کیا میں کنواری ہوں؟ صدیوں سے جڑے مفروضوں اور کہانیوں کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) صوفیا سمتھ گیلر لکھتی ہیں کہ” خواتین کے پردہ بکارت کو صدیوں سے ہی جانچ پڑتال اور الجھن کا سامنا رہا ہے۔ اس سے جڑے مفروضوں اور کہانیوں کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ ’کیا میں کنواری ہوں؟‘ یہ سوال ایک اجنبی نے انٹرنیٹ کے ذریعے سراس سے ای میل پر پوچھا۔ سراس کو یقین نہیں تھا کہ وہ کیا جواب دیں۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے ان کو وجائنا سیلفی (اپنی شرمگاہ کی تصویر) بھیجی تھی۔

ساراس ’لوو میٹرز‘ کے عربی فیس بُک پیج کی منتظم تھیں جس کے ذریعے سوشل میڈیا پر تعلقات اور سیکس کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ساراس نے بتایا کہ ’اس نے مجھے بتایا کہ اس کا کسی کے ساتھ تعلق تھا مگر اب اس کی منگنی ہو چکی ہے تو وہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وہ کنواری ہے۔‘ یہاں ساراس نے ایک وقفہ لیا اور منھ بنا کر کہا: ’مجھے اس لفظ (مفتوحہ) سے نفرت ہے، اس نے مجھ سے پوچھا کیا میں (مفتوحہ) ہوں؟ یعنی کیا میں کنواری نہیں ہوں۔‘ یہ اجنبی عورت دراصل سراس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا اس کا پردہ بکارت دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ وہ معاشرتی دباؤ ہے جو شادی کے وقت عورت کے کنوارے پن پر زور دیتا ہے جس کا ثبوت ایک شوہر کو سہاگ رات پر جنسی تعلق قائم کرنے کے نتیجے میں نکلنے والے خون کی شکل میں نظر آنا چاہیے۔ یہ عقیدہ، کہ پردہ بکارت کی مدد سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ ماضی میں کسی کے ساتھ جنسی تعلق میں رہے ہیں، کنوارپن کے سائنسی ٹیسٹ کی بھی بنیاد بنا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت اس طریقے (کنوار پن کے ٹیسٹ) کی سنہ 2018 میں مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی قرار دے چکا ہے۔ کنوار پن جانچنے کے ٹیسٹ مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں جس میں پردہ بکارت کے سائم کو ناپنے سے لے کر اس کی لچک کا اندازہ لگانا بھی شامل ہے۔ اسی طرح سہاگ رات پر بستر کی چادر پر خون کے دھبے نمایاں ہونا اور اس چادر کو دولہا اور دلہن کے خاندان کو دکھانا جیسی روایات بھی شامل ہیں۔ ان تمام خیالات کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے اور کنوار پن ایک معاشرتی مفروضہ ہے جس کی کوئی حیاتیاتی سچائی نہیں۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس بات کو مانتے ہیں کہ ایک عورت کی سیکس ہسٹری اس کے جسم سے معلوم کی جا سکتی ہے اور ہر عورت کا پہلی بار سیکس کرنے کی وجہ سے خون بہاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی بات درست یا حقیقت نہیں لیکن پھر بھی یہ عقائد دنیا بھر کی زبانوں، مذاہب اور معاشروں میں موجود ہیں۔

میں نے اپنی کتاب ’لوزنگ اٹ‘ میں اس مفروضے کا جواب دینے کی کوشش جس میں سراس جیسے لوگوں سے پوچھے جانے والے سوالات، ان عقائد کو جلا بخشنے والوں اور اس کی طاقت کے پیچھے سائنسی حقائق کی کمی کا احاطہ کیا گیا۔ مجھے اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے والا بہت سا سائنسی مواد ملا۔ لیکن ساتھ ہی میں نے ایک ایسی دنیا بھی دریافت کی جس میں چند معالج اس خیال کی حمایت کرتے نظر آئے، کئی قانون بنانے والوں نے اس کو درست سمجھا اور جہاں پردہ بکارت سے متعلق درست معلومات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ ہائمن یا پردہ بکارت ایک چھوٹی سے جھلی یا ٹشو ہے جو وجائنا یا شرمگاہ پر پائی جاتی ہے۔ عجیب سی بات ہے کہ ایک اتنی چھوٹی سی بظاہر بے مقصد چیز سے اتنی زیادہ غلط معلومات کو جوڑ دیا گیا ہے۔ کنوارپن بحالی کا آپریشن: ’مجھے لگا یہی ایک طریقہ ہے جس سے میں پہلے کی طرح ہو سکتی ہوں‘ سائنسی دنیا میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آخر پردہ بکارت کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ زمانہ قدیم میں انسان کے پانی سے نکل کر زمین پر آنے کے عمل کی باقیات ہے؟ یا پھر بچپن میں کسی قسم کے بیکٹیریا کو جسم کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے حفاظتی جھلی؟ کسی کو بھی اصل جواب معلوم نہیں۔ دیگر حیاتیاتی انواع میں اس ٹشو کا مقصد سامنے آیا ہے۔ سور میں یہ پردہ اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب وہ سیکس کرنے والے ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ یہ عمل مکمل کر لیتے ہیں یہ پردہ دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان میں ایسا کوئی عمل نہیں ہوتا۔ خواتین میں پردہ بکارت بہت حد تک مختلف انداز میں ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے بہت کم افراد نے ایسی تصاویر دیکھی ہوں گی جن میں دکھایا گیا ہو کہ پردہ بکارت کس طرح کا ہو سکتا ہے۔

کچھ لوگ یہ غلط گمان رکھتے ہیں کہ یہ پردہ مکمل طور پر وجائنا کو ڈھک دیتا ہے حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہوتا تو ماہواری ممکن نہیں ہوتی (چند خواتین میں یہ مسئلہ ضرور ہوتا ہے جن کو سرجری کی ضرورت پڑتی ہے، جسے ہائمینیکٹومی کہا جاتا ہے۔) زیادہ تر یہ کسی چھلے یا ہلال (چاند) کی شکل کا ہوتا ہے اور کسی میں بہت کمزور اور کسی میں بہت مضبوط ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت کم کو ہی یہ بات بتائی گئی ہو گی کہ یہ عمر کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے، یا یہ کہ بہت سے لوگوں میں یہ سرے سے ہوتا ہی نہیں، یا کسی کی بلوغت سے پہلے ہی ختم ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ مختلف قسم کی سرگرمیوں، جیسا کہ ورزش، کے دوران یہ ٹوٹ سکتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں یقینا سیکس بھی شامل ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے جائزہ لینے سے کسی کی سیکس ہسٹری جانی جا سکتی ہے۔ سنہ 2004 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے دوران 36 ایسی حاملہ خواتین سے بات کی گئی جو ابھی کم عمر تھیں۔ اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ میڈیکل سٹاف کو صرف دو ہی کیسز میں مکمل سیکس کا ثبوت ملا۔ سنہ 2004 میں ہی ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق 52 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کو سیکس کے بعد ہائمن ٹشو میں کوئی واضح تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ لہذا یہ خیال کہ سیکس کے بعد ہائمن باقی نہیں رہتا یا سیکس کے بغیر یہ موجود رہتا ہے، درست نہیں۔

