تحریک انصاف کے حامیوں نے لندن میں شریف خاندان کی زندگی دشوار کر دی ، حکومتی وفد کی نواز شریف سے ملاقات سے قبل کیا احتیاطیں کی گئیں ؟ بی بی سی کی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی جاوید سومرو بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے نصف درجن سے زائد وزرا جب دو دن قبل لندن پہنچے تھے تو حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدیداران کہہ رہے تھے کہ ملک کو

درپیش سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ اہم مشاورت ہو گی اور ’بڑے فیصلے‘ کیے جائیں گے۔لیکن وزیرِ اعظم، ان کی کابینہ کے ارکان، میاں نواز شریف اور ان کے ہمراہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان طویل ملاقاتوں کے بعد جمعرات کی شام جب وزرا سے بی بی سی نے بار بار پوچھا کہ ان ملاقاتوں میں کیا فیصلے ہوئے تو ان میں سے کسی کے پاس کچھ خاص کہنے کو نہ تھا اور وہ صرف یہی کہتے رہے کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان نے جو ’گند‘ پیدا کیا ہے اس کو صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پاکستان میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان جلد انتخابات کروانے کے لیے ایک ملک گیر مہم چلا رہے ہیں، پاکستان کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور پاکستان کے پاس بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطالبات ماننے کے علاوہ بظاہر کوئی راستہ نہیں۔ حکومت بھی ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اب تک کوئی مؤثر حکمتِ عملی وضع نہیں کر پائی ہے۔حکومت میں شامل بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے واضح کیا ہے کہ فوری انتخابات نہیں کروائے جانے چاہییں۔ مسلم لیگ (ن) کے بیشتر رہنما بھی اس کے حق میں نظر آتے ہیں لیکن پارٹی کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ایک جلسے میں کہا کہ اُن کی جماعت کو ’عمران خان کا چھوڑا ہوا گند‘ صاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ جلد انتخابات کروانے کی طرف جانا چاہیے۔بظاہر مسلم لیگ (ن) کنفیوژن اور پالیسی پر تقسیم کا شکار نظر آتی ہے۔جمعرات کی صبح سے مرکزی لندن

کے فائیو سٹار ہوٹل حیات ریجنسی، دی چرچل کے باہر پاکستانی میڈیا کے صحافیوں نے ڈیرہ ڈال دیا تھا۔ پاکستان سے آئے ہوئے بیشتر وزرا اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لیکن صحافیوں کو اب تک یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ملاقات کہاں ہے اور کب میڈیا سے بات ہو گی۔صحافیوں کو بس ایک امید تھی کہ دن کے کسی وقت حکومت کے یہ کرتا دھرتا صبح سے انتظار کرتے ان صحافیوں پر رحم کھا کر بات کرلیں گے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کل کہا تھا کہ میڈیا بریفنگ دی جائے گی۔ہوٹل کے باہر کھڑے صحافیوں نے ایک بجے کے قریب جب یہ دیکھا کہ وزرا ایک ایک کر کے مرسیڈیز گاڑیوں میں سوار ہو کر روانہ ہو رہے ہیں تو ان میں بے چینی پھیل گئی تھی۔بدھ کو بھی ایسا ہوا تھا کہ مسلم لیگ نون نے صحافیوں کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی کہ وہ میاں نواز شریف سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور سٹین ہوپ ہاؤس دفتر، جہاں ان کی عموماً ملاقاتیں ہوتی ہیں، کے بجائے اسحاق ڈار کے گھر پر ملاقات کر رہے ہیں۔ویسے لندن میں اس قدر رازداری پر مسلم لیگ (ن) مجبور بھی لگتی ہے کیونکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں نے ان کی زندگی دوبھر کر رکھی ہے۔ہر آئے دن پی ٹی آئی کے حامی شریف خاندان سے منسلک پتوں پر جمع ہو کر عمران خان کی حمایت میں اور ’چور چور‘ کے نعرے بلند کرتے رہتے ہیں۔ بدھ کے روز دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان ایک بڑا آمنا سامنا ہوا جو لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے بڑی

کامیابی سے پرامن رکھا۔خیر صحافیوں کو آخر معلوم ہو ہی گیا کہ وزرا سٹین ہوپ ہاؤس جا رہے ہیں اس لیے سب دی چرچل سے روانہ ہو کر سٹین ہوپ پہنچ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف وہاں آ چکے تھے اور کچھ دیر میں وزیر اعظم شہباز شریف بھی برطانوی اداروں کی جدید اور محفوظ گاڑی میں اور برطانوی اداروں کے حفاظتی حصار میں سٹین ہوپ ہاؤس پہنچ گئے۔اُنھوں نے نہ آتے میڈیا سے بات کی اور نہ واپسی پر۔ لیکن کئی گھنٹے کے انتظار کے بعد آخر جب وزیرِ اعظم اہلکاروں کے ہمراہ روانہ ہو گئے تو عمارت سے وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب، سعد رفیق اور دیگر نمودار ہوئے۔صحافیوں نے ان سے کئی سوالات کیے لیکن اُنھوں نے ہر بات کا جواب گول مول ہی دیا اور بس سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انتخابات جلدی کروائے جانے کا فیصلہ ہوا ہے تو وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بات ہوئی ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے، لیکن ان کے مطابق یہ فیصلہ صرف مسلم لیگ (ن) کا نہیں ہو سکتا بلکہ اتحادی جماعتوں کے سربراہ اپنے اجلاس میں مل کر کریں گے۔کور کمانڈر پشاور جنرل فیض حمید کے بارے میں سیاست دانوں کے بیانات پر فوج کے ردِ عمل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سول پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ہمارے قائد نواز شریف کا تو بیانیہ ہی یہی ہے کہ ادارے سیاست میں ملوث نہ ہوں اور ان کو سیاست میں نے گھسیٹا جائے۔‘اُنھوں نے فوج اور عدلیہ کے حالیہ کردار کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بلکل آزاد اور غیر جانبدار کردار ادا کر رہے ہیں۔احسن اقبال نے بھی فوج اور اداروں کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ عمران خان جو ان اداروں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اُنھوں نے سابق وزیرِ اعظم کے بارے میں کہا کہ وہ ’پاکستان مخالف تحریک‘ چلا رہے ہیں۔وزرا ایک ایک کر کے سابق حکومت پر تمام خرابیوں کا الزام عائد کرتے رہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اُنھوں نے ان دو دنوں میں طے کیا کیا ہے۔بی بی سی نے ان سے بار بار پوچھا کہ حالات بہتر کیسے ہوں گے اور حکومت کی معاشی اور سیاسی حکمت عملی کیا ہے، لیکن احسن اقبال نے محض یہ کہا کہ جو حکمت عملی طئے ہوئی ہے وہ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے اور تمام فیصلے مشترکہ مشاورت سے ہوں گے۔بظاہر لگ رہا تھا کہ سابقہ اپوزیشن اور آج کی حکومت کے لیے عمران خان کو شاید اقتدار سے الگ کرنا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا اب ملک کو ’صحیح ڈگر‘ پر لانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.