اقتدار سے رخصتی !!!!! عمران خان نے تحریک عدم اعتماد پر اچانک موقف کیوں بدلا؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سینئر کالم نگار نے سب عیاں کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) محمد افضل عاجز لکھتے ہیں کہ” اقتدار سے رخصتی کے بعد بہرحال عمران خان کو نفسیاتی طور پر کچھ پرابلم ضرور ہے اور ایسا ہو بھی جاتا ہے انسان جب کسی بڑے منصب پر ہو اور پھریہ بھی یقین رکھتا ہو کہ اس کے پاؤں کے نیچے جو تخت ہے یہ کسی کے احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا دائمی حق ہے اوریہ حق اس کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے تو پھر اقتدار سے رخصتی واقعی تکلیف دہ ہوتی ہے

عمران خان ان دنوں اس تکلیف کی شدت کو ضرورت سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں کسی ایک بات پر قائم نہ رہنا اور دوسرے دن اپنی ہی بات کو کسی اور مفہوم میں بیان کرنے میں جو.. قوت.. عمران خان کے پاس ہے ان کے ہم عصر کسی دوسرے سیاستدان میں نہیں ہے وہ جب اقتدار میں تھے تو صبح دوپہر شام ان کے بیانات بدلتے رہتے تھے جو بات صبح درست قرار دیتے دوپہر کو غلط ثابت کر دکھاتے شام کو کوئی نیا شگوفہ چھوڑ دیتے یہ نہیں پاکستان میں حکمران بے عملی سے خالی رہے ہیں الحمداللہ ہر حکمران میں یہ خوبی موجود نظر آئی مگر عمران خان تو اس مقام پر تھے کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے گزشتہ پونے چار سال کے دوران کوئی ایک نظام بھی پسند نہ آیا ملائشیا کی مثال دی اور پھر امریکی نظام کی تعریف کی ابھی تعریف باقی تھی کہ چائنا کو بطور مثال پیش کیا اور کہا چائنا میں ریاست مدینہ کے جیسا نظام ہے کسی نے سمجھایا ہوگا کہ اللہ کے بندے ان کے ہاں نہ اللہ ہے نہ رسول ہے اور نہ قرآن تو وہاں یہ نظام کیسے بس پھر ریاست مدینہ کی طرف پلٹ پڑے اور بات بات پہ ریاست مدینہ کا نام لینا شروع کر دیا مگر اچانک ہندوستان کے نظام حکومت کو سراہنا شروع کر دیا اور کہا ہندوستان واحد ملک ہے جہاں آزاد خارجہ پالیسی یعنی اس خطے میں اگر کوئی قوم غیرت مند ہے تو وہ ہندو ہے اور اگر کوئی جرائت مند لیڈر ہے تو وہ مودی ہے اگر آپ کھلے دل کے ساتھ عمران خان کے بدلتے ہوئے بیانات کا جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ عمران خان کسی ایک بات پر قائم رہنے والے ہر گز نہیں ہیں وہ کسی بھی وقت کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں عدم اعتماد کے ابتدائی ایام میں انہوں نے بھرے جلسے میں باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر کہا اللہ نے میری دعا سن لی میں چاہتا تھا کہ یہ لوگ عدم اعتماد لائیں تاکہ میں تینوں کو ایک ہی نشت میں نشانہ بناؤں مگر ایک ہفتے کے اندر انہوں نے تحریک کے حوالے سے اپنے دکھ کا اظہار کرنا شروع کردیا اور بڑی ہوشیاری کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیتے ہوئے بیان داغنا شروع کر دئیے مگر اب.کئی اور بھی.

ان کے نشانے پر ھیں وہ ایک دن ان کا نام لیتے ہیں مگر دوسرے دن بتاتے ہیں کہ انہوں نے ان کا نام نہیں لیا عمران خان اقتدار میں تھے تو بھی نواز شریف شہباز شریف اور بطور خاص مولانا فضل الرحمن ان کی تنقید کی زد میں تھے آصف علی زرداری سے وہ مختلف مواقع پر سیاسی فائدہ بھی اٹھاتے رہے مگر اب جب عدم اعتماد کی تحریک کو آصف علی زرداری نے عملاً اپنے ہاتھ میں رکھا اور شہباز شریف کو وزیراعظم بھی بنوا دیا ہے تو عمران خان کیلئے یہ ایک کڑوا گھونٹ ہے وہ جس طرح کی ہواؤں میں میں اڑ رہے تھے وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ شہباز شریف بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں سو اس وقت عمران خان سڑکوں پر ہیں اور قومی اسمبلی سے ایک بیان کے ذریعے اپنے تمام اراکین سمیت مستعفی ہو چکے ہیں گزشتہ اسمبلی میں بھی انہوں نے ایسا کیا تھا مگر بعد میں واپس بھی آگئے اور بقایا جات بھی وصول کر لیے اب بھی ان کے ممبران اسمبلی تمام مراعات اور تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اسمبلیوں کے خاتمے تک وصول کرتے رہیں گے سوال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ وہ اپنا کردار ادا کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں اور قومی اسمبلی میں عوامی نمایندگی کا حق کیوں ادا نہیں کرتے جواب یہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف وزارت عظمی کیلئے پیدا ہوئے ہیں اور اگر وہ وزیراعظم نہیں ہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے سو اس وقت وہ دوبارہ اقتدار کے حصول کیلئے روزانہ کی بنیاد پر نئے نئے شگوفے چھوڑ رہے ہیں اور حصول اقتدار کیلئے مذہب تک استعمال کر رہے ہیں ابھی گزشتہ روز انہوں نے جماعت کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے لوگ مکہ اور مدینہ جا رہے ہیں اور پھر شہر یار آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم عمرے پر چلے گئے مجھے بتاؤ یہ کون سا وقت تھا عمرے پہ جانے کا یہ وقت تو عوام سے رابطے کا ہے کیونکہ ان دنوں ہماری مقبولیت بڑھی ہے اور ہمیں ہر وقت عوام کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہیئے خود میں بھی عمرے پر جانا چاہتا تھا مگر نہیں گیا کیونکہ یہ وقت عوام سے رابطے کا ہے اندازہ کیجیے ایک قومی لیڈر کی سوچ اور اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا نمونہ کہ وہ عوامی رابطے کو عمرے سے زیادہ افضل کام سمجھتا ہے میں حیران ہوں کہ یہ عمران خان کو کیا ہوتا جارہا ہے…………

Leave a Reply

Your email address will not be published.