1مہینے میں 1ہزار ارب روپے کا اضافہ! شہباز شریف کے دور میں پاکستانی قرضے کتنے بڑھ گئے؟

لاہور (نیوز ڈیسک) ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ جاری، شہباز حکومت آنے کے بعد صرف ایک ماہ میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ میں تقریباً 1 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی روپیہ نے منگل کے روز بھی کرنسی مارکیٹ میں

اپنی قدر میں بدترین گراوٹ دیکھی۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 1 روپے 13 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد امریکی کرنسی کی قیمت 187 روپے 53 پیسے سے بڑھ کر 188 روپے 66 پیسے ہو گئی۔دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 189روپے 30پیسے کا ہوگیا۔ ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی واضح ہو گیا ہے۔اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز انٹربینک مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت 50 روپے کی سطح سے اوپر چلی گئی، جبکہ اماراتی درہم بھی مزید مہنگا ہو گیا۔ سعودی ریال 50 روپے 29 پیسے جبکہ اماراتی درہم 51 روپے 36 پیسے کا ہو گیا۔جبکہ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف حکومت آنے کے بعد صرف ایک ماہ کے دوران ڈالر کی قدر میں اضافے سے قرضوں کے بوجھ میں 930ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 16 اپریل کے بعد سے انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 7 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔ معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پانے میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے مارکیٹ بدترین غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔اسی باعث ایک جانب کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ قدر کھو رہا ہے، تو دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ بھی بدترین مندی کا شکار ہے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی مندی کا شکار ہو چکی اور 100 انڈیکس 44 ہزار پوائنٹس کی سطح سے نیچے گر چکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.