کیا ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے سب ادارے پابند ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئینی ماہرین صاف صاف بتا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) شہزاد ملک لکھتے ہیں کہ” آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارٹی قیادت کی ہدایت سے انحراف کرنے والے ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا مگر اس بارے میں آئینی وکلا کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔

وکلا کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ’ایڈوائزری جیورسڈکشن‘ کے تحت اس صدارتی ریفرنس پر رائے دی ہے اور متعقلہ ادارے اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ وہ اس پر عمل درآمد کریں جبکہ دوسرے دھڑے کے وکلا کا کہنا ہے کہ چونکہ آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے اور انھوں نے آئین کے اس آرٹیکل کی جو تشریح کی ہے اور جو رائے دی ہے اس پر تمام ادارے عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔ ’صدارتی ریفرنس پر رائے دے کر آئین میں ہی ترمیم کردی گئی‘ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے صدر کے ریفرنس پر ایڈوائس دیتے ہوئے ’پاکستان کے آئین میں ہی ترمیم کر دی ہے جس کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے۔‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے جبکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 95 کے تحت کوئی بھی منحرف رکن نہ صرف ووٹ ڈال سکتا ہے بلکہ اس کا ووٹ شمار بھی ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملکی آئین سب سے مقدم ہے اور جب ملکی آئین میں کسی بھی منحرف رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا تو سپریم کورٹ ایسا کیسے کرسکتی ہے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ’یہاں پر تو تین ججوں نے صدارتی ریفرنس پر رائے دے کر اس میں ترمیم کر دی۔‘ انھوں نے کہا کہ اپنی رائے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ منحرف ارکان کی نااہلی کی مدت کا فیصلہ کرے جبکہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ منحرف رکن صرف اسی مدت کے لیے ڈی سیٹ ہوگا جس مدت میں انھوں نے پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے ووٹ کاسٹ کیا تھا۔

سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ رائے دی ہے جس کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا حکومت پر منحصر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم سپریم کورٹ کی یہ رائے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھتے ہیں اور وفاقی کابینہ سپریم کورٹ کی اس رائے کو تسلیم نہیں کرتی تو وفاقی کابینہ کا فیصلہ زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی اس رائے کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر آئین کا آرٹیکل 63 اے ’بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔‘ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اسی طرح تو اگر سادہ اکثریت سے کوئی جماعت حکومت بنا لے تو اس کے خلاف عدم اعتماد لائی ہی نہیں جاسکتی کیونکہ منحرف رکن کے ووٹ عدم اعتماد کی تحریک میں شمار نہیں ہوں گے جس سے جو کہ جمہوریت کی آڑھ میں آمریت کو پروان چڑھائے گا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ سپریم کورٹ نے کسی بھی معاملے پر کوئی رائے دی ہو تو تمام ادارے اس رائے پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں کیونکہ اس بارے میں سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 187 کا بھی حوالہ دیا جو کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے سے وفاقی حکومت تو متاثر نہیں ہوگی تاہم اس رائے کے بعد پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے ہونے والے انتخابات کالعدم ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اس رائے کے بعد پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتحابات دوبارہ ہوں گے۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب وزارت اعلی کے عہدے کے لیے دوبارہ انتخابات کے بارے میں کہہ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت عمر سرفراز چیمہ کو بطور گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا چکی ہے اور ان کی جگہ پر بلیغ الرحمان کو بطور گورنر پنجاب تعینات کرنے کی سمری بھجوائی جاچکی ہے۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ اگر صدر مملکت حکومت کی طرف سے بھیجی گئی سمری کو دس روز میں منظور نہیں کرتی تو یہی تصور کیا جائے گا کہ صدر کی طرف سے سمری منظور کر لی ہے۔

’اب کوئی بے وقوف رکن ہی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالے گا‘موجودہ قوانین کے تحت کسی بھی حکومت کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے اور ایسی صورت میں تمام اراکین کے ووٹ شمار ہوں گے جس کے بعد یہ تحریک کامیاب یا ناکام ہوسکتی ہے۔ مگر اس ترمیم کے بعد بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اب کسی سادہ اکثریت والی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جاسکے گی کیونکہ منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے۔ اس پر ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد اب اس صورتحال نے جنم لیا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی کی ہدایت کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بجٹ یا آئینی ترامیم میں ووٹ نہیں دے سکتے کیونکہ ان کا ووٹ شمار ہی نہیں ہوگا۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد اب اسی صورت ممکن ہے جب ایک مخلوط حکومت ہو جیسے عمران خان کی تھی اور اتحادی اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں۔ سلمان اکرم راجہ کا خیال ہے کہ پنجاب میں ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کا الیکشن کرانا ہوگا۔ ‘فیصلے سے قبل آرٹیکل 63 اے کی تشریح یہی تھی کہ منحرف رکن کا ووٹ گنا جائے گا اور اس کے بعد اگر جماعت کا سربراہ چاہے گا تو اس رکن کے خلاف کارروائی ہوگی اور اس طرح پارلیمانی پارٹی کے حکم کے خلاف ووٹ دینے پر وہ ڈی سیٹ ہوجائے گا۔ ‘لیکن آج کے فیصلے کے بعد کوئی بے وقوف رکن ہی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالے گا کیونکہ اس کا ووٹ تو گنا ہی نہیں جائے گا۔ یہ ایک بے سود عمل ہوگا۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published.