ملک میں فوری انتخابات کیوں ممکن نہیں ؟؟؟ سینئر کالم نگار نے اہم وجوہات بیان کر دیں

لاہور: (ویب ڈیسک) وجاہت مسعود اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” ٹھیک ننانوے برس پہلے یعنی مئی 1923 ءمیں روس سے ہجرت کر کے نیویارک آنے والے ایک غریب یہودی جوڑے کے ہاں جوزف ہیلر (Joseph Heller) پیدا ہوا۔ انیس برس کی عمر میں امریکی ائر فورس میں شامل ہوا۔ اطالوی محاذ پر جوزف ہیلر نے ساٹھ سے زیادہ فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا لیکن اس کے جذبات جنگ مخالف ہی رہے۔

اس کا ذاتی احساس یہ تھا کہ جنگ میں شریک سپاہی گھر واپس لوٹنے کی شدید خواہش رکھتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ گھر لوٹنے سے قبل جنگ جیتنا ضروری ہے اور اس جنگ میں جان بھی جا سکتی ہے۔ یہ الجھن جوزف ہیلر کے لاشعور میں بیٹھ گئی۔ اس نے جنگ ختم ہونے کے بعد اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر ملازمت کے ساتھ ساتھ 1953 ءمیں ایک ناول لکھنا شروع کیا۔ 1961 ءمیں شائع ہونے والے اس ناول کا عنوان Catch 22 تھا۔ جوزف ہیلر کو کیا معلوم تھا کہ ٹھیک اکسٹھ برس بعد 2022 ء کے برس میں پاکستان نامی ملک صحیح معنوں میں Catch 22 کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستان میں حکومت اور ریاست شدید معاشی بحران اور گہرے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں اور المیہ یہ ہے کہ معاشی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جائے تو سیاسی انتشار بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف سیاسی جوار بھاٹے سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر کی جائے تو معاشی بحران کے سمندری طوفان میں بدلنے کا خطرہ ہے۔ گھاگ صحافی ایسی صورت حال کو دلچسپ قرار دیا کرتے ہیں لیکن دراصل بائیس کروڑ لوگوں کے ملک کو گزشتہ نصف صدی میں اس سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پڑھنے والوں کے حق اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے عاجز اپنی رائے بیان کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں فوری انتخابات کی بجائے معاشی بحران پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔ میرے پاس اس رائے کے لیے دس وجوہات ہیں۔

1۔ موجودہ مخلوط حکومت نے پراجیکٹ عمران کی معاشی اور انتظامی ناکامی کے بعد تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈالا تھا۔ اگر جمہوری قوتوں کا یہ اتحاد عوامی مقبولیت کھونے کے اندیشے میں مبتلا ہو کر ضروری معاشی اقدامات نہیں کر سکتا تو یہ اپنی سیاسی اور معاشی نا اہلی پر مہر لگانے کے مترادف ہو گا۔ 2۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ سمیت ضروری انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن کا انعقاد بے معنی مشق ہو گی۔ نیز الیکشن کمیشن کو حد بندیوں کے لیے ایک خاص مدت درکار ہے۔ اس وقت الیکشن کمیشن نامکمل ہے اور پارلیمنٹ میں معمول کی صورتحال بحال کیے بغیر الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری ممکن نہیں۔ کچھ حلقوں کی رائے میں اس رکاوٹ پر ٹیکنو کریٹ حکومت کے ذریعے قابو پانا چاہیے۔ یہ دراصل اس مستقل بیروزگار بابو شاہی کی خواہش ہے جو اپنی مفروضہ اہلیت کو ووٹ پر ترجیح دیتے ہیں۔ 3۔ فوری انتخابات کی صورت میں نگران حکومت کی تشکیل کے آئینی تقاضے کیسے پورے ہو سکیں گے جبکہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ 4۔ فوری انتخابات کی صورت میں عبوری عرصے کے دوران آئی ایم ایف اور دیگر ممکنہ ذرائع سے فوری مالی معاونت کی امید ختم ہو جائے گی۔ 5۔ اگر عمران خان کے سیاسی دباؤ میں انتخابات کرانا ہیں تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ شکست کی صورت میں عمران خان انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیں گے۔ 6۔ اگر عمران خان کے نادیدہ پشتی بان اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ ایک دستوری حکومت کو قبل از وقت انتخابات پر مجبور کر سکتے ہیں تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ یہ ہنر مند انتخابی عمل میں 2018 ءکی دستکاری کا اعادہ نہیں کریں گے۔
7۔ عمران حکومت نے تحریک عدم اعتماد سے صرف دس روز قبل پٹرول اور بجلی پر جو سبسڈی دی تھی اس کا ماہانہ بوجھ ( 102 ارب روپے ) حکومت پاکستان کے کل ماہانہ اخراجات ( 45 ارب روپے ) سے دوگنا سے بھی بڑھ چکا ہے۔ عمران خان نے قومی معیشت کے خلاف یہ سنگین جرم آئندہ ممکنہ حکومت کو مفلوج کرنے کے لیے کیا تھا۔ اگر ایک قومی رہنما اپنے سیاسی مفاد کے لیے ملکی معیشت کے اعلیٰ ترین مفاد کو داؤ پر لگا سکتا ہے تو آئندہ انتخاب میں ممکنہ کامیابی کی صورت میں اس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ 8۔ تادم تحریر حکومت کو ایک لیٹر پٹرول پر 87 روپے سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ زرمبادلہ کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر سبسڈی واپس لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عوام پر یہ بوجھ یک لخت ڈالنا ہے یا مرحلہ وار، اس سخت اقدام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی سے گریز ممکن نہیں۔ 9۔ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں اگر فوری انتخابات کے نتیجے میں تین یا چار ماہ کی مدت کے بعد دوبارہ کامیاب ہو جاتی ہیں تو معاشی بحران مزید سنگین ہو چکا ہو گا۔ کسی دستوری تقاضے کے بغیر محض سیاسی اسباب کی بنا پر قومی معیشت کو تین ماہ کے لیے معلق رکھنا بذات خود قوم کے خلاف ناقابل تلافی سیاسی جرم ہو گا۔ 10۔ پاکستان کے نادیدہ منطقہ ہائے اختیار کی زیر زمین چٹانوں میں کشمکش کے واضح آثار موجود ہیں۔ حساس معاملات پر رائے زنی کیے بغیر بھی یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ معاشی بحران اور سیاسی اٹھا پٹخ کی غبار آلود فضا میں ریاستی بجرے کے واحد مستحکم تختے کو آزمائش میں ڈالنا دانش مندی نہیں ہو گی۔ درویش نے اسمبلیاں تحلیل کر کے فوری انتخابات منعقد کرانے کے خلاف اپنی رائے واضح طور پر بیان کر دی۔ آپ بھی غور فرمائیے کہ فوری انتخابات کی تجویز پر کن حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور قلم میں بجلی بھر جاتی ہے۔ اگر آپ ان مہربانوں کو پہچانتے ہیں تو خاکسار کی معروضات کا تناظر سمجھنا آپ کے لیے مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.