بہت سے لوگ اس بات سے لاعلم!!! موبائل فون تین ماہ میں ایجاد کرنا کیوں ضروری ہو گیا تھا ؟ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) حالیہ برسوں میں منظر عام پر آنے والی کچھ ایجادات نے ہماری دنیا کو اتنا ہی بدل دیا ہے جتنا کہ موبائل یا سیل فون نے، خاص طور پر کرہ ارض پر موجود ان چار ارب 78 کروڑ لوگوں کی دنیا کو جن کے ہاتھوں میں آج موبائل فون ہیں۔ صارفین کی اتنی بڑی تعداد اس لحاظ سے بہت حیرت انگیز ہے کہ موبائل فون کو دنیا میں پہلی مرتبہ استعمال ہوئے نصف صدی سے بھی کم عرصہ گزرا ہے۔

موبائل پر پہلی کال سنہ 1973 میں نیویارک میں انجینیئر مارٹن کُوپر نے کی تھی، جنھیں ’موبائل فون کا باپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بی بی سی بات گفتگو کرتے ہوئے مارٹن کوپر یاد کرتے ہیں کہ کہ ’لوگوں کو لگا کہ یہ واقعہ کوئی سائنسی افسانہ ہے، کوئی فرضی کہانی، کیونکہ اس سے پہلے ہم ایک سو برس سے ایک تار کے ذریعے گھر یا دفتر کے فون سے بندھے ہوئے تھے۔ لیکن ہماری سوچ یہ تھی کہ انسان بنیادی طور ایک چلنے پھرنے والی مخلوق ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ وہ جہاں بھی ہوں، ایک دوسرے سے جُڑے رہیں۔ چنانچہ ہمیں ایک ایسا ہی آلہ (یا ڈیوائس) بنانا تھی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اور ہمیں یہ آلہ تین ماہ کے اندر اندر بنانا تھا۔‘ ایک بہت بڑی تبدیلی: کہا جاتا ہے کہ مارٹن کوپر نے جو آلہ استعمال کیا تھا وہ ایک چھوٹی ہینڈ ہیلڈ ڈیوائس تھی جسے ’کمیونیکیٹر‘ کہا جاتا تھا۔ یہ دیکھنے میں ویسا ہی آلہ تھا جیسا سنہ 1960 کی دہائی کے سائنس فکشن شو ’سٹار ٹریک‘ کے کردار استعمال کرتے تھے۔ تاہم مارٹن کوپر کہتے ہیں کہ حقیقت میں جس چیز نے انھیں سب سے پہلے اس امکان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا تھا وہ کلائی والا ریڈیو تھا جسے ایک مزاحیہ امریکی کارٹون سیریز میں سراغ رساں ڈک ٹریسی استعمال کرتے تھے۔ موبائل فون کی تاریخ: سنہ 1931 کی ایک مشہور سیریز کے مرکزی کردار، انسپیکٹر ڈِک ٹریسی کے ہاتھ میں موبائل فون جیسے عجیب و غریب آلات ہوا کرتے تھے . ’موبائل فون سے پہلے، جب آپ فون کرتے تھے تو آپ کسی مقام پر فون کرتے تھے، لیکن اب جب آپ موبائل فون سے کال کرتے ہیں تو آپ کسی شخص سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔‘

اپریل 1973 میں کُوپر اور ان کے ساتھیوں نے نیویارک کے ہِلٹن ہوٹل میں جس آلے کی نقاب کشائی کی تھی وہ شکل میں اس باریک سی ڈیوائس سے بہت مختلف تھا جو سٹار ٹریک کے کردار استعمال کرتے تھے اور نہ ہی یہ آلہ ڈِک ٹریسی کی گھڑی جیسا تھا اور نہ ہی اس موبائل جیسا تھا جس کی سکرین پر آپ اس وقت یہ مضمون پڑھ رہے ہیں۔ ’یہ ڈیوائس تقریباّ دو انچ چوڑی اور 4 انچ لمبا تھا اور اس کا وزن 500 گرام (آدھا کلو) کے قریب تھا، اور آپ اس پر صرف 20 منٹ بات کر سکتے تھے جس کے بعد اس کی بیٹری ختم ہو جاتی تھی۔ لوگ اس آلے کو دیکھ کر ہنس رہے تھے، لیکن یہ اس وقت کے لیے بہترین ڈیوائس تھی۔‘پہلی مرتبہ: مارٹی کوپر اس وقت امریکی کمپنی ’موٹورولا‘ میں کام کرتے تھے، جو اس وقت امریکہ کی مواصلات کی مارکیٹ میں ایک چھوٹا نام تھا۔ ’ہم کہا کرتے تھے کہ ایک دن آئے گا جب جو بھی انسان پیدا ہو گا، اسے ایک فون نمبر دے دیا جائے گا اور مرتے دم تک وہ نمبر اسی شخص کے پاس رہے گا۔ ہم جانتے تھے کہ مستقبل میں ہر ایک شخص کے پاس ٹیلیفون ہوا کرے گا۔‘ ’لیکن جس چیز کا اندازہ ہمیں نہیں تھا، وہ یہ تھی کہ مستقبل کے فون میں ایک سُپر کمیوٹر لگا ہو گا، اس میں ڈیجیٹل کیمرا ہو گا، اور انٹرنیٹ بھی ہو گا، (کیونکہ) سنہ 1973 میں ان میں سے کسی چیز کا بھی وجود نہیں تھا۔‘موبائل فون ایجاد کرنے کی دوڑ میں وقت کم اور مقابلہ سخت تھا یہ 3 جون سنہ 1973 کا دن تھا جب کُوپر نے نیویارک کی مشہور سڑک سِکستھ ایوینیو پر چلتے ہوئے پہلی کال کی تھی۔’ہم اس وقت سڑک پر چل رہے تھے اور ایک ریڈیو سٹیشن کے رپورٹر سے بات کر رہے تھے، میں نے بالکل نہیں سوچا تھا کہ میں (پہلی کال) کسے کروں گا۔ چنانچہ میں نے امیرکن ٹیلیفون اینڈ ٹیلیگراف کے محکمے میں اپنے ایک ہم منصب، جوئل اینجل کا نمبر ملا لیا۔‘ یاد رہے کہ اس وقت اے ٹی اینڈ ٹی نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں مواصلات کی دنیا کا ایک بڑا نام تھا۔ اس بڑی کمپنی کے مقابلے میں موٹورولا کا بجٹ بہت کم تھا۔

تو کُوپر نے اپنی پہلی کال میں اینجل سے کیا کہا تھا؟ ’ہوا ہوں کہ میں نے اس کا نمبر ملایا اور یہ بھی ایک معجزہ تھا کہ اس نے فون اٹھا لیا۔ چنانچہ میں نے اسے سلام دعا کے بعد کہا ‘میں مارٹی کُوپر بول رہا ہوں اور میں تمہیں ایک سیلولر (موبائل) فون سے کال کر رہا ہوں۔ ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایسے آلے سے جسے آپ جہاں چاہیں لے جا سکتے ہیں، اور یہ میرا ذاتی فون ہے۔‘ بظاہر ایک جیسا لیکن ایک جیسا نہیں: ان دنوں اے ٹی اینڈ ٹی جیسی بڑی کمپنی بھی یہی سوچ رہی تھی کہ مستقبل کا فون کیسا ہونا چاہیے۔ انھوں نے ایک انقلابی ٹیکنالوجی، یعنی سیلولر ٹیکنالوجی بنا لی تھی جس میں ٹیلیفون کالز کو مخلف سیلز کے ایک جال سے گزارا جاتا ہے اور اس ٹیکنالوجی میں ریڈیو والی فریکوئنسی استعمال کی جاتی ہے۔اس وقت تک ضروری تھا کہ آپ کا فون ایک تار کے ذریعے آپ کے گھر یا دفتر سے جُڑا ہو۔ لیکن سیلولر ٹیکنالوجی سے یہ ممکن ہو گا کہ آپ چلتے پھرتے فون کر سکتے تھے۔ لیکن اے ٹی اینڈ ٹی کا خیال یہ تھا کہ وہ نئے فونز کو کاروں میں نصب کریں گے، کیونکہ ان کے خیال میں مستقبل میں اسی قسم کے فون بہترین ثابت ہوں گے۔ اُن کے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ مستقبل میں لوگ اپنے ہاتھ میں فون اٹھائے پھریں گے۔ اے ٹی اینڈ ٹی کے خیال میں مستقبل کے جدید ترین فون وہ ہوں گے جو کار میں لگے ہوں گے لیکن یہ موٹورولا میں کام کرنے والے نوجوان ہی تھے جنھوں نے ثابت کر دیا کہ اے ٹی اینڈ ٹی کی سوچ غلط ہے۔ کُوپر کہتے ہیں کہ اے ٹی اینڈ ٹی سے منسلک ان کے دوست اینجل کا خیال یہ تھا کہ فون کی تار کو لمبا کر کے کار کے ساتھ جوڑنا چاہیے، لیکن ہمیں لگا کہ یہ تو فضول سی بات ہے کہ فون کمپنیاں ہمیں کاروں سے باندھ دیں۔‘ کوپر اور ان کی ٹیم کو معلوم تھا کہ اے ٹی اینڈ ٹی والے وفاقی مواصلاتی کمیشن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل کے موبائل فون کے لیے ریڈیو فریکوئنسی کے جملہ حقوق انھیں دے دے تاکہ وہ لاکھوں صارفین ان سے جڑے رہیں جنھوں نے اس وقت تک اپنی اپنی گاڑیوں میں سیلولر ٹیکنالوجی والے فون لگوا لیے تھے۔ لیکن موٹورولا کو معلوم تھا کہ اگر تمام حقوق اے ٹی اینڈ ٹی کو مل گئے تو موٹورولا کے لیے مستقبل میں امریکہ میں کوئی نیٹ ورک استعمال کرنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ کُوپر کہتے ہیں کہ اس وقت ’اے ٹی اینڈ ٹی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی تھی۔ انھوں نے محکمۂ مواصلات کے ہر کمشنر کے ساتھ اپنے دو دو آدمی لگا رہے تھے تاکہ کمشنر تمام حقوق ان کے لیے مختص کروا دیں۔‘

سنہ 2009 میں سپین کے شہزادے نے مسٹر کُوپر کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بڑے اعزاز سے نوازا تھا کُوپر کو معلوم ہو گیا کہ محکمۂ مواصلات کے افسران کو قائل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ موٹورولا کے ہاتھ کوئی زبردست چیز آ جائے۔ موٹورولا کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ افسران کو دکھائیں کہ مستقبل میں مواصلات کی دنیا کیسی ہو گی۔ یعنی کمپنی کے لیے ایک موبائل فون بنانا ضروری ہو چکا تھا۔ ’ہمارے ہاں 20 افراد ایسے تھے جو صرف کوئی نیا فون تخلیق کرنے کی دھن میں مگن تھے، یہ لوگ دن رات کام کر رہے تھے۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ فون بنانے کے ساتھ ساتھ ہمیں ریڈیو سٹیشن بھی بنانا تھے اور اس کے ساتھ سیلز بھی۔ چانچہ بیس، تیس افراد اس کام پر بھی لگے ہوئے، جبکہ باقی لوگ نیویارک میں نمائشی تقریب کی تیاریاں کر رہے تھِے۔ ان تمام لوگوں کے پاس صرف تین ماہ تھے۔ موٹورولا کی انتظامیہ ان لوگوں کو بہت پیسہ دے رہی تھی، لیکن یہ کام ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔‘ جب کوُپر بہت بڑی نمائشی تقریب میں پہنچے تو ان کے پاس موبائل فون کے دو نمونے تھے۔ انھیں خدشہ تھا کہ اگر ایک کام نہ کرتا تو دوسرا سیٹ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس تقریب میں زیادہ صحافی نہیں آئے، شاید صرف پندرہ، بیس تھے۔ پہلے پہل موبائل اتنے مہنگے تھے کہ لوگ انھیں امرا کے کھلونے کہا کرتے تھے ‘صاف لگ رہا تھا کہ ان لوگوں نے ہماری بات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ لیکن ایک دفعہ جب ہم نے نئے فون کو چلا کر دکھایا تو لوگ اس کی باتیں کرنے لگے، ایک ایسا فون جس کے ذریعے آپ دنیا کے ہر کونے میں بات کر سکتے ہیں۔