حکومت اور تحریک انصاف میں کشمکش!!!! خونی مارچ کی باتیں ہونے لگیں۔۔۔۔۔ آنیوالے وقت میں کیا ہونے جا رہا ہے ؟؟؟ چشم کشا حقائق سامنے آگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) ندیم اختر ندیم لکھتے ہیں کہ” کیا ستم ہے کہ ہم اپنے اور اپنوں کے ہی دشمن بنے بیٹھے ہیں اور دشمنی کے اس دھوئیں میں ہمیں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا نہ پتہ چل رہا ہے کون اپنا ہے کون بیگانہ بس روندے چلے جارہے ہیں خانہ جنگی کی باتیں ہورہی ہیں خونی لمحوں کا ذکر کیا جارہا ہے جلاؤ گھیراؤ کا سنایا جارہا ہے یہاں ہر شہری پہلے ہی سہما ہوا ہے اس پر ایسی باتیں کرکے تحریک انصاف حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہیں کررہی بلکہ لگتا ہے کہ جیسے پاکستان کے عوام کو دھمکایا جارہا ہے۔

شیخ رشید صاحب کہتے ہیں گلی محلوں میں لڑائیاں ہونگی۔ خونی مارچ ہوگا عمران خان صاحب فرماتے ہیں پورا ملک جام کردیا جائے گا ایسی ہی باتیں عمران خان صاحب دو اٹھارہ کے الیکشن کی انتخابی مہم یا اس وقت دئیے گئے اپنے دھرنوں میں کیا کرتے تھے اور تقریباً اپنے چار سالہ اقتدار سے حظ اٹھا کر بھی آج وہی باتیں کی جارہی ہیں۔حکومت اور تحریک انصاف کے مابین جاری اس کشمکش میں ہر شخص جیسے ہراساں ہے۔ذہنی دباؤ کا شکار ہے ایک بے یقینی کی کیفیت ہے کیا ہوگا کیا ہونے والا ہے یہی سوال ہر شخص کے ذہن و دل پر کاری ضربیں لگارہا ہے اور اس اذیتناک کیفیت سے نکلنے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو بڑے جاں سوز لمحوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ پاکستان بن چکا ہے اور پاکستان آنے والوں کے راستوں میں موت کی گہری کھائیاں پڑتی ہیں۔ خون کے سیلاب آتے ہیں۔جدائیوں کے زخم ہیں خواتین اپنی عصمتوں کو بچانے کے لیے کنوؤں میں چھلانگیں لگارہی ہیں۔ کم سن بچوں کو دشمنوں سے بچانے کے لئے دریاؤں میں بہا دیا گیا ہے۔ جسم و جاں مال و متاع قربان کرکے پاک سر زمین پر قدم رکھا گیا ہے لٹے ہوئے گھرانے تھے لیکن پھر بھی طمانیت کا احساس تھا کہ ہم دیکھے ہوئے خوابوں کی تعبیرپاگئے ہیں۔اس احساس نے گویا ہر زخم ہی مندمل کردیا تھا پاکستان کو پا کر زخموں سے چور بدن بھی پرسکون تھے۔ زخم تھے لیکن ان میں درد کی ٹیسیں نہیں اٹھتی تھیں۔پاکستان کا حصول ایسا آسان نہ تھا یہ اللہ کریم کی خاص عطا ہے میں سمجھتا ہوں پاکستان عشاق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسکن ہے اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیض کی بدولت ہمیں پاکستان سے نوازا پاکستان بن گیا تو بھارت کو یہ زعم تھا کہ یہ نوزائیدہ مملکت زیادہ دیر چل نہ سکے گی اور خدانخواستہ اسے دوبارہ بھارت میں ضم ہونا پڑے گا لیکن سرکارِ دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کی بنیادیں اس قدر مضبوط ہیں اور تھیں کہ اللہ کریم نے پاکستان کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اسے اسلامی قلع بنا دیا لیکن کیا کیجئے جیسے میں عرض کرچکا ہوں کہ ہم اپنے ہی دشمن ہو بیٹھے ہم نے آئے روز پاکستان پر ایسے ایسے تجربات کئے کہ کیا کہئے پاکستان کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور سیاست کی قربان گاہ پر قیام پاکستان سے لے کر ہنوز عوام قربان ہورہے ہیں سیاستدان تو ہر لحاظ سے بہتر رہے اور مزے میں ہیں یہاں ہر حکمران نے حسب توفیق پاکستان کے عوام کو لوٹا ہے جناب عمران خان کو ہی لیجئے ان سے عوام کو کچھ امیدیں بندھ چلی تھیں کہ ان سے عوام کے دکھوں کا مداوا ہوگا لیکن انہوں نے تو وہ کام کر دئیے کہ توبہ توبہ کیجئے آپ نے قرض سے تائب ہونے کا کہا اور پھر پاکستان کو تاریخی مقروض بھی کر دیا۔ مہنگائی بھی سبقت لے گئی۔

