صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکو : کپتان کے برطانوی دوست کا ایک تعارف جو آپ کو حیران کر ڈالے گا

لاہور (ویب ڈٰسک) نامور کالم نگار وجاہت علی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جناب عمران خان کے نو رتنوں کی قابلیت ملاحظہ فرمائیے۔1۔ شہباز گل: جس نے کبھی پاکستان میں کونسلر تک کا الیکشن نہیں لڑا، ملائیشیا سے لی گئی تعلیمی ڈگری پر بھی سوالیہ نشان ہے، ماضی کی داستانوں پر نہ بھی دھیان دیا جائے تو

موصوف کا کُل سیاسی تجربہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا مشیر ہونا ہے لیکن اپنے توہین آمیز رویے اور سوقیانہ زبان کی وجہ سے یہ پاکستان کی سیاست و صحافت کے ایوانوں میں ناپسندیدہ ترین ہو گئے تو اس ”مہارت“ کے صلے میں عمران خان نے اپنا مشیرِ خاص بنا لیا۔ 2۔ فواد چودھری: ذومعنی جملہ بازی، مخالفین پر تیز طراز اٹیکس ان کی خاص پہچان ہیں، سیاسی کامیابی اس قدر کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مشرف لیگ، مسلم لیگ ق اور آزاد حیثیت سے جہلم کے مختلف حلقوں سے الیکشن میں پے در پے ناکامیوں کے بعد پی ٹی آئی جو اُس وقت ”کنگ پارٹی“ تھی، کے ٹکٹ پر کامیابی کے بعد مختلف وزارتوں تک کا سفر۔ 3۔ عثمان بزدار المعروف وسیم اکرم پلس: سیاسی تجربہ کاری اتنی کہ مسلم لیگ ق کے دور حکومت میں تحصیل ناظم پھر مسلم لیگ ن کی طرف مراجعت اور 2018کے الیکشن سے کچھ عرصہ قبل ’’پی ٹی آئی‘‘ میں شمولیت۔ 4۔فیاض الحسن چوہان: سیاسی مخالفین اور صحافیوں کیلئے رکیک بیان بازی ان کا مرکزی اصول ہے، 2002میں ’’ ایم ایم اے‘‘ پھر مسلم لیگ ق اور بعد ازاں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔ 5۔ فردوس عاشق اعوان: بنیادی طور پر ڈاکٹر ’’سیاست کا شوق‘‘ اور یہ بھی اپنی ادنیٰ درجے کی سیاسی بیان بازی اور عامیانہ زبان درازی کے لیے مشہور و معروف رہیں اور یہی ان کا کل سیاسی اثاثہ ٹھہرا۔ 6۔شیخ رشید 1988میں ’’اسلامک ڈیموکرٹیک الائنس‘‘ پھر مسلم لیگ ن، مشرف دور میں مسلم لیگ ق سے ہوتے ہوئے اپنی جماعت ’’عوامی مسلم لیگ‘‘ اور اب ’’پی ٹی آئی‘‘ کا دم بھرتے ہیں۔ ان کا بھی سیاسی اثاثہ لوگوں کو ماڑ دھاڑ اور افراتفری کیلئے اکسانا، مزاحیہ یا غیراخلاقی مُبتذل زبان درازی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ 7۔ زُلفی بخاری: نہ سیاست دان نہ ٹیکنوکریٹ، نہ بیوروکریٹ بلکہ کروڑ پتی اور عمران خان کا دوست ہونا ہی ان کی تمام تر اہلیت ٹھہری۔ 8۔صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکو: شخصی کوالٹی یا مہارت کچھ نہیں، عمران خان کا دیرنہ دوست ہونا مشیر بننے کیلئے کافی ہے۔ 9۔معید یوسف، ثانیہ نشتر وغیرہ وغیرہ چونکہ امریکہ میں رہتے ہیں، اس لیے خان کی مشاورت کیلئے کوالیفائی کر گئے اور بس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.