شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت ایسی تھی کہ پتھروں کو ’زندہ کر دے!!! شادی کے لئے منگنی کے بعد 5 سال انتظار کیوں کرنا پڑا؟؟؟

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہورنو کا جشن تھا۔ نئے سال کی خوشی میں مینا بازار سجا تھا۔ محل کی خواتین دکانیں سجائے، زیور، مسالے اور دوسری اشیا فروخت کر رہی تھیں تاکہ حاصل ہونے والی آمدن سے غریبوں کی مدد کی جا سکے۔ چونکہ خواتین نقاب کے بغیر تھیں اس لیے صرف شہنشاہ جہانگیر یا شہزادے ہی وہاں آ سکتے تھے۔

شہزادے خرم کا بھی وہاں آنا ہوا۔ ایک دکان پر انھوں نے قیمتی پتھر اور ریشم فروخت کرتی ایک لڑکی کو دیکھا۔ نرم و نازک ہاتھوں سے وہ انتہائی عمدہ کپڑے کو تہہ لگا رہی تھیں۔ ایک لمحے کو دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔ خرم کا دل تیزی سے دھڑکا۔ آواز سننے کی غرض سے پوچھا، یہ پتھر کیسے ہے؟ پتھر اٹھاتے ہوئے لڑکی نے تنک کر کہا کہ ’جناب یہ قیمتی ہیرا ہے۔ کیا آپ کو اس کی چمک سے اندازہ نہیں ہوا۔ اس کی قیمت دس ہزار روپے ہے۔‘ لڑکی کو تب حیرت ہوئی جب خرم اس قیمت کو ادا کرنے پر راضی ہو گئے۔ ’اب جبکہ اس پر آپ کا ہاتھ لگا ہے تو یہ قیمت کچھ بھی نہیں۔‘ لڑکی نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔ خرم نے کہا کہ ’اگلی ملاقات تک میں اسے دل کے پاس رکھوں گا۔‘ لڑکی نے جانا کہ اب یہ کھیل نہیں رہا۔ کانپتی آواز میں پوچھا ’اور یہ (ملاقات) کب ہو گی؟‘ ’جس روز ہمارے دل ملیں گے‘، خرم نے سرگوشی کے اندازمیں کہا، ’اور تب تاروں سے چمکدار اصلی ہیرے آپ پر نچھاور کروں گا۔‘ کیرولین آرنلڈ اور میڈیلین کومورا نے اپنی کتاب ’تاج محل‘ میں یہ واقعہ لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ لڑکی ارجمند بانو تھیں۔ اُن کے دادا مرزا غیاث بیگ (جنھیں اعتماد الدولہ یعنی ’ریاست کا ستون‘ بھی کہا جاتا ہے) مغل شہنشاہ اکبر کے دور حکومت میں شاہی دربار میں داخل ہوئے اور بعد میں وزیر (اعظم ) مقرر ہوئے۔ اُن کی پھوپھی مہر النسا نے سنہ 1611 میں شہنشاہ جہانگیر سے شادی کی اور نور جہاں کے نام سے مشہور ہوئیں۔

نور جہاں کے بھائی اور ارجمند کے والد ابوالحسن آصف خان نے بھی دربار میں اعلیٰ عہدہ حاصل کیا۔ ’معین الآثار‘ میں لکھا ہے کہ باپ دادا نے ارجمند کے حسن وجمال، فہم و فراست کا لحاظ کر کے اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی۔ ماں کی تربیت نے چار چاند لگائے۔ جب پڑھ لکھ کر فارغ ہوئیں تو ان کے حسن و جمال کا چرچا چہار عالم تھا اور علم و فضل کے گھر گھر چرچے تھے۔ رینوکا ناتھ اپنی کتاب ’16ویں اور 17ویں صدی عیسوی میں قابل ذکر مغل اور ہندو خواتین‘ میں لکھتی ہیں کہ ارجمند علمی میدان میں قابل ذکر تھیں اور ایک باصلاحیت اور تہذیب یافتہ خاتون تھیں۔ وہ عربی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں اور نظمیں لکھ سکتی تھیں۔ والڈیمار ہینسن کے مطابق وہ شائستگی اور خوش اخلاقی کے لیے مشہور تھیں۔ شہنشاہ جہانگیر نے ان کے بارے میں ضرور سُنا ہو گا کیونکہ انھوں نے اپنے بیٹے شہاب الدین محمد خرم کی تجویز پر ان کے ساتھ منگنی کے لیے آسانی سے رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔ ’ماثرالامرا‘ کے مطابق جہانگیر نے نجابت و شرافت کا لحاظ کر کے ارجمند بانو بیگم سے خرم کی منگنی کی اور خود رسم کے موافق اپنے ہاتھ سے انگوٹھی پہنائی۔ محمد امین قزوینی نے ‘پادشاہ نامہ‘ میں لکھا ہے کہ جہانگیر کی چہیتی اہلیہ نور جہاں نے اپنی بھتیجی کے ساتھ شہزادہ خرم کی شادی طے کرنے میں خصوصی دلچسپی لی۔درباری نجومیوں کی طرف سے شادی کے لیے منتخب ہونے والی مبارک تاریخ کے لیے منگنی کے بعد پانچ سال تک انتظار کرنا پڑا۔ انتہائی شان و شوکت کے ساتھ یہ شادی سنہ 1607 میں ہونے والی منگنی کے بعد سنہ 1612 میں ہوئی۔ معین الآثار میں لکھا ہے کہ ’شادی کی تقریب اعتماد الدولہ مرزا غیاث کے گھر منعقد ہوئی اور اس سے متعلق تمام رسوم وہیں ادا کی گئیں۔ جہانگیر نے خود نوشہ (دلھا) کے عمامہ (پگڑی) پر موتیوں کا ہار باندھا اور مہر پانچ لاکھ قرار پایا۔ خرم کی عمر بیس سال ایک ماہ آٹھ روز اور بیگم کی عمر انیس سال ایک روز تھی۔‘ چندر پنت کے مطابق شہزادہ خرم نے ’انھیں اس وقت کی تمام خواتین میں شکل و صورت اور کردار میں منتخب قرار دیتے ہوئے ممتاز محل کا خطاب دیا۔‘

اُن کی منگنی اور شادی کے درمیانی برسوں کے دوران خرم نے سنہ 1610 میں اپنی پہلی بیوی، شہزادی قندھاری بیگم سے شادی کی اور ممتاز سے شادی کے بعد سنہ 1617 میں، تیسری بیوی، ایک مغل درباری کی بیٹی عزالنسا بیگم (اکبر آبادی محل) کو بنایا۔ درباری مؤرخین کے مطابق یہ دونوں شادیاں سیاسی اتحاد تھیں۔ ظفرنامہ شاہ جہاں کے مطابق ارجمند بانو بیگم نے اپنی ادب شناسی، مزاج دانی اور خدمت گزاری سے شہزادہ خرم کو موہ لیا اور زیادہ عزیز قرار پائیں۔ درباری تاریخ نگار معتمد خان کا ’اقبال نامہ جہانگیری‘ میں کہنا ہے کہ جو ’قربت، گہری محبت اور توجہ ممتاز محل کے لیے تھی، دوسری بیویوں کے لیے نہیں تھی۔‘ اسی طرح تاریخ نگار عنایت خان نے تبصرہ کیا کہ ’اُن کی ساری خوشی اس نامور خاتون (ممتازمحل) پر مرکوز تھی، اس حد تک کہ دوسری بیویوں کے لیے اس پیار کا ہزارواں حصہ بھی نہیں جو ان کے لیے تھا۔‘ ظفر نامہ شاہ جہاں میں لکھا ہے ’سنہ 1628 میں 36 برس کی عمر میں شہاب الدین محمد خرم شاہ جہاں کا لقب اختیار کرتے ہوئے تخت پر بیٹھے۔ آصف خان وزیر اعظم بنے۔ جشن منایا گیا۔ ایک کروڑ اسی لاکھ روپے نقد و جنس اور چار لاکھ بیگہ زمین اور ایک سو بیس موضع خیرات کیے اور انعام دیے۔‘ ایسی ہی محفل ممتاز محل نے آراستہ کی اور جواہر و طلا و نقرہ کے پھول شاہ جہاں کے سر پر سے نثار کیے۔

