سرائیکی وسیب کی تاریخ کا ایک یادگار واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ظہور دھریجہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بہاول پور سے تقریباً تیس میل کے فاصلے پر ریت کے ٹیلوں کے درمیان چاردیواری سے ڈھکا ہوا ایک ٹیلہ نمایاں دکھائی دیتا ہے جو چولستانوں کے الفاظ میں ’’دلیل پیر‘‘ کا مزار ہے ۔ دلیل پیر، ’’چنن پیر ‘‘کے نام پر زیادہ مشہور ہے،

آپ کا اصل نام حضرت عماد الدین ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ساتویں صدی ہجری میں حضرت مخدوم جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کا گزر جیسلمیر کے علاقے سے ہوا تو حضرت ؒ نے فرمایا یہاں کوئی مسلمان بھی رہتا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ملا، مگر ساتھ ہی جب حضرتؒ کے علم میں یہ آیا کہ ہندو راجہ کے گھر بچے کی ولادت ہونے والی ہے تو آپ نے پیشین گوئی کی کہ یہ بچہ مسلمان ہو جائے گا ۔ حضرت مخدوم کی پیشین گوئی کی خبر راجہ تک بھی پہنچی ، چنانچہ جب اس کے گھر میں بچہ پیدا ہوا تو اُس نے اپنے بچے کو ریگستان میں پھینکوانے کا فیصلہ کیا ، ماں کی مامتا اگرچہ راجہ کے ارادے کی راہ میں مزاحمت کی ہمت نہ کر سکی، اُس کی خواہش پر چندن(صندل) کی لکڑی کا پنگوڑا بنوایا اور اس میں اس بچے کو سُلا کر ریگستان کے ایک ٹیلے پر رکھوا دیا گیا۔ راجہ کا خیال تھا کہ اس طرح بچہ ایک دو دن میں خود بخود چل بسے گا اور اس کے مسلمان ہونے کی تہمت سے بچ جائے گا، مگرخدا کا کرنا کیا ہوا ؟ بچہ اس پنگوڑے میں زندہ رہا اور غیبی طور پر اس کی پرورش کا انتظام ہو گیا۔روایت کے مطابق یہ بچہ بڑا ہو کر حضرت مخدوم جلال الدین سُرخ پوش بخاریؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوا اور تا حیات اسی مقام پر اپنے روحانی فیوض و برکات مقیم رہا ۔ آس پاس کے بہت سے لوگوں نے چنن پیر کی روحانی تعلیمات کی بدولت اسلام قبول کیا۔

مٹی کے ڈھیر کی شکل میں جو ٹیلہ نظر آتا ہے وہی چنن پیر کا مزار ہے جس کو لوگ چندن کی لکڑیوں کے پنگوڑے کی نسبت سے چنن پیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ مارچ کے مہینے میں یہاں بہت بڑا میلہ لگتا ہے اور دور دور سے لوگ اس میں شرکت کیلئے آتے ہیں، سرائیکی وسیب میں اس میلے کو روہی کا ثقافتی میلہ کہتے ہیں۔چنن پیر کی وجہ تسمیہ بارے دو روایات ہیں،ایک روایت یہ ہے کہ بچہ چاند کی مانند خوبصورت تھا اس وجہ سے اسے سرائیکی میں چن اور چنن کہا گیا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ بچے کیلئے جو جھولا بنوایا گیا وہ چنن یعنی صندل کی لکڑی کا تھا، سرائیکی زبان میں صندل کو چنن کہا جاتا ہے، سرائیکی زبان میں اکثر نام چنن کے بھی آتے ہیں یعنی صندل۔ جس طرح پیشن گوئی ہوئی تھی کہ راجکمار کے گھر ہونے والا بچہ مسلمان ہو جائے گا اور اللہ کا ولی بنے گا، بالکل ایسا ہوا، وہ بچہ مسلمان بھی ہوا اور اللہ کا ولی ایسا بنا کہ آج بھی اس کا مزار مرجع خلائق ہے۔ چولستان کے صحرا میں ہونے کے باوجود زائرین کی آمد کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے اور عرس کے دنوں میں میلہ لگا رہتا ہے، عرس کے موقع پر میلہ سات جمعرات تک جاری رہتا ہے ۔ پانچویں جمعرات کو بہت بڑا میلہ ہوتا ہے ، بہاولپور ضلع میں سرکاری طور پر مقامی تعطیل ہوتی ہے، میلہ میں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں، آج کل تو باڑ لگ گئی ہے اس سے پہلے ہندوستان کے کے علاقہ جیسلمیر اور راجستھان سے سے بڑی تعداد میں لوگ اس میلے میں شریک ہوتے تھے۔ فروری کا آخری ہفتہ اور مارچ کا مہینہ اور اپریل کا پہلا ہفتہ عرس کے ایام ہیں، اسی طرح سرائیکی مہینہ چیت جو کہ بہار کا مہینہ ہے یہی چنن پیر میلہ کے آغاز کا مہینہ ہے۔ چنن پیر میلے کے سات ہفتوں میں ساری روہی اور اس کے رنگ چنن پیر میں سمٹ آتے ہیں، یہ میلہ سرائیکی وسیب میں امن و سلامتی کی علامت اور انسانیت و بھائی چارے کا مرکز ہے۔ یہاں صرف مسلمان ہی نہیں ہندو اور عیسائی مذہب کے پیروکاربھی یکساں عقیدت سے حاضر ہوتے ہیں۔ چنن پیر میلہ روہی کی ثقافتی روح ہے، سال بھر سے بھوک پیاس اور دھوپ کا سیک جھیلتے روہیلے ان سات ہفتوں میں گویا اگلے سال کیلئے پھر چارج ہوجاتے ہیں۔ شہروں میں رہنے والے، جنہوں نے اس صحرا میں ایک دن بھی نہیں گزارا وہ انٹر نیٹ پہ بلاگز پڑھ کر اور دو چار کتابوں سے ماخوذ علم کی بناپر نہ تو روہیلہ ثقافت میں چنن پیر کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں، نہ ہی روہیلوں کی زندگی میں اس میلے سے پیدا ہونے والی خوشیوں اور اس کے مثبت اثرات کو محسوس کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.