پولیس اصلاحات کے نام پر سڑکوں پر سرعام شہریوں کو قتل کیا گیا بے روزگاری لاقانونیت بھی عروج پر رہی اور عوام کو مایوس کرنے کے بعد آج پھر خان صاحب اقتدار کے لیے نہ جانے جانے کیسے کیسے حربے استعمال کررہے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ انکے ایسا کرنے سے پاکستانی معیشت کمزور ہورہی ہے پاکستان کے حالات دگرگوں ہوئے جاتے ہیں دنیا میں ہماری ساکھ متاثر ہوگئی ہے ایسے ہی آپ مسلم لیگ ن کی پچھلی حکومت کے راستوں میں حائل ہوئے تھے تب چائنہ کے صدر کا جناب کے دھرنوں کے سبب پاکستان کا دورہ بھی ملتوی ہوگیا تھا جبکہ آج آپ ہی چائنہ سے راہ و رسم استوار کرنے کی بات بھی کرہے ہیں۔ازراہ کرم ایسا نہ کیجئے۔ سیدھی سی بات ہے جب آپ نے چار سال کے قریب حکمرانی کی ہے اب ایک جمہوری عمل کے ذریعے آپکو ہٹایا گیا ہے تو آپ سال بھر انتظار کر لیجئے ملک کو انتشار کی آگ میں تو نہ جھونکئے گالم گلوچ تو نہ کیجئے ایسی سبک سری بھی کیا؟حضور عوام کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا نہ کیجئے آپ عوامی لیڈر ہیں تو عوام کی خیر خواہی کیجئے آپ جلد انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہی مطالبہ آپ سے کیا جارہا تھا آپ سال پہلے الیکشن کا اعلان کر دیتے اور فرض کیجئے پھر یہی لوگ جیت گئے اور آپ کو پہلے جتنا مینڈیٹ نہ ملا تو؟ اس لئے وسعت قلبی سے کام لیجئے۔حالات کا ادراک کرتے ہوئے ذرا توقف فرمائیے اتنا تیز نہ چلئے، ٹرین جب بہت تیز چلتی ہے تو پٹڑی کے قریب پڑے پتھر اڑ کر کسی کو جا لگتے ہیں اور زخمی کردیتے ہیں اور کہتے ہیں زخمی شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے میری مراد مسلم لیگی شیروں سے نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں اٹھتے ہوئے غصے کے طوفان سے ہے جو کسی کو بھی اڑا لے جاسکتا ہے لہذا احتیاط کیجئے عوام نے آپکو چار سال تک دیکھا ہے آپ شہباز شریف اینڈ کمپنی کو ایک سال تو دیجئے تب تک انکا رزلٹ بھی سامنے آجائے گاعوام کو گمراہ نہ کیجئے اور ایک عمران خان ہی کیا ہمارے دیگر سیاستدانوں کو بھی عوام کے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہئے کہ سری لنکا سے عوامی غیض وغضب کی جو خبریں آرہی ہیں سب سن رہے ہیں اور وہاں کے حالات سب دیکھ بھی رہے ہیں لہذا ایسے وقت سے ڈرئیے

Leave a Reply

Your email address will not be published.