‘ ’وہاں ایک آسٹریلوی خاتون صحافی بھی موجود تھی، اس نے پوچھا کہ آیا وہ ہمارے فون سے اپنی ماں سے باتی کر سکتی ہے۔ ہم نے کہا آپ بالکل کر سکتی ہیں، دل ہی دل میں ہم دعائیں کر رہے تھے کہ کوئی گربڑ نہ ہو جائے، لیکن صحافی کی اپنی والدہ سے بات ہو گئی، اور وہ بہت خوش ہوئی۔‘تاہم، اس کے بعد بھی اس منصوبے پر کئی برس لگے جن میں صدر رونلڈ ریگن نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ لے لیا اور نگران وفاقی ادارے نے موٹورولا کو یہ ضمانت دے دی کہ کمپنی کو جو بھی ریڈیو نیٹ ورک چاہیے وہ استعمال کر سکتی ہے۔ اور آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب سنہ 1983 میں موٹورولا اپنا پہلا موبائل مارکیٹ میں لے آئی۔ ’اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اس قسم کا فون کبھی بھی خرید نہیں سکیں گے۔ اس کی قیمت چار ہزار ڈالر سے زیادہ تھی اور سروس خوفناک مہنگی۔ اسی لیے شروع شروع میں موبائل فون محض ایک امیروں کا کھلونا تھا۔‘

ایک شحض جو ہمیشہ خواب دیکھتا رہتا ہے:موٹورولا نے شروع شروع میں جو موبائل فون متعارف کرائے ان میں سب سے زیادہ مقبول وہ ہوا جسے لوگوں نے ’شوفون‘ یا جوتے جیسے فون کا لقب دیا۔ کوپر بتاتے ہیں کہ اس ماڈل کو ’میں نے ڈائنا ٹیک کا نام دیا، جو اصل میں ’ڈائنینمِک اڈاپٹِو ٹوٹل ایریا کووریج‘ کا مخفف ہے۔ اس ماڈل کی ایجاد کے برسوں بعد سنہ 2007 میں ایک تقریب میں موٹورولا کے چیئرمین نے مذاقاّ ڈائنا ٹیک 8000 سے فون کرنا شروع کر دیا تھا ’ڈائنا ٹیک کے اندر جو چیز پوشیدہ تھی، وہ میرا یہ خواب تھا کہ دنیا کا بہترین موبائل فون کیسا ہونا چاہیے۔ ایک ایسا فون جسے آپ جہاں چاہیں استعمال کر سکیں، جو آب و ہوا سے متاثر نہ ہو، اور اس سے آپ کسی شخص سے یوں بات کر سکیں جیسے آپ دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔‘ ’ہم نے ابھی تک یہ سب تمام چیزیں حاصل نہیں کی ہیں، لیکن ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خواب دیکھنے والے شخص کا کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے۔‘ مارٹن کُوپر کہتے ہیں کہ ان کی اس تخلیق سے ہماری زندگی میں جو تبدیلیاں آئیں ہیں، اس کا اندازہ انھیں کچھ برسوں بعد تب ہوا ’جب ہمارے مقابلے میں موبائل فون کے کچھ دوسرے ماڈل بازار میں آ گئے، جب خریداروں کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہو گئیں، اور جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں موبائل فونز کی تعداد گھروں اور دفتروں میں لگے ہوئے فون سے زیادہ ہو چکی ہے۔‘ ’یہ وہ وقت تھا جب ہمیں معلوم ہو گیا کہ ہم ٹھیک سوچ رہے تھے۔