بادشاہ نے دو لاکھ اشرفیاں اور چند لاکھ روپے ممتاز محل کو دیے اور دس لاکھ روپے سالانہ مقرر ہوا۔ اور (دوسری) بیگم صاحبہ کو ایک لاکھ اشرفی اور چار لاکھ روپے بخشش ہوئے اور چھ لاکھ روپے سالانہ قرار پایا۔ مہر شاہی ممتاز محل کو سپرد ہوئی۔ بہت زیادہ آمدنی والی زمینیں اور جائیدادیں دی گئیں۔ جسونت لال مہتا نے لکھا ہے کہ شاہ جہاں نے ممتاز کو ’پادشاہ بیگم‘ (خاتون شہنشاہ)، ‘ملکہ جہاں‘ (دنیا کی ملکہ) اور ’ملکہ الزمانی‘ (زمانے کی ملکہ) اور ’ملکہ ہند‘ (ہندوستان کی ملکہ) کے خطابات دیے۔ شاہ جہاں نے انھیں وہ آسائشیں عطا کیں جو ان سے پہلے کسی اور ملکہ کو نہیں دی گئیں۔ انھیں ‘حضرت‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ کسی اور ملکہ کی رہائش گاہ خاص محل (آگرہ کے قلعے کا حصہ) کی طرح آراستہ نہیں تھی، جہاں ممتاز شاہ جہاں کے ساتھ رہتی تھیں۔ اسے خالص سونے اور قیمتی پتھروں سے سجایا گیا تھا اور اس کے اپنے ہی گلاب کے پانی کے چشمے تھے۔ وہ شاہ جہاں کی مستقل اور قابل اعتماد ساتھی، معتمد اور مشیر تھیں۔ پھر بھی انھوں نے اپنے لیے سیاسی اقتدار نہیں چاہا۔ ملکہ کے طور پر ممتاز محل کا دور، ان کی بے وقت موت کی وجہ سے، صرف تین سال تھا۔ ماثر الامرا کے مطابق ممتاز محل شاہ جہاں کی ملکی امور میں بھی مشیر تھیں مگر نور جہاں کی طرح نہ تھیں کہ بادشاہ کو اپنے طور طریقے سے معطل کر رکھا تھا۔ ممتاز محل نے اپنی پھوپھی کی بدولت بڑے بڑے مصائب اٹھائے مگر شاہ جہاں کو یہی مشورہ دیا کہ وہ اپنی سوتیلی ماں کی دلجوئی میں کمی نہ کریں۔ چنانچہ شاہ جہاں نے نور جہاں کی 38 لاکھ روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی اور عزت و حرمت میں فرق نہ آنے دیا۔ ممتاز محل اپنے اخلاق میں خاص شہرت رکھتی تھیں۔ روزانہ سیکڑوں بیوائیں اور ہزاروں مساکین اُن سے فیض پاتے۔

ممتاز محل فطری طور پر رحمدل تھیں۔ غربت کی وجہ سے جن لڑکیوں کی شادی نہیں ہو سکتی تھی، اپنے مصارف سے کروا دیتی تھیں۔ بہت سے مجرموں کی سزائیں معاف کروائیں۔ بہت سے معتوب ان کی سفارش سے منصب پر بحال ہوئے۔ شادی کے 19 سال میں، ان کے 14 بچے (آٹھ بیٹے اور چھ بیٹیاں) پیدا ہوئے۔ ان میں سے سات پیدائش کے وقت یا بہت چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے تھے۔ اکثر حمل کے باوجود، ممتاز محل نے شاہ جہاں کے ساتھ ان کی ابتدائی فوجی مہمات اور اس کے بعد ان کی اپنے والد کے خلاف بغاوت میں سفر کیا۔ اننت کمار نے ‘محبت کی یادگار یا زچگی موت کی علامت: تاج محل کے پیچھے کی کہانی‘ میں لکھا ہے کہ ممتاز محل کی وفات 17 جون 1631 کو برہان پور میں تقریباً 30 گھنٹے طویل درد زہ کے بعد اپنے 14ویں بچے کو جنم دیتے ہوئے زیادہ خون بہہ جانے سے ہوئی۔ تب ان کے شوہر دکن کی مہم لڑ رہے تھے۔ ان کی لاش کو عارضی طور پر برہان پور میں ایک باغ میں دفن کیا گیا۔ ممتاز محل کی موت پر شاہ جہاں کو شدید صدمہ ہوا۔ وائن بیگلی کا کہنا ہے کہ سوگ کے بعد جب شہنشاہ نمودار ہوئے تو ان کے بال سفید ہو چکے تھے، پیٹھ جھکی ہوئی تھی اور چہرہ بے رونق تھا۔ این میری شمل نے ’عظیم مغلوں کی سلطنت: تاریخ، فن اور ثقافت‘ میں لکھا کہ ممتاز محل کی سب سے بڑی بیٹی جہاں آرا بیگم نے باپ کو آہستہ آہستہ غم سے نکالا اور دربار میں والدہ کی جگہ سنبھالی۔ ممتاز محل کی ذاتی دولت ایک کروڑ روپے تھی۔ شاہ جہاں نے اس میں سے آدھی رقم اپنی بیٹی جہاں آرا بیگم اور باقی دوسرے بچوں میں تقسیم کر دی۔ دسمبر 1631 میں ان کی لاش ایک سنہری تابوت میں ان کے بیٹے شاہ شجاع، ملکہ کی خادمہ اعلیٰ، ذاتی معالج اور ان کے بیٹیوں جہاں آرا بیگم اور گوہر آرا بیگم کی استاد ستی النسا بیگم، اور معزز درباری وزیر خان لے کر آگرہ آئے۔ وہاں اسے دریائے جمنا کے کنارے ایک چھوٹی سی عمارت میں دفن کیا گیا۔ جنوری 1632 میں تدفین کی جگہ پر تاج محل کی تعمیر شروع ہوئی۔یہ ایک ایسا کام تھا جسے مکمل ہونے میں 22 سال لگنا تھے۔ انگریزی شاعر سر ایڈون آرنلڈ نے اس کی وضاحت کی ہے کہ ‘یہ فن تعمیر کا ایک ٹکڑا نہیں، جیسا کہ دوسری عمارتیں ہیں بلکہ ایک شہنشاہ کی محبت کا فخریہ جذبہ ہے جو زندہ پتھروں میں اُبھرتا ہے۔‘ جائلز ٹائلٹسن کے مطابق اس کی خوبصورتی کو ممتاز محل کی خوبصورتی کے استعارہ کے طور پر بھی لیا جاتا ہے اور اس تعلق کی وجہ سے بہت سے لوگ تاج محل کو ’نسائی یا فیمینن‘ کہتے ہیں۔ تاج محل کی تعمیر نے مغلیہ سلطنت کا خزانہ خشک کر دیا۔ شاہ جہاں تاج محل میں مصروف تھے کہ سنہ 1658 میں ان کے بیٹے اورنگزیب نے اپنے تین بھائیوں کو قتل کرتے ہوئے سلطنت کا انتظام ان سے چھین لیا اور سنہ 1666 میں ان کی وفات تک انھیں آگرہ کے قلعے میں بند رکھا۔ شاہ جہاں نے اپنی زندگی کے آخری دن کسی سے ملے بغیر مسمن برج سے تاج محل کو دیکھتے ہوئے گزارے۔ انتقال ہوا تو ممتاز محل کے پاس دفن کیا گیا۔ برطانوی مصنف روڈیارڈ کپلنگ پہلی بار تاج محل دیکھنے کے بارے میں یوں بتاتے ہیں ‘تاج نے سو نئی شکلیں اختیار کیں۔ ہر ایک کامل اور ہر ایک وضاحت سے باہر۔ یہ آئیوری گیٹ تھا جس کے ذریعے تمام اچھے خواب آتے ہیں۔‘ بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور بھی اسی طرح مسحور ہوئے تھے ’صرف اس ایک آنسو کے قطرے کو، اس تاج محل کو، وقت کے گال پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چمکنے دو۔ یہ شاہ جہاں کا اپنی محبوب ممتاز محل کے غم میں بہایا جانے والا آنسو ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.