سپین میں مسلمان حکمران کا صدیوں پرانا آبپاشی کا نظام جو آج بھی پائیدار زراعت کی مثال ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) ابھی صبح ہے۔ ابھرتے سورج کی کرنیں سپین میں ویلنسیا کے اولڈ ٹاؤن (پرانا شہر) کو اپنی آغوش میں لے رہی ہیں اور شہر کے مرکاڈو سینٹرل بازار میں لگے سٹالوں پر پہلے ہی بھیڑ لگ چکی ہے۔ ایک سٹال کے سامنے لوگ قطار لگائے کھڑے ہیں اور سٹال کے پیچھے کھڑا شخص پھُرتی سے ایک گاہک کی فرمائش کے بعد دوسرے کی طرف لپک رہا ہے تاکہ ان کے ذائقے کے مطابق ناشتہ تیار کر کے پیش کر سکے۔

مرکارڈو سینٹرل میں موجود اشیا میں یہاں کے پھل اور سبزیاں باعث فخر ہیں۔ خوبصورت اور نکھرتے رنگوں والی یہ سبزیاں اور میوے لا ہویرتا کے باغات سے آئے ہیں۔ یہ شہر کے اطراف میں 28 مربع میل کا علاقہ ہے۔ اینکارنا فولگادو 45 برس سے ایک سٹال چلا رہی ہیں۔ وہ موسمی سبزیاں براہ راست لا ہویرتا کے کاشتکاروں سے خریدتی ہیں۔ وہ گھوڑے کی نال کی شکل کی پھلی فیراؤرا کی جانب اشارہ کر کے کہتی ہیں کہ ’ان کا رنگ کھِلتا ہوا سبز ہونا چاہیے مگر زیادہ تیز نہیں۔ سرخ اور سبز پھلی روشٹ چند سینٹی میٹر چوڑی اور بس تھوڑی موٹی ہونی چاہیے اور بٹربین اس وقت کھانے کے لیے بہترین ہوتی ہے جب اس کا رنگ زرد سے سبز ہونے لگے۔‘ ان پھلیوں کے برابر میں بروکولی، سرخ شملہ مرچ، موٹی تازہ لہسن اور تازہ پیاز کی چھوٹی چھوٹی گٹھیاں رکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح دوسری بہت سی سبزیاں اور پھل بڑی تعداد میں لا ہویرتا سے ہر سال یہاں لائے جاتے ہیں۔سپین کے تیسرے بڑے شہر کو ان کھیتوں نے گھیرا ہوا ہے۔ اس کا راز نہایت ذہانت سے بنائی گئی ان ہوشیار بھول بھلیوں میں پوشیدہ ہے جو کاریزوں، کنوؤں اور فلڈ گیٹوں (بند) پر مشتمل ہے۔ آبپاشی کا یہ نظام 12 سو برس پہلے مسلم مورش حکمرانوں نے متعارف کروایا تھا جو مراکش سے یہاں آئے تھے۔ لا ہویرتا میں آبپاشی کے لیے بنی ہوئی نہریں ہر جگہ موجود ہیں جن سے یہاں کے کھیتوں کو ہر وقت سیراب کیا جاتا ہے دریائے توریا سے آٹھ بڑی نہروں یا چینلوں سے پانی ڈھلوان میں بہہ کر چھوٹی آبی گزرگاہوں میں لایا جاتا ہے اور پھر وہاں سے چھوٹے چھوٹے کھیتوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان کھیتوں کو ملنے والے پانی کا انحصار دریا میں پانی کے بہاؤ پر ہوتا ہے نہ کہ اس کے حجم پر۔ اس کے لیے فیلا کی اکائی استعمال ہوتی ہے۔ عربی میں اس کا مطلب ’تار یا دھاگے‘ کے ہیں۔ فیلا پیمائش ہے، اس پانی کی جو ایک مخصوص مدت کے دوران کسی فرد کو ملتا ہے۔ آب پاشی کا یہ عمل ایک ہفتے تک چلتا ہے، لیکن اگر دریا کا بہاؤ کم ہو تو یہ عمل طویل ہو جاتا ہے۔ یہ ناقابل یقین حد تک موثر نظام ہے۔ ہر کھیت کو ایک وقت میں ایک ہی مقدار میں پانی ملتا ہے چاہے وہ کہیں بھی واقع ہو اور خشک سالی کے دنوں میں بھی پانی کی قلت نہیں ہوتی اور نتیجہ طرح طرح کی سبزیاں اور پھل کی صورت میں نکلتا ہے۔