کنوار پن کے ثبوت کے طور پر بستر کی چادر پر خون کی موجودگی کو جانچنا بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ ایسا عین ممکن ہے کہ کسی کا خون نکلے اگر سیکس کا عمل اچانک ہوا ہو، لیکن اس کی کئی اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ پہلی بار سیکس کے دوران خون نکلنا بھی ضروری نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ ہو۔ سیکس کے دوران خون نکلنے کی وجوہات میں بے چینی محسوس کرنا یا کوئی بیماری یا انفیکشن بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ جب ایک ماہر امراض نسواں نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا پہلی بار سیکس کے دوران ان کا خون نکلا، تو 63 فیصد نے نفی میں جواب دیا۔ ان تمام حقائق کے باوجود ایسے کئی ممالک ہیں جہاں کنوارپن کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور اسی لیے حقائق کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ سنہ 2011 میں ترکی کی ڈکلے یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ 72 فیصد طالبات اور 74 فیصد طالب علم یہ مانتے ہیں کہ ہائمن کنوارپن کی علامت ہے، 30 فیصد مردوں نے کہا کہ شادی کی رات خون کے دھبوں والی چادر خاندان کو دکھائی جانی چاہیے۔ خواتین کی مثبت سیکس صحت تک رسائی پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ معاملہ خواتین کے لیے اضطراب کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ مصر میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انٹرویو کا حصہ بننے والی زیادہ تر خواتین نے کہا کہ کنوارپن اور پردہ بکارت سے جڑے خیالات کی وجہ سے ان کو شادی سے پہلے بے چینی اور خوف محسوس ہوا، جب کہ بعد میں درد اور گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی ہی ایک تحقیق جو سنہ 2013 میں لبنان کی یونیورسٹی طالبات کے ساتھ ہوئی، میں 43 فیصد خواتین نے کہا کہ شادی کی رات خون نہ نکلنے کے ڈر سے انھوں نے شادی سے پہلے سیکس کے بارے میں نہیں سوچا۔ لبنان میں سنہ 2017 میں ہونے والی ایک تحقیق میں 416 خواتین کے انٹرویو کیے گئے جن میں سے 40 فیصد نے کہا کہ انھوں نے اسی ڈر سے صرف اورل یا اینل سیکس کیا تاکہ شادی کے لیے اپنے پردہ بکارت کو بچائیں۔

اس پردے سے جڑے مفروضے صرف خواتین کی صحت اور برابری کو ہی متاثر نہیں کرتے بلکہ انصاف تک رسائی کے راستے میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں ریپ کیسز میں کنوارپن کے ٹیسٹ کو ختم کیا ہے جو آج بھی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی اور جنوبی افریقہ کے کئی ممالک میں موجود ہے۔ دنیا بھر میں کئی معالج ہائمن کی سرجری کی آفر بھی کرتے ہیں جو ان کے لیے منافع بخش ہوتی ہے اور ایسی خواتین کے ڈر کا علاج جو شادی سے پہلے کے سیکس کو چھپانا چاہتی ہیں۔ جنوری 2022 میں برطانیہ میں اس آپریشن کو غیر قانونی قرار دینے کی کوشش کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس سے ایک سال پہلے میں نے لندن کے ایک سرجن کو کنوارپن کے ٹیسٹ سے متعلق ای میل کی۔ ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے مجھے بتایا کہ کنسلٹیشن اور ہائمن کی موجودگی کی میڈیکل تصدیق شدہ رپورٹ کے لیے 300 پاؤنڈ کی فیس ادا کرنی ہو گی۔ اور اگر میرا پردہ نہیں ہے تو پھر 5400 پاؤنڈ یعنی سات ہزار امریکی ڈالر میں میری سرجری ہو سکتی ہے جس کے بعد مجھے وہی تصدیق شدہ رپورٹ دی جائے گی۔ ایک ایسے وقت میں جب ہائمن سرجری کا قانون برطانوی پارلیمان میں منظوری کے مراحل طے کر رہا ہے، یہ واضح ہے کہ کئی سرجن اب بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ لندن کے ایک سرجن آن لائن اپنی خدمات اور ہائمن کو ٹھیک کرنے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کئی کلینکس کی ویب سائٹس پر غلط معلومات بھی موجود ہیں جیسا کہ ایک لبنانی ڈاکٹر نے لکھا کہ کنوارپن کی واپسی کے لیے ہائمنو پلاسٹی کی جاتی ہے یا ایک نیو یارک کے سرجن نے لکھا کہ ہائمن کو اصلی کنوارپن حالت میں لانے کے لیے ہائمنو پلاسٹی ہوتی ہے۔ پھر ہائمن سے جڑے مفروضوں کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس موضوع پر تحقیق کی جانب توجہ مبذول کروانا ایک آغاز ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایسے قوانین میں تبدیلی جو کنوارپن ٹیسٹ کی حمایت کرتے ہیں اور طبی شعبے کے ماہرین کو لوگوں کو بھٹکانے سے روکنا بھی ایک اہم قدم ہو گا۔

