دنیا کی پہلی ایل ای ڈی جو چاؤلوں کے چھلکے سے تیار ہوئی

ہیروشیما(ویب ڈیسک) ایک دلچسپ کاوش میں جاپانی ماہرین نے پہلی مرتبہ چاول کی بھوسی سے روشنی خارج کرنے والی ایل ای ڈی بنائی ہے جو کم خرچ اور ماحول دوست اختراع ہے۔ پوری دنیا میں چاول کی صفائی کے دوران ہر سال دس کروڑ ٹن چاول کا چھلکا یا بھوسی پیدا ہوتی ہے۔

اب ہیروشیما یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس فالتو چھلکے کو بازیافت (ری سائیکل) کرکے دنیا کا پہلا سلیکون کوانٹم ڈوٹ (کیو ڈی) بنایا ہے اور اسی پر مشتمل ایل ای ڈی تیار کی ہے۔ اس طرح زرعی کچرے کو ارزاں اور جدید ترین روشن ڈائیوڈ میں بدلا جاسکتا ہے۔ اس کی تحقیق امریکی کیمیکل سوسائٹی کے جرنل اے سی ایس سسٹین ایبل کیمسٹری اینڈ انجینیئرنگ میں شائع ہوئی ہے۔ ’روایتی کوانٹم ڈوٹس میں عموماً کیڈمیئم، سیسہ اور دیگر زہریلی دھات استعمال ہوتی ہے۔ لیکن چاول کے چھلکے کی نئی ٹیکنالوجی سے یہ کام کم زہریلا اور ماحول دوست شکل اختیار کرجاتا ہے۔ مسام دار سلیکون (ایس آئی) 1950 کے عشرے میں سامنے آئے اور ان کے لیتھیئم آئن بیٹری، روشن مادوں اور طبی سینسر کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ قدرت کے کارخانے میں موجود ہیں اور خردبینی (کوانٹم جسامت) کی بنا پر انہیں سیمی کنڈکٹر کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماحولیات خدشات کے لحاظ کی وجہ سے سائنسداں ایک عرصے سے ماحول دوست کوانٹم ڈوٹس کی تلاش میں تھے۔ اب جاپانی ماہرین کے مطابق چاول کا چھلکا انتہائی خالص سلیکا (SiO2) اور سفوف فراہم کرسکتا ہے جن کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ ماہرین نے اس چھلکے کو پہلے ملنگ یعنی پیسنے اور بارک کرنے کے عمل سے گزارا گیا اور اس میں بعض نامیاتی اجزا کو جلاکر الگ کیا گیا بچی ہوئی شے کو برقی بھٹی میں گرم کیا گیا اور یوں سلیکا پاؤڈر سامنے آیا۔ تیسرے مرحلے میں پیچیدہ کیمیائی عمل سے اسے مزید خالص کرکے تین نینومیٹر کے ذرات میں تبدیل کیا گیا۔ اب مستحکم اور کیمیائی طور پر بہترین ذرات سامنے آئے جو سلیکن کوانٹم ڈوٹس میں ڈھل گئے۔ اس موقع پر وہ نارنجی مائل سرخ رنگت خارج کرنے لگے جس کی افادیت (ایفی شنسی) 20 فیصد تک تھی۔ اس طرح دنیا کی پہلی چاول چھلکا ایل ای ڈی تیار ہوگئی جس میں کسی قسم کے مضر اجزا شامل نہ تھے۔ یہ ایک شاندار طریقہ ہے جس سے ماحول دوست ایل ای ڈی کی تشکیل ممکن ہوئی جو سیلکون کوانٹم ڈوٹس پر مشتمل تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.