صدر مملکت عارف علوی اور گورنر پنجاب عمر سرفرازچیمہ کی مسلسل آئین شکنیاں ۔۔۔۔آئین اس حوالے سے کیا کہتا ہے ؟ حقائق ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سعید آسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں ہی نہیں‘ ملک کا ہر صاحب الرائے اور ہوش و خرد رکھنے والا ہر فرد حیران و ششدر ہے کہ سابق حکمران پی ٹی آئی کی قیادت چھینا جھپٹی اور مغلطات والے جس بدتمیزی کلچر کو دانستہ طور پر کسی اور طے شدہ ایجنڈے

کے تحت پروان چڑھا رہی ہے اور جس طرح آئین و قانون کی عملداری کو اپنی انا کی ٹھوکریں ماری جارہی ہیں‘ اس سے آگے چل کر ہمارے معاشرے میں شرف انسانیت کی کوئی رمق باقی رہ بھی پائے گی یا نہیں اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بول بالا کا کوئی تصور پختہ ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی قیادت کو اور اسکے اشارے پر ملک کے سرزمین بے آئین ہونے کا نقشہ بنانے والے صدر مملکت اور گورنر پنجاب کو من مانیوں سے کیسے روکا جائے‘ سوال یہ ہے کہ آئین و قانون سے روگردانی والی ان من مانیوں کے ہمارے ملک و معاشرہ پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں آئین و قانون‘ ریاست اور ریاستی اداروں کے احترام کا کوئی تصور راسخ بھی ہو پائے گا یا نہیں؟ اس تناظر میں پی ٹی آئی قیادت اور اسکے جملہ مصاحبین کی پیدا کی جانیوالی اتھل پتھل کی موجودہ صورتحال ہمارے مستقبل اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے انتہائی سنگین ہو رہی ہے جس کا بہرحال کوئی نتیجہ نکالنا اور اسے منطقی انجام تک پہنچانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے ورنہ پھیلتے‘ پروان چڑھتے بدتمیزی کلچر میں کسی کا کچھ بھی محفوظ نہیں رہے گا اور یہ انسانی معاشرہ عزوشرف والے تصور سے بھی کہیں اور نکل جائیگا۔ پی ٹی آئی کی آئینی جمہوری طریقے سے اقتدار سے محرومی کے بعد اس وقت بھی اسکے پاس دو اہم ترین وفاقی مناصب موجود ہیں۔

ایک صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی جنہیں پی ٹی آئی کے دور حکومت کے آغاز ہی میں مروجہ آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر مملکت کے منصب پر منتخب کیا گیا اور دوسرے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ہیں جنہیں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے چودھری محمد سرور کو گورنر کے منصب سے مستعفی کراکے صدر کے دستخطوں کے ساتھ گورنر پنجاب کے منصب پر فائز کیا۔ گورنر کا منصب بھی صوبے میں وفاق کے نمائندے والا ہوتا ہے جنہوں نے وفاق کی جانب سے موصولہ ہدایات کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں اور یہ ذمہ داریاں سراسر آئین کے دائرے میں رہ کر سرانجام دی جاتی ہیں۔ یہ دونوں مناصب کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں اس لئے آئین میں صراحت کے ساتھ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ صدر اور گورنر وفاق کے نمائندے کے طور پر آئین میں متعینہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرینگے‘ چنانچہ ان مناصب پر موجود کوئی شخص کسی پارٹی کا رکن یا رکن اسمبلی و سینٹ نہیں ہو سکتا۔ چودھری محمد سرور سینیٹر کے منصب پر منتخب ہوئے تھے اور جب انہیں گورنر کے منصب کیلئے نامزد کیا گیا تو سب سے پہلے انہیں سینٹ کی رکنیت قربان کرنا پڑی۔ اسی طرح ڈاکٹر عارف علوی صدر مملکت کے منصب پر نامزد ہونے سے پہلے رکن قومی اسمبلی تھے جنہیں صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے اپنی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنا پڑی جبکہ ان مناصب پر فائز ہونے کیلئے پارٹی کی رکنیت بھی چھوڑنا پڑتی ہے۔ مگر اس وقت صدر اور گورنر پنجاب دونوں اپنے آئینی مناصب کی بھد اڑاتے

ہوئے پی ٹی آئی قائد عمران خان کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جس کا مقصد ملک میں بدامنی‘ انارکی‘ لاقانونیت کو فروغ دینا اور خود کو آئین و عدالت سے بالاتر بنانا ہے۔ یہ ایجنڈا تعمیری کے بجائے تخریبی ایجنڈا ہے جسے صدر علوی اور گورنر عمر سرفراز اپنے آئینی مناصب کے بل بوتے پر آگے بڑھا رہے ہیں اور ہر صورت تعمیل کی متقاضی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ایڈوائس کو رعونت کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینک رہے ہیں۔ عمر سرفراز چیمہ کی تو آئین کے تقاضے کے مطابق گورنر شپ آج بروز منگل ختم ہو جائیگی کیونکہ وزیراعظم کی جانب سے کوئی ایڈوائس صدر مملکت کو موصول ہو جس پر صدر کو تحفظات ہوں تو وہ دس دن کے اندر اندر وہ ایڈوائس نظرثانی کیلئے واپس وزیراعظم کو بھیجیں گے اور پھر وزیراعظم کی جانب سے وہی ایڈوائس دوبارہ بھیجے جانے پر صدر مملکت کو ہر صورت اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا بصورت دیگر وہ ایڈوائس دس روز گزرنے کے بعد ازخود روبہ عمل ہو جائیگی۔ اس تناظر میں عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے منصب سے ہٹانے کی وزیراعظم کی دوسری بار بھجوائی گئی ایڈوائس کو بھی آج دس روز پورے ہو جائیں گے جسے صدر نے درخوراعتناء نہ سمجھا تو عمر سرفراز چیمہ آج ازخود گورنر کے منصب سے فارغ ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنی گورنر شپ کے دوران آئین و قانون اور اعلیٰ عدلیہ کی جس طرح بے توقیری کی اسکی بنیاد پر تو ان کیخلاف سیدھا سیدھا آئین سے بغاوت والا دفعہ 6 کا کیس بنتا ہے

