منحرف اراکین پر سپریم کورٹ کا فیصلہ!!! پنجاب کی سیاست میں ہچلچل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا حمزہ شہباز وزیراعلیٰ رہیں گے ؟ اہم سوالات کھڑے ہوگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) ترہب اصغر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور پارلیمان ایسے اراکین کی نااہلی کی مدت کے تعین کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔

اس فیصلے کے بعد اب یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں منحرف اراکین سے ووٹوں کی مدد سے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکیں یا پھر انھیں دوبارہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایسے 25 اراکین نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کے لیے ووٹ دیے تھے جن کی نااہلی کے لیے اب ان کی جماعت نے الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹا رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اپنی جیت قرار دے رہے ہیں اور گذشتہ روز خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے اس فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ کا ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔ بظاہر وفاقی حکومت اس فیصلے سے کسی بھی طور پر متاثر نہیں ہوتی کیونکہ شہباز شریف جب وزیراعظم منتحب ہوئے تھے اس وقت ووٹنگ کے عمل میں کسی تحریک انصاف کے ناراض یا منحرف رکن نے حصہ نہیں لیا تھا۔ بی بی سی نے اس فیصلے کے بعد حکومت پر اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق قانونی ماہرین سے بات کی ہے۔ ان ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ 25 منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ اب اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ اراکین اسمبلی پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر ان کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور کمیشن انھیں ڈی سیٹ کر سکتا ہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان اراکین نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ انھیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بلایا گیا اور نہ ہی ایسی کوئی ہدایات دی گئیں کہ ووٹ کسے دینا ہے۔ یاد رہے کہ حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کر کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، جس میں تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے۔

اس فیصلے کے پنجاب کی سیاسی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ قانونی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ اس معاملے میں یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اطلاق سابقہ کیسز پر بھی ہو گا یا پھر اس فیصلے پر عملدرآمد مستقبل کے معاملات سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل فیصل نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ فیصلے میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اس کا اطلاق ماضی پر بھی ہو گا۔ ان کے مطابق اٹارنی جنرل نے تو عدالت پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ صدارتی ریفرنس پر کی جانے والی اس تشریح کا اطلاق مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات پر ہو گا۔ ان کے مطابق جب عدالت کے کسی فیصلے سے ماضی کے کسی عمل کو ختم کرنا مقصود ہو تو پھر اس کے لیے واضح طور پر ہدایات دی جاتی ہیں۔ چند آئینی ماہرین یہ تنقید بھی کر رہے ہیں کہ عدالت نے جہاں آئین کی تشریح کرنا تھی وہاں نہیں کی اور جہاں آئین واضح تھا وہاں ابہام پیدا کر دیا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کو اس فیصلے سے فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

فیصل نقوی کے مطابق ابھی عدالت کی تشریح میں کنفیوژن پائی جاتی ہے جبکہ تفصیلی فیصلہ آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی تک تحریک انصاف سمیت کسی بھی فریق نے حمزہ شہباز کے انتخاب کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے بعد منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ اب انتہائی اہمیت کر گیا ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی نااہلی سے متعلق ریفرنس پر سماعت مکمل کر لی ہے اور اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو منگل (آج) کو سُنائے جانے کا امکان ہے۔ پارلیمانی اور آئینی امور کے ماہر احمد محبوب بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ مختصر فیصلے میں یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ کیا اس قانون کی تشریح مستقبل کے کیسز پر لاگو ہو گی یا پھر اس کیس پر بھی اثر انداز ہو گی۔ اس لیے اس سوال کا جواب عدالت کی جانب سے آنا ضروری ہے، جس کے بعد ہی اس کے اثرات سامنے آئیں گے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’دوسری جانب مختصر فیصلے کے مطابق جو منحرف رکن ہو گا اس کے اوپر یہ قانون لاگو ہو گا کہ اس کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ کسی بھی رکن کو منحرف قرار دینا پارٹی کے سربراہ کا کام ہے، جس کی تصدیق الیکشن کمیشن کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ منحرف قرار دیا جاتا ہے اور اگر الیکشن کمیشن یہ کہے کہ یہ رکن منحرف نہیں ہے تو اس رکن پر یہ تشریح بھی لاگو نہیں ہو گی۔‘