‘ کُوپر سے پوچھیں کہ اپنی ایجاد سے انھوں نے کیا کمایا تو ان کا جواب ہوتا ہے ’جہاں تک اطمینان کی بات ہے، میں نے بہت کمایا ہے، اور اگر پیسے کی بات کریں تو اتنا زیادہ نہیں کمایا۔‘ ’جب میں نے موٹورولا میں کام کرنا سروع کیا تو میں نے ایک دستاویز پر دستخط کر دیے تھے جس پر لکھا تھا کہ میں جو چیز بھی تخلیق کروں گا، وہ کمپنی کی ملکیت ہو گی۔ انھوں نے مجھے دس لاکھ ڈالر دیے۔‘ ’یہ ایک بہت اچھا معاہدہ تھا، موٹورولا نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا اور باقی دنیا بھی مجھ پر ہمیشہ مہربان رہی ہے۔‘ آج جب لگتا ہے کہ موبائل فون سے آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں، پھر بھی کچھ بنیادی چیزوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ موبائل فون کے جد امجد کہتے ہیں کہ ’انڈسٹری کا زور اس بات پر رہا ہے کہ وہ اس انوکھی چیز کو زیادہ سے زیادہ فروخت کریں، لیکن ابھی تک موبائل فون کا نیٹ ورک مضبوط نہیں ہوا ہے۔ جب آپ کال نہیں کر سکتے، فون کو کنیکٹ نہیں کر سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سسٹم کی صلاحیت کم پڑ گئی ہے۔‘

’نیٹ ورک کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی موجود ہے، یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ آپ اس ٹیکنالوجی سے پیسے بھی پچا سکتے ہیں، لیکن ابھی تک زور اس بات پر ہے کہ موبائل فونز میں کیا انوکھا پن پیدا کیا جا سکتا ہے۔‘مارٹی کُوپر اب نوًے کے پیٹے میں ہیں اور آج کل ریاست کیلیفورنیا میں رہتے ہیں۔ وہ آج بھی کام کر رہے ہیں اور نت نئے آلات ایجاد کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ ایک ایسا فون بنائیں جو اتنا چھوٹا ہو کہ آپ اسے کلپ کے ساتھ اپنے کان سے لگا لیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک ایسا فون بھی بنانا چاہتے ہیں جو آپ کا طبی معائنہ بھی کر سکے ’تاکہ ہم کوئی بیماری لگنے سے پہلے جان سکیں کہ ہمارے جسم میں کیا چیز معمول کے خلاف ہو رہی ہے، جو آگے چل کر بڑی بیماری بن سکتی ہے۔‘ ’میں آپ کو اس کی ایک مثال دوں گا۔ مغربی ممالک میں اموات کا ایک بڑا سبب دل کا دورہ ہے۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ وقت سے پہلے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو دورہ پڑنے والا ہے، کیونکہ دل کے دورے سے پہلے آپ کے پھیپھڑوں میں مائع جمع ہونے لگتا ہے۔‘ ’بازار سے آپ ایک ایسا پیچ (پٹی) خرید سکتے ہیں جو آپ اپنی چھاتی پر لگا دیتے ہیں اور وہ بتاتا ہے کہ آپ کے پھیپھڑوں میں پانی کی مقدار کتنی ہے۔ آپ اس مانیٹر کو اپنے موبائل فون سے جوڑ سکتے ہیں۔ یوں آپ کو دل کا دورہ پڑنے سے چھ گھنٹے پہلے پتہ چل سکتا ہے اور آپ گولی کھا کے خود کو بچا سکتے ہیں۔‘ ہمیں ایک بہتر دنیا کا تصور دیتے ہوئے کُوپر نے کہا کہ ’اس چیز کا دائرہ کار آپ بہت سی دوسری بیماریوں تک پھیلا سکتے ہیں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.