اور میری رائے میں تو عمر سرفراز کے معاملہ میں آئین و قانون کی سربلندی اور عدالتی فیصلوں کے احترام کیلئے ٹیسٹ کیس بنانا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو آئین سے ایسی سرکشی کی جرأت نہ ہو جنہوں نے آئین سے سرکشی کی یہ انتہاء کی کہ آئین کی تشریح کی مجاز اتھارٹی ہائیکورٹ کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے صادر کئے گئے فیصلہ کی بنیاد پر ان کیخلاف صدر کو ریفرنس بھجوانے کا عندیہ تک دے ڈالا جبکہ بذات خود انہوں نے وزیراعلیٰ کا حلف لینے کی آئینی ذمہ داری سے بھی پی ٹی آئی قیادت کے ایجنڈے کے عین مطابق انکار کیا اور اس طرح آئین سے انحراف کے مرتکب ہوئے۔ انہیں اس حوالے سے جلد یابدیر بہرصورت سزا وار ہونا ہے جبکہ صدر عارف علوی کا معاملہ اس حوالے سے گھمبیر ہو رہا ہے کہ وہ آئین و قانون کی عملداری کے درمیان پھانس بن کر اٹکے ہوئے ہیں۔ صدر مملکت کے منصب پر آئین کی دفعہ 41 کے تحت باقاعدہ انتخاب عمل میں آتا ہے اور اس منصب پر فائز کسی شخصیت کو آئین کی دفعہ 47 میں متعینہ طریقہ کار کے مطابق ہی فارغ کیا جاسکتا ہے‘ ماسوائے اسکے کہ وہ آئین کی دفعہ 44 کے تحت خود اپنا استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو نہ بھجوا دیں۔ دفعہ 47 کی ذیلی دفعات ایک اور دو میں وضع کئے گئے طریق کار کے مطابق صدر کو یا تو اس بنیاد پر انکے منصب سے ہٹایا جا سکتا ہے کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اس منصب پر کام کرنے کے اہل نہیں رہے یا انکے کسی مس کنڈکٹ اور آئین کی کسی سنگین خلاف ورزی کے الزام کے تحت صدر کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔

ان ہر دو صورتوں میں قومی اسمبلی یا سینٹ میں مجموعی ارکان کے ایک چوتھائی ارکان کے دستخطوں کے ساتھ نوٹس جمع کرایا جاتا ہے جس پر سپیکر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس 14 دن کے اندر اندر طلب کرتے ہیں جس میں مجموعی ارکان کی دو تہائی اکثریت صدر کو ہٹانے یا انکے مواخذہ کی تحریک منظور کرلے تو وہ اپنے منصب سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اب موجودہ سیٹ اپ کو مشکل یہ آن پڑی ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کی عدم فعالیت کے باعث مجموعی ارکان کی دو تہائی اکثریت صدر کے مواخذہ کیلئے یا انکی ذہنی یا جسمانی نااہلیت کے باعث انہیں ہٹانے کی قرارداد کی منظوری کیلئے دتیاب نہیں ہو پائے گی۔ اس صورتحال میں تو ڈاکٹر عارف علوی اپنی آئینی میعاد مکمل ہونے تک صدر کے منصب پر برقرار رہیں گے اور آئین سے سرکشی والا اپنا طرز عمل برقرار رکھ کر امور حکومت و مملکت میں خلل ڈالتے رہیں گے۔ اس لئے آئین کی شارح کی حیثیت سے یہ معاملہ بھی بالآخر ملک کی اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹ) کو ہی طے کرنا ہوگا جہاں صدر کیخلاف آئینی درخواست دائر کرنے کا وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز عندیہ بھی دیا ہے۔ بے شک صدر مملکت کو امور حکومت و مملکت کی انجام دہی کے معاملہ میں مکمل آئینی تحفظ حاصل ہے تاہم اس منصب پر بیٹھ کر کوئی شخص آئین کو توڑنا موڑنا شروع کر دے‘ عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے یا اس سے 302جیسا کوئی سنگین جرم سرزد ہو جائے تو ان جرائم سے متعلق قوانین اور آئینی دفعات بھی تو بہرصورت عملداری کی متقاضی ہوں گی۔ چونکہ ان آئینی مناصب پر متمکن شخصیات نے بھی پہلی بار آئین و قانون سے سرکشی اور عدالتی فیصلوں کی تحقیر کی نادر مثالیں قائم کی ہیں اس لئے انکی آغاز کی گئی اس بدخصلتی کو فروغ پانے سے روکنے کیلئے بھی ریاستی اتھارٹی کو آئین و قانون میں سے راستہ نکالنا پڑیگا۔ ورنہ بھلا یہاں کسی آئین‘ کسی قانون‘ کسی ادارے کا کوئی تقدس اور اسکی اتھارٹی قائم رہ پائے گی؟ ہمیں آئین و قانون کی عملداری کو بہرصورت راستہ دینا ہے تاکہ آئین و قانون سے سرکشی کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کیا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.