ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان امریکہ کی خواہش پر امریکہ کے خلاف بول رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ توفیق بٹ کی باتیں آپ کو حیران کر ڈالیں گی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب جو لوگ خان صاحب کی اندھی تقلید کررہے ہیں اُن بے چاروں کا اصل مسئلہ ہی یہی ہے وہ خان صاحب کو قریب اور اندر سے نہیں جانتے، دُور کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں، سو میرے نزدیک خان صاحب بھی

دُور کے ایک ایسے ڈھول ہیں جو بے شمارلوگوں خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کو ابھی تک بڑے سہانے لگ رہے ہیں، یہ الگ بات ہے مستقبل قریب میں جو انکشافات خان صاحب کے بارے میں ہونے والے ہیں ممکن ہے اُس کے بعد بے شمارلوگوں کو میری طرح خان صاحب سے نہیں خود سے گھِن آنے لگے کہ کیسے شخص کی اندھی تقلید وہ کرتے رہے ؟۔ آج کل امریکہ کے بارے میں وہ مسلسل بدزبانی کررہے ہیں، امریکی مراسلے کی ہوا کچھ خارج ہوچکی ہے، کچھ آگے چل کر مزید خارج ہوجائے گی، خان صاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے وہ امریکہ کو صرف اِس لیے پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر نے اُنہیں کال نہیں کی، بس اِسی روگ کو وہ دِل پر لگاکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُن کی جھوٹی اور چھوٹی اناتڑپ اور مچل رہی ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن ہوتا کون ہے مجھے فون نہ کرنے والا ؟… دوسری طرف ایک خاص پس منظر میں یہ تاثر بھی قائم ہوتا جارہا ہے کہ جنونی انداز میں امریکہ کے خلاف بات وہ کہیں امریکہ کی مرضی سے تو نہیں کررہے؟۔میں تو ہرگز اِس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں مگر لوگوں کے منہ اور زبانیں بظاہر ہے اُسی طرح بند نہیں کئے جاسکتے جس طرح خان صاحب کا منہ یا زبان بند نہیں کئے جاسکتے …جہاں تک جہانگیر ترین اورعلیم خان کا تعلق ہے، میں اِس پہ زیادہ تفصیل سے بات نہیں کروں گا۔ جہانگیر ترین کے کچھ کیسز عدالت میں ہیں، اور علیم خان نے اگلے روز خان صاحب کی طرف

سے خود پر لگنے والے الزام کی بھرپور انداز میں ایسی وضاحت کردی ہے مجھے یقین ہے کم ازکم کل رات عمران خان ایک پل کے لیے بھی چین سے نہیں سوئے ہوں گے۔ اِس خدشے سے کہ علیم خان نے اپنی اخلاقیات سے مجبور ہوکر اُن کے بارے میں جوانکشافات ابھی تک شواہد کے ساتھ نہیں کئے وہ کہیں اب کرنہ دیں۔ جتنا علیم خان کو میں جانتا ہوں، وہ کبھی اُس حدتک نہیں جائیں گے جس سے عمران خان اور اُن کے درمیان فرق مِٹ جائے۔ عمران خان ایک انتہائی بے دید، بدلحاظ، بے مروت اور طوطا چشم انسان ہیں، علیم خان ایک حیادار انسان ہیں، پرانے تعلق کا لحاظ رکھنے کی ہرممکن حدتک کوشش وہ کرتے ہیں،یہ کوشش عمران خان کے حوالے سے بھی وہ مسلسل کررہے ہیں، سو سابق وزیراعظم خان صاحب سے میری عاجزانہ گزارش ہے جتنی ناانصافیاں علیم خان وجہانگیر ترین کے ساتھ اُنہوں نے اپنی محسن کش فطرت کے مطابق کرنی تھیں وہ کرچکے، اُن کے لیے بہتر اب یہی ہے اُن دونوں کے حوالے سے اپنی زبان پر وہ اب قابو پالیں۔ کچھ ’’پانڈے‘‘ علیم خان نے اپنی فطرت کے برعکس بیچ چوراہے پھوڑ دیئے خان صاحب کے لیے ایسے مسائل کھڑے ہو جائیں گے جو جِن بھوت وچڑیلیں وغیرہ بھی شاید نہ حل کرسکیں !!

Leave a Reply

Your email address will not be published.