مسئلہ یہ ہے کی بہت سے خیالات صرف نسل در نسل منتقل ہی نہیں ہوئے بلکہ اُن کی حمایت میں ایسے اور خیالات بھی ہیں جو سائنس کو مانتے ہی نہیں۔ اگر آپ کنوارپن کے ثقافتی تصور پر یقین رکھتے ہیں اور جنسی عدم مساوات کے حامی ہیں تو پھر کوئی بہت بڑی معاشرتی تبدیلی ہی آپ کی سوچ بدل سکتی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان افسانوں کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہائمن کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ عربی اور چیک سمیت بہت سی زبانوں میں اسے سیدھا سیدھا ’کنوارپن کی جھلی‘ کا نام دیے جانے کے سبب یہ بھی ایک اچھی تجویز ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہائمن کا نام بدل دینا لوگوں کے شعور کی تبدیلی کا کام کر سکتا ہے۔ سنہ 2009 میں سویڈن ایسوسی ایشن برائے سیکس ایجوکیشن نے فیصلہ کیا کہ ورجینیٹی ممبرین کے لفظ ’موڈومشینا‘ کو بدل کر وجائنل کورونا یعنی ’سلڈ کرانس‘ کر دیا جائے۔ اس لفظ کو انھوں نے ہر جگہ استعمال کرنا شروع کر دیا، اخباروں، سویڈن کی سرکاری زبان کی منصوبہ بندی کرنے والی تنظیم اور ایسوسی ایشن کی مستقبل کی تمام اشاعتوں میں بھی اس لفظ کو استعمال کیا گیا۔ اس فیصلے کے تقریبا 10 سال بعد کیرن مائلز نامی محقق نے جانا کہ جن ماہرین صحت سے سوال کیا گیا ان میں سے 86 فیصد نے کلینکس اور کلاسوں میں وجائنل کورونا کافظ استعمال کیا۔ اگرچہ صرف 22 فیصد نوجوانوں نے یہ لفظ سُن رکھا تھا، اب بہت کم لوگ ہی ہائمن کو اس کے قدیم تصور سے جوڑتے تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اس نئے لفظ کو نہیں جانتے تھے، انھوں نے بھی پرانے لفظ کو ایک افسانہ قرار دیا۔ کئی نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں، جب کہ کچھ نے بتایا کہ یہ ایک پرانا تصور تھا جسے وہ بچپن میں یا اس وقت تک درست سمجھتے رہے جب تک کسی نے ان کو بتایا کہ یہ جھوٹ ہے۔زبان کی تبدیلی فوری نہیں ہوتی لیکن یہ ایک آغاز ضرور ہے۔ انگریزی بولنے والی دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کو بھی وجائنل کورونا کا لفظ استعمال کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہائمن کا لفظ قدیم زمانے کے یونانی دیوتا ہائمن سے لیا گیا ہے جسے شادی کا دیوتا مانا جاتا تھا۔ سویڈن کی کامیابی کا راز صرف یہی نہیں کہ انھوں نے ایک لفظ کو تبدیل کر دیا بلکہ انھوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ یہ لفظ کیوں بدلا جا رہا ہے اور وہ بھی نوجوانوں اور طبی ماہرین کو سمجھایا۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کی حکومتیں کنوارپن ٹیسٹ اور ہائمن آپریشن جیسے دقیانوسی رواج ختم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں تو یہ خیال بھی دانش مندانہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان پابندیوں کی وجوہات کو کلاس رومز اور لیکچر ہالز میں بیان کریں۔ ایسا کرنے سے ہم ایسے خطرناک افسانوں کو دوبارہ جنم لینے سے روکنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.