہت ’پہنچی ہوئی‘ شخصیت ہیں۔یہ کہانی جیسے جیسے کھلے گی شرمناک تر ہوتی جائے گی۔جو اصحاب اب بھی بہ ضد ہیں

کہ ’بندہ ایمان دار‘ ہے، انہیں دیکھ کرمسولینی کا اٹلی یاد آ جاتا ہے جہاں سڑکوں کے کنارے درجنوں بل بورڈز پر یہ تحریر لکھی ہوتی تھی ـ’لیڈر کبھی غلطی نہیں کرتاـ‘۔جب عمران خان کا بت تراشا جا رہا تھا تو خام مال میں ’ایمانداری‘ کا خاصا بھاری تناسب رکھا گیا تھا، ایک ایسا سیاستدان ایجاد کیا گیا جو سیاست کرے گا مگر سیاستدان نہیں ہو گا، کیوں کہ سیاست دان تو چور ہوتے ہیں۔ عمران خان سے پہلے یہ مالی دیانت داری صرف مارشل لاایڈمنسٹریٹرز میں بتائی جاتی تھی۔عمران وہ پہلا سویلین سیاستدان تھا جس کی دیانت اپنے بت تراش کی طرح شک سے بالا تھی۔خالق نے اسے اپنی صفات پہ تخلیق کیا تھا، اور اپنے عکس پر پیارآنا ایک فطری عمل ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ ریٹائرڈ افسروں کی تنظیم کے نمائندوں نے عمران خان کے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹنے کے فوراً بعد بنی گالا میں ان سے ملاقات کر کے اظہارِ یک جہتی کیا تھا۔غالباً اسی باعث پی ٹی آئی فوج کی قیادت کے خلاف سوشل میڈیا مہم بلا خوفِ آہنی ردِ عمل جاری رکھے ہوئے ہے، اور غالباً یہی وجہ ہے کہ ادارہ اپنی شہرت کے برعکس اس طرح یک سو نظر نہیں آتا۔پروجیکٹ عمران خان کے برین واش ہونے والے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ’ اپنے بندے‘ کی مدد کیوں نہیں کی گئی اور ’چور‘ سیاست دانوں کو کیوں آنے دیا گیا ہے۔اس صورتِ احوال کو عمران خان بھی بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے میں انہیں کوئی ’غیبی‘ مدد مل سکتی ہے، لہٰذا ا عدالتوں، الیکشن کمیشن اور مقتدرہ پہ عوامی پریشر بڑھا کر کسی طرح اس حکومت کو چلتا کرنا چاہیے۔ اوراس کے علاوہ وہ بس ایک بات کیلئے کوشاں ہیں کہ ان پر کوئی ایسا کیس نہ بنے جس سے ’بندہ ایمان دار ہے‘ کا بُت ٹوٹ جائے ۔کچھ حقائق نظر میں رکھیے۔ یہ حکومت بہ وجوہ آ تو گئی ہے لیکن یہ ’سیم پیج‘ والی حکومت نہیں ہے، پورا سسٹم اس کی اندھی تائید نہیں کرے گا ، اسی طرح عمران خان کے لئے موجودہ سیاسی نظام اُس طرح ناموافق نہیں ہو گا جیسے نواز شریف کے لیے ہو گیا تھا، پنجاب کے منظر سے یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے۔ رہی بات عمران خان اوران کی فرنٹ پرسن کے خلاف کیسز کی تو ضرور آغاز کیجیے، قانون کے آگے تو سب برابر ہیں، اور اگر ’بندہ ایمان دار‘ ہے تو گھبرانا کیسا، اور جہاں تک جرائم کے ثبوت کا تعلق ہے تو وہ چھپ نہیں سکتے، کسی شاعر نے کہا تھا’ہوش مندی سے ڈائری لکھنا، دونوں جانب سے دیکھتے ہیں ورق‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.