شائد بہت سے لوگ لاعلم ہوں!!! پاکستان کی سیاست کے مقبول بھٹو قبیلے کی تاریخ کیا ہے؟ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) زین علی لکھتے ہیں کہ” حال ہی میں پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی نے جہاں پنجاب کی مسلم لیگ نواز کو ایک مرتبہ پھر اقتدار میں لا بٹھایا ہے وہیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس نئی حکومت کا حصہ بنے ہیں۔بلاول سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔

یوں تو بلاول کے پڑ نانا شاہ نواز بھٹو بھی برصغیر کے نامی گرامی سیاستدانوں میں سے ایک تھے، لیکن بھٹو قبیلے کو زیادہ شہرت ذوالفقار علی بھٹو کے ایوب کابینہ کا حصہ بننے کے بعد ملی، اور تقریباً دو دہائیوں کے سیاسی کیریئر کے دوران وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھٹو قبیلے کی شناخت بنے رہے۔ بعد میں یہ اعزاز ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو حاصل ہوا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے سیاست میں آنے سے پہلے بھی بھٹو قبیلے کی خطے میں ایک الگ شناخت اور حیثیت تھی۔ تاریخی اعتبار سے بھٹو قبیلہ سیاست اور زراعت کے شعبے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کی بنیاد انڈیا کے علاقے راجستھان سے ہے تاہم برصغیر کی تقسیم کے بعد سے قبیلے کی اکثریت پاکستان میں آباد ہے۔ امیر بخش بھٹو، جو اپنے والد ممتاز بھٹو کے انتقال کے بعد حال ہی میں قبیلے کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں، بتاتے ہیں کہ عام تاثر کے برعکس بھٹو قبیلہ شروع میں زمیندار نہیں تھا بلکہ اس کا گزر بسر مویشی بانی پر تھا۔ ہمارا اصل تعلق انڈیا کے علاقے راجستھان سے تھا۔ ہم کیٹل فارمرز تھے۔ ہمارے آباؤ اجداد زمینداری نہیں کرتے تھے بلکہ کیٹل فارمنگ کرتے تھے۔ آج سے تقریباً کوئی پانچ سو سال پہلے ہمارے بڑے مٹھو خان اور ساتھوں خان لاڑکانہ آ کر آباد ہوئے۔ ہمارے بڑے دودا خان نے اٹھارویں صدی میں مال مویشی بیچ کر زمینداری کا آغاز کیا۔‘ امیر بخش بھٹو کے مطابق بھٹو خاندان کے جد دودا خان بھٹو تھے اور اس وقت موجود قبیلے کی تمام شاخیں انہی سے منسلک ہیں۔ بھٹو خاندان کی تقسیم امیر بخش بھٹو نے اردو نیوز کو بتایا کہ دودا خان بھٹو کے تین بیٹے تھے۔ خدا بخش خان بھٹو، رسول بخش بھٹو اور الٰہی بخش بھٹو۔ ان تین بیٹوں کے نام سے سندھ میں تین علاقے آباد ہوئے۔ پہلے بیٹے خدا بخش بھٹو جو گڑھی خدا بخش میں رہے۔ اس علاقے کا نام بھی انہیں کے نام سے رکھا گیا۔ دوسرے بیٹے رسول بخش خان بھٹو جو نوڈیرو میں قیام پذیر ہوئے، جبکہ تیسرے بیٹے الٰہی خان بخش بھٹو تھے جو میرپور بھٹو میں آباد ہوئے۔ یہاں سے بھٹو خاندان کی تین شاخیں بنیں۔ قبیلے کی سرداری تیسرے بیٹے الٰہی بخش بھٹو کے حصے میں آئی۔

بھٹو خاندان سیاست میں کب آیا؟ امیر بخش بھٹو کے مطابق ’میر پور بھٹو سے بھٹو خاندان نے سیاست میں حصہ لیا اور میرے دادا کے بڑے بھائی واحد بخش خان بھٹو انڈیا کی 1927 کی آئین ساز اسمبلی میں منتخب ہوئے۔ اس وقت پورا سندھ ایک ہی حلقہ تھا۔‘’اس وقت جو پورے سندھ میں سب سے زیادہ ووٹ لیتے اور دوسرے نمبر پر ووٹ لیتے، وہ اسمبلی میں جاتے تھے۔ 1927 میں جو الیکشن ہوئے اس میں دادا کے بڑے بھائی واحد بخش خان بھٹو نے سب سے زیادہ ووٹ لیے، جبکہ سر عبداللہ ہارون دوسرے نمبر پر رہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’واحد بخش خان بھٹو کا جب انتقال ہوا تو 1935 میں اگلے الیکشن میں میرے دادا نے الیکشن لڑا اور نتیجہ وہی رہا۔ انہوں نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور سر عبداللہ ہارون دوبارہ دوسرے نمبر پر رہے۔ پاکستان بننے کے بعد قبیلے کے ایک اور معروف سیاستدان شاہ نواز بھٹو کے فرزند شہید ذوالفقار علی بھٹو سیاست میں آئے۔ جس کے بعد پھر ان کی بیٹی بے نظیر اور پھر ان کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری۔‘پاکستان میں کتنے بھٹو ہیں؟ بھٹو قبیلے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 8 سے 10 لاکھ بھٹو موجود ہیں۔ ’کچھ ماہ پہلے میری دستار بندی ہوئی تھی۔ اس میں ہم نے سارے پاکستان سے بھٹوز کو دعوت دی تھی۔ ہم نے تو چار سے پانچ ہزار دعوت نامے بھیجے تھے، لیکن پندرہ سے بیس ہزار لوگ آگئے تھے۔ ہمارا قبیلہ بہت ہی خوشحال، پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا ہے۔ بہت طاقتور بھی ہے۔‘ بھٹو قبیلے کا سردار کیسے متخب ہوتا ہے؟ امیر بخش بھٹو نے بتایا کہ اصل میں بھٹو قبیلے کی سرداری پیر بخش خان کی نسل میں تھی۔ ’بعد میں بھٹو قبیلے کے بزرگ میرے والد کے پاس آئے اور ان سے قبیلے کی سربراہی کی درخواست کی۔ ابتدائی طور پر میرے والد نے انکار کیا، لیکن جب زیادہ اصرار کیا گیا تو انہوں نے سردار بننے پر رضامندی ظاہر کر دی۔‘ امیر بخش بھٹو نے کہا کہ ان کے والد ممتاز بھٹو نے قبیلے کے سربراہ کے طور پر ایک مضبوط کردار ادا کیا اور ان کے لیے ان کے نقش قدم پر چلنا کوئی آسان بات نہیں۔ ’میں خوش قسمت ہوں کہ بھٹو قبیلے کی حمایت میرے ساتھ ہے۔ بھٹو قبیلے نے متحد ہوکر مجھ پر یہ ذمہ داری رکھی ہے۔ میری دستار بندی میں تقریباً سارا قبیلہ موجود تھا۔ سارے قبیلے کی متحدہ ذمہ داری مجھ پر آئی ہے۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں قبیلے کی بھرپور نمائندگی کروں۔ اور لوگوں کی ان کے خواہشات کے مطابق رہنمائی کروں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.