شہر کے جنوب میں جھیل ایلبوفیرا کے اردگرد کھیتوں میں چاول کی صدیوں پرانی اقسام کی کاشت کی جاتی ہے جبکہ ویلنسیا کا مشروب ہورچاٹا میں استعمال ہونے والے مصالحے شمال میں پیدا ہوتے ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنز کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) سے تعلق رکھنے والے کلیلیا ماریا پوزو کا کہنا ہے کہ ’پانی کا انتظام اس طرح سے کیا گیا ہے کہ بینگن، مالٹے اور زیتون ایک وقت میں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔‘ ایف اے او نے نومبر 2019 میں لا ہویرتا کو ’گلوبلی امپورٹنٹ ایگریکلچر ہریٹیج سسٹم‘ میں شامل کیا تھا۔ ’سینکڑوں سال پہلے ایشیا اور امریکہ سے کئی قسم کی فصلیں منگوا کر بوئی گئیں جنھوں نے یہاں کے نظام آبپاشی کی وجہ سے یہاں کے ماحول سے مطابقت پیدا کرلی۔‘ اس پورے عمل کو ایک انوکھے سماجی نظم نے قائم رکھا ہوا ہے جو لا ہویرتا میں ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ دا واٹر کورٹ آف دا پلینز آف ویلنسیا 960 عیسوی میں قائم کیا گیا تھا اور یہ باضابطہ طور پر دنیا کا سب سے قدیم عدالتی ادارہ ہے۔ یہ ٹریبیونل آٹھ کاشتکاروں پر مشتمل ہے جنھیں آبپاشی کے آٹھ بڑے چینلز کے گرد رہنے والی کمیونیٹیز منتخب کرتی ہیں اور جو تنازعات کو حل کرنے کے لیے ہر جعمرات کی دوپہر ویلنسیا کیتھڈرل کے دروازے پر عدالت لگاتے ہیں۔ سیاح ویلنسیا کے گرجہ گھر کے دروازے پر جمعرات کی دوپہر عدالتی کارروائی دیکھ سکتے ہیں یہ قابل دید نظارہ ہوتا ہے جہاں تمام مرد (یہ عدالت مردوں پر ہی مشتمل ہوتی ہے) کالے چغے پہنے نصف دائرے میں بیٹھ کر پانی کی تقسیم کے تنازعات طے کرتے اور متعلقہ ضابطوں کا اطلاق کرتے ہیں۔ ٹریبیونل کی سیکرٹری ماریا ہوزے اولماس روڈریگو کہتی ہیں کہ ’ساری کارروائی پانی کے بارے میں ہوتی ہے کیونکہ کسی نے اپنے پڑوسی کے کھیت میں زیادہ پانی چھوڑا ہوتا ہے تو کسی نے اپنی باری کے بغیر پانی لیا ہوتا ہے۔‘ تمام کارروائی ویلنسیئن زبان میں ہوتی ہے اور فیصلے بے رحمانہ حد تک تیزی سے کیے جاتے ہیں اور حتمی ہوتے ہیں۔

یہ عدالت تو ہمیشہ سے موجود رہی ہے، البتہ زمین کا استعمال وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ ایک مقامی کمپنی کے سربراہ مِگوول مِنگوئٹ کا کہنا تھا کہ ’مشکلات کو شکست دے کر پھر سے ابھرنا آج کل ٹرینڈی ہے، مگر لا ہویرتا کے لیے یہ نئی بات نہیں۔ ’ہم وقت کے مطابق فصلیں اُگاتے ہیں، ان میں تبدیلی لاتے ہیں، تاکہ ہم وقت کے ساتھ چل کر زندہ رہ سکیں۔ ان کی کمپنی اس پر اس طرح سے عمل پیرا ہے کہ اس نے البورایا میں آرگینک فارمنگ چھوڑ کر اب شہر کے شمال میں ٹماٹروں کا شو منعقد کرنا اور خطے میں زرعی سیاحت شروع کر دی ہے۔‘ لا ہویرتا کے مطابقت پیدا کرنے والے اس نظام کو، جس نے صورتحال کو بہتر بنایا ہے، جدید فارمنگ کی مشکلات کے ایک پائیدار حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جولائی 2019 سے ویلنسیا ورلڈ سینٹر فار سسٹین ایبل اربن فوڈ (سی ای ایم اے ایس) یا عالمی مرکز برائے پائیدار شہری خوراک کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد آئندہ نسلوں کے لیے خوراک کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ۔ٹونی کے ریستوران پر لوگ اپنی مرضی کی سبزیاں خود چُن کر ان سے پکوا سکتے ہیں سی ای ایم اے ایس کے ڈائریکٹر ونسینٹ ڈومنگو کہتے ہیں کہ ’لا ہویرتا کی پیداوار کا بنیادی مقصد مقامی منڈیوں اور شہریوں کی کھپت کو دیکھنا ہے۔ اس کے مخصوص ڈھانچے کی مدد سے یہ نسل در نسل کسانوں کی کوششوں سے کئی صدیوں سے جاری ہے۔ ان کسانوں نے شہری آبادی کے دباؤ کے باوجود یہ زمینیں محفوظ رکھی ہیں۔‘ ان میں سے ایک کسان ٹونی منتولیو ہیں جو لا ہویرتا کے شمال میں ملینیا نامی قصبے کے پاس اپنی زمین پر 12 سال کی عمر سے کام کر رہے ہیں۔ ٹونی، بھنڈی اور چینی گوبھی جیسی فصلیں اس وقت سے یہاں اُگا رہے ہیں جب وہ اتنی معروف بھی نہیں تھیں۔ انھوں نے مونگ پھلی کی ایک مقامی قسم کے بھی بیج حاصل کیے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’کسان کی زندگی میں دریافت بہت اہم ہے۔ آپ ہر دن کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں کیونکہ فصلیں اور زمینیں مسلسل بولتی رہتی ہیں۔‘ ٹونی وہ سبزیاں اُگاتے ہیں جو انھیں اپنے ریستوران کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ لا ہویرتا کی فصلوں کے بیچ آپ منفرد سفید دیواروں اور چھت والے اس ریستوران کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں لوگ اپنی سبزیاں خود فصلوں سے چُن سکتے ہیں اور ٹونی سے اسے پکوا سکتے ہیں۔ انھیں اکثر خرگوش، مرغی یا مچھلی کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ بچے ہوئے کھانے کو لوگ گھر بھی لے جاسکتے ہیں۔ وہ اس کھانے کو ’زیرو میٹرز‘ کہتے ہیں کیونکہ اس میں انتظار کرنا پڑا ہے۔ کسان جو پھل اور سبزیاں خود نہیں ھا پاتے انھیں مقامی منڈیوں جیسے تیرا دی کومپتر نامی ہول سیل مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کسان وہاں اپنی کاشت کردہ بڑی بروکلی، چمکتی سرخ مرچ، موٹے لہسن اور مٹر جیسی سبزیوں کے سٹال لگا لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.