ایڈووکیٹ رضا علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں تو یہ فیصلہ آئندہ آنے والے کیسز پر لاگو ہو گا۔ کیونکہ پاکستانی قانون میں ہونے والی کوئی نئی چیز سابقہ کیسز پر لاگو نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں یہ فیصلہ موجودہ پنجاب حکومت پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ اگر عدالت یہ کہتی ہے کہ یہ سابقہ کیسز پر بھی لاگو ہو گا تو یہ ایک یہ منفرد قسم کا فیصلہ تصور کیا جائے گا۔‘ کیا حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں گے؟ عدالت عظمٰی کے اس فیصلے کے بعد اب یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں منحرف اراکین سے ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکیں یا پھر انھیں دوبارہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔ اگر الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے خلاف فیصلہ دے دیتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فیصلے کا اطلاق خود بخود وزیراعلیٰ کے عہدے پر ہو گا یا پھر کسی کو جا کر پہلے وزیر اعلیٰ کا الیکشن چیلنج کرنا ہو گا۔ایڈووکیٹ قاضی مبین کا کہنا تھا کہ ’یہاں مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کی جانب سے ایک غلطی یہ کی گئی ہے کہ انھوں نے ابھی تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا الیکشن چیلنج نہیں کیا ہے۔‘’اس معاملے پر پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ ہمارے سامنے تو الیکشن چیلنج ہی نہیں ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے سامنے یہ بات رکھی گئی ہے کہ وزیر اعلیٰ کا حلف لینا صحیح نہیں ہے۔ ابھی بھی ان کے پاس یہ موقع ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پہلے وہ اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن چیلنج کر دیں تو معاملات الگ رُخ اختیار کر سکتے ہیں۔‘ فیصل نقوی کے مطابق چونکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا تو دوبارہ وزیراعلیٰ کا انتخاب ایک آئینی طریقہ کار کے تحت ہوا تھا۔ ان کے مطابق اگر الیکشن کمیشن منحرف اراکین کو نااہل قرار بھی دیتی ہے تو پھر بھی یہ بحث رہے گی کہ کیا اب انھوں نے جو ووٹ حمزہ شہباز کو دیا تھا وہ واپس تصور ہوگا یا نہیں۔ان کے مطابق عدالت کے فیصلے سے ابھی تشریح کے بجائے مزید کنفیوژن پیدا ہو چکی ہے۔

دو درجن سے زائد اراکین کی نااہلی کے بعد اکثریت کیسے ثابت کی جا سکے گی؟ تحریک انصاف کے لیے اپنے منحرف اراکین کو اسمبلی سے باہر کرنے سے بھی مشکل حل نہیں ہو گی۔ اگر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے منحرف ارکین کو ڈی سیٹ کر دیتا ہے تو پی ٹی آئی کے 25 ووٹ ختم ہو جائیں گے اور اگر دوبارہ سے وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے تو پھر پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس اکثریت نہیں رہے گی۔ واضح رہے کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی کل تعداد 183 بنتی ہے۔ اس میں 25 منحرف اراکین بھی شامل ہیں جبکہ ق لیگ کے اراکین کی تعداد دس ہے۔ دوسری جانب حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 166 بنتی ہے، جن میں پارٹی سے ناراض چار اراکین بھی شامل ہیں۔ ن لیگ کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد سات ہے۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار سمیت آزاد اراکین کی کل تعداد پانچ ہے، جن کے ووٹ بدلتی صورتحال میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے اور کوئی امیدوار 186 ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر اسی وقت ’رن آف الیکشن‘ ہو گا، جس میں کسی امیدوار کا ایک بھی ووٹ زیادہ ہو گا تو وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی زیر غور ہے کہ ابھی تک پنجاب میں باقاعدہ طور پر کوئی گورنر موجود نہیں ہے۔ عمر چیمہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی قائم مقام گورنر بن گئے مگر انھوں نے ابھی تک گورنر کا حلف نہیں اٹھایا۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق انھیں یہ خوف بھی ہے کہ اگر وہ گورنر کا حلف اٹھائیں گے تو ڈپٹی سپیکر، قائم مقام سیپکر مقرر ہو جائیں گے، جس کے بعد پرویز الہیٰ کے خلاف بطور سپیکر پنجاب اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد وہ اپنا سپیکر کا عہدہ کھو سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں اگر الیکشن کمیشن اپنے فیصلے میں منحرف اراکین کو ڈی سیٹ نہیں کرتا تو اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اب کوئی شخص اگر فلور کراسنگ کرتا ہے تو اس کے معاملے کو سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے مطابق دیکھا جائے گا۔ جبکہ یہ امکان ہے کہ الیکشن کے دن منحرف اراکین فلور کراسنگ کے بجائے الیکشن کی کارروائی کے دن غیر حاضر ہو جائیں۔سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ ’اگر کوئی رکن پارٹی کی پارلیمان اجلاس میں دی گئی ہدایات کے خلاف کسی کو ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔‘ جبکہ پنجاب کے منحرف اراکین کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’ہم تو پارٹی کے ناراض اراکین تھے اور ہم سے پارٹی نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں پارلیمانی اجلاس میں بلا کر کوئی ہدایت کی گئی۔‘قانونی ماہر کے مطابق ایسی صورت میں فیصلہ الیکشن کمیشن کو دونوں فریقین کے ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے کرنا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.