دورہ امریکہ!!!! کیا بلاول تعلقات پر پڑی برف پگھلا سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے ؟ سینئر کالم نگار دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) عبداللہ جان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اپنے پہلے غیر ملکی سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ خوراک کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے علاوہ امریکی حکام خصوصاً اپنے ہم منصب انٹنی بلنکن سے ملاقاتیں کریں گے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ایک ایسے وقت میں امریکہ گئے ہیں، جب دونوں ممالک کے تعلقات بظاہر تاریخ کی بدترین سطح پر ہیں اور مبصرین کی رائے میں اس دورے کی اہمیت محض علامتی ہی ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ دورہ امریکہ سے طویل مدتی معاہدوں یا مفادات کی توقع نہیں رکھی جانی چاہیے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’اسے ہم برف کے پگھلنے سے تعبیر کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی۔‘ تاریخی طور پر پاکستان ہمیشہ امریکی کیمپ کا حصہ رہتے ہوئے خطے میں واشنگٹن کے مفادات کے تحفظ میں پیش پیش رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ اسلام آباد کا غیر ملکی امداد پر حد سے زیادہ انحصار بتایا جاتا ہے۔ ماضی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مختلف اوقات میں نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں اور اس دوران حد سے زیادہ قربت کے علاوہ بدترین نفرتوں کا اظہار بھی دیکھنے کو ملا۔ خصوصاً سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات سرد مہری کی راہوں پر گامزن رہے اور عمران خان کے اپنی حکومت ہٹانے میں مبینہ امریکی عمل دخل سے متعلق الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان حائل خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا موجودہ دورہ گذشتہ سال ستمبر میں پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح کا رابطہ ہو گا۔ بین الاقوامی امور کے ماہر حسن عسکری کے خیال میں واشنگٹن پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اسلام آباد میں نئی انتظامیہ سے بات چیت کرنے کا خواہش مند ہو گا۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’اس دورے کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار بہت حد تک اس بات پر ہو گا کہ پاکستان مختلف ایشوز پر کیا موقف اختیار کرتا ہے۔‘

پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے بعد واشنگٹن بلاول بھٹو زرداری کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی کم مدت کا بھی بخوبی احساس ہے اور اسی لیے کسی قسم کی طویل مدتی گفتگو کا امکان بہت کم ہے۔بقول ڈاکٹر رفعت حسین: ’دوسری طرف امریکہ میں یہ احساس بھی موجود ہوگا کہ بلاول بھٹو سے بات چیت دراصل اسلام آباد میں موجود اتحادی حکومت سے گفتگو ہے نہ کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے۔‘ تاہم سابق وزیر خارجہ اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے اس دورے کا واحد مقصد امریکی حکام کے ساتھ تصاویر بنوانا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکام وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ شہباز شریف کی اتحادی حکومت کو ’غیر اہم‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’امریکی پاکستان میں ان لوگوں سے بات کیوں نہیں کریں گے جو واقعی اہمیت رکھتے ہیں۔‘ بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے کم عمر ترین وزیر خارجہ ہیں، جو اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے پر امریکہ جیسے اہم ملک پہنچے ہیں۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ 33 سالہ بلاول بھٹو زرداری واشنگٹن میں تجربہ کار اور گھاگ امریکی رہنماؤں سے پاکستان کے قومی مفادات کی خاطر مذاکرات کریں گے۔ یاد رہے کہ امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ اینٹنی بلنکن کی عمر 60 سال ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن 79 سال کے ہیں جبکہ امریکی پارلیمان کے اراکین کی اکثریت بھی عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہے۔

خوراک کے تحفظ سے متعلق کانفرنس کے موقعے پر پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر جو بائیڈن کے ساتھ بیٹھک کے امکانات بھی موجود ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں امریکی عہدیدار بلاول بھٹو کی ایک اچھا مقرر اور خیالات و نظریات کی وضاحت کے باعث حوصلہ افزائی کریں گے۔ تاہم تجزیہ کار حسن عسکری کے خیال میں امریکیوں سے مذاکرات کرنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ بلاول بھٹو کیسی کارکردگی دکھلاتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی دورے پر وزیر خارجہ صرف اپنی مرضی کی باتیں نہیں کر سکتا بلکہ دفتر خارجہ بھی اپنی اِن پٹ دیتا ہے۔ ’اکثر دفتر خارجہ، وزیر خارجہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اس ملک کی سٹینڈرڈ پالیسی سے باہر نہ جانے پائیں۔‘ اسی طرح جنرل (ر) امجد شعیب بھی سمجھتے ہیں کہ بلاول کی صلاحتیں ابھی خام ہیں اور امریکیوں کے مقابلے میں ان سے کسی بڑی کامیابی کی امید رکھنا قبل از وقت ہوگا۔ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے اس خطے میں پاکستان ایک ضرورت ہے اور بلاول بھٹو کے ساتھ مذاکرات بھی اسی تناظر میں ہوں گے۔ جبکہ حسن عسکری نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے امریکی دورے سے متعلق اوپن اینڈڈ پیشگوئی کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات ایک کٹھن کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو ایک ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس میں دنیا سے پاکستان کے مفادات کی خاطر باتیں بھی منوانی ہیں اور ملک میں سیاسی صورت حال کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ایک ایسے وقت میں امریکہ جا رہے ہیں جب روس اور یوکرین کی جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور واشنگٹن پاکستان سے روسی حملے کی مذمت کا خواہاں ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اسی روز ماسکو پہنچے تھے جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین پر حملے کا اعلان کیا تھا۔

حسن عسکری کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان پر روس کی مذمت کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا اور ایسا کرنے کی صورت میں سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانیے کو تقویت حاصل ہو گی۔ ’موجودہ حکومت نے روس کے مسئلے پر نرمی کا مظاہرہ کیا تو اسے عمران خان سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔‘تاہم پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ رواں برس اپریل میں اسلام آباد میں منعقدہ سکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب میں یوکرین پر روسی حملے کو جارحیت قرار دے چکے ہیں۔ ’بلاول بھٹو یہی پالیسی لے کر امریکہ جائیں گے اور اس سے پاکستان کو کافی فائدہ ہو گا۔‘اس حوالے سے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ پاکستان میں غیر ملکی مداخلت اور ڈکٹیشن کے خلاف عوامی رائے بن چکی ہے، جس کے خلاف عمل کرنا کسی حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بلاول بھٹو زرداری کے لیے روس یوکرین جنگ کے حوالے سے عوامی جذبات اور خواہشات کے مخالف موقف اختیار کرنا مہنگا سودا ثابت ہو سکتا ہے۔‘ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی خواہش کے باوجود پاکستان چین کو کوئی غلط اشارہ دینے کے حق میں نہیں ہے اور اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ کے ساتھ تفصیلی ٹیلی فون کال کی، جس کے دوران انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لیے حکومت کے ’پختہ عزم‘ کا اعادہ کیا۔ دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری امریکہ سے واپسی پر چینی حکام سے ورچوئل اجلاس میں بات چیت کریں گے۔ حسن عسکری کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکی پالیسی کا مقصد چین اور روس کو ٹارگٹ کرنا ہے اور پاکستان کو بھی اسی لائن پر چلنے کا کہا جائے گا، جس کی حمایت اسلام آباد کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے دہشت گردی سے متعلق معلومات کی شراکت پر بات کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات خصوصاً چینی مفادات کے خلاف واقعات کے تناظر میں ایسی شراکت اور تعاون کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ چین پاکستان میں سی پیک کے تحت بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، تاہم تحریک انصاف حکومت کے دوران بیشتر منصوبے تعطل کا شکار رہے۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں امریکہ کا مرکزی پارٹنر ہے اور واشنگٹن چاہے گا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔انہوں نے کہا: ’امریکی بھارت کو چین کے خلاف تیار کر رہے ہیں، اسی لیے نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا ملک نئی دہلی کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا سکے۔‘اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کے موجودہ امریکی دورے کے دوران پاکستان بھارت سے متعلق اپنی پالیسی کو دہرائے گا اور اس سلسلے میں کسی نئی بات کی توقع بہت کم ہے۔ تاہم جنرل (ر) امجد شعیب کے خیال میں واشنگٹن پاکستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور تجارت شروع کرنے کا مشورہ دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی بلاول بھٹو زرداری کو کچھ ایسی باتیں بھی سمجھانے کی کوشش کریں گے، جو مستقبل میں پاکستان سے منوا کر امریکی مفادات کا حصول ممکن ہو سکے گا۔‘بقول جنرل (ر) امجد شعیب: ’امریکیوں کا طریقہ کار یہی ہے، وہ ایک ڈیمانڈ پوری ہونے پر دوسرا مطالبہ رکھ دیتے ہیں اور یوں ہمیشہ ڈو مور ہی چلتا رہتا ہے۔‘مبصرین اور تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے دورہ امریکہ میں افغانستان پر بھی بات چیت ہو گی، جس کا محور پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا تھا کہ داعش کا دوبارہ سر اٹھانا اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں پاکستان ضرور امریکی مدد کا طلب گار ہو گا۔ جبکہ حسن عسکری کا کہنا تھا کہ امریکہ بھی افغانستان میں سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کا تعاون اس کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خیال میں پاکستان نے افغانستان میں امریکی مادات کا تحفظ کیا لیکن واشنگٹن نے اس کو اہمیت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکی تھینک ٹینکس بھی اپنی انتظامیہ کے ان غلط فیصلوں اور ترجیحات پر تنقید کر رہے ہیں۔

’امریکہ میں اس غلطی کا احساس ہو رہا ہے کہ پاکستان کو اہمیت نہ دے کر انہوں نے بہت کچھ گنوایا ہے۔‘جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کروانے کے لیے پاکستان کا تعاون اور امداد چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اسلام آباد سے افغانستان پر ڈرون حملوں کی خاطر ایئر بیس اور ایئر سپیس حاصل کرنے کا متمنی ہو گا۔ یہ دورہ امریکہ ایک ایسے وقت بھی ہو رہا ہے جب دوحہ میں پاکستان بینن الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ مالی امداد پر بات چیت شروع کرنے والا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کا آئی ایم ایف کی پالیسیوں میں بڑا اہم کردار رہا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ میں مداکرات کی تصدیق کی۔ پاکستانی ٹیم توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کی بحالی کے لیے 25 مئی تک آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ تکنیکی اور پالیسی سطح پر بات چیت کرے گی۔ سیکرٹری خزانہ، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ کے ساتھ ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین دوحہ پہنچے ہیں جبکہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بعد میں پاکستانی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ حسن عسکری کے خیال میں امریکی مطالبات مان لینے کی صورت میں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اور آئی ایم ایف میں بھی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم جنرل (ر) امجد شعیب کے خیال میں اگر آج اسلام آباد نے ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کی خاطر امریکی پالیسی اپنائی تو مستقبل میں اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی مطالبات اس حد تک بڑھ سکتے ہیں کہ ایک دن پاکستان کو نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) پر دستخط کرنے کا بھی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی طرف سے تجویز کردہ اقدامات میں سے محض چند ایک کے نامکمل رہنے کے باعث گرے لسٹ میں ہی موجود ہے۔’خارجہ پالیسی میں ذاتی انا نہیں بلکہ قومی مفاد مقدم ہو گا‘نامہ نگار مونا خان کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کی بیٹس رپورٹرز کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں کہا کہ اس سے پہلے کی حکومت میں خارجہ پالیسی میں ذاتی انا تھی لیکن انہوں نے طے کیا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی چلائی جائے گی جس میں پاکستان کا مفاد ہوگا۔حنا ربانی نے کہا کہ فارن پالیسی میں طے یہ کیا ہے پاکستان تمام بین القوامی فورمز میں شرکت بھی کرے گا اور اپنا نکتہ ہر فورم پر شئیر کرے گا۔ کیا مخلوط حکومت میں خارجہ پالیسی ایک جیسی ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ مل کر کام کر رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی وہی ہے جو پاکستان کے حق میں ہے۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو اٹھارو مئی کو امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات وفود کی سطح پر ہو گی۔ یہ ملاقات پاکستان کے لیے بہت اہم ثابت ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے وزیر خارجہ سے بھی دو طرفہ ملاقات ہے۔امریکہ سے واپسی کے بعد وزیر خارجہ چین کا دورہ کریں گے جو یقینی طور پر اہم ملاقات ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.