عام انتخابات بھی جلدہونگے ، خان صاحب جیت بھی جائیں گے اور حکومت بھی بنا لیں گے ، مگر اسکے بعد کیا ہوگا ؟ ہارون الرشید کی حیران کن پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟اب تو کوئی طوطی بھی نہیں۔عقاب ہیں اور گدھ ہیں اور کبھی تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ عقاب کون ہے اور گدھ کون؟ قیام پاکستان کا فیصلہ ہو چکا‘جب قائد اعظم کے

ایک شناسا نے ان سے پوچھا:کیا آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی واقعی ایک قوم بن جائیں گے۔ممکن ہے‘اس میں پچاس برس لگ جائیں۔ظاہر ہے ایک ایسا آدمی جو قدرے بے تکلفی کے ساتھ اس بارعب آدمی سے بات کر سکتا ہو‘ زائد از ضرورت گفتگو سے جو گریز کرتے تھے۔ ’’ممکن ہے‘ اس میں ایک سو برس لگ جائیں‘‘ انہوں نے جواب دیا۔کیا ان کے ذہن رسامیں‘امریکی تاریخ کے نشیب و فراز تھے یا دوسری اقوام کے اتار چڑھائو بھی؟۔ پچھہتر برس بیتنے کو آئے اور ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔کہا جاتا ہے کہ کپتان نے قومی خودداری کی جو تحریک برپا کی ہے‘ وہ اسے ایک قوم میں ڈھال سکتی ہے۔عمران خان کی کامیابی کتنی ہی عظیم اور قابل قدر ہو‘ جس نے انہیں دیوتا کا سا درجہ عطا کر دیا ہے۔ مگر یہ ایک اطمینان بخش جواب ہرگز نہیں۔ مصطفی کمال چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ باتیں بنانے کے سوا انہوں نے کیا کیا؟جب تک اسٹیبلشمنٹ کی تائید انہیں حاصل رہی‘ وہ قرار اور اطمینان میں رہے۔جیسے ہی اس کی حمایت سے محروم ہوئے‘ان کی پارٹی بکھرنے لگی۔ نون لیگ‘ پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کا ذکر کیا کہ ان کے حریف ہیں‘ جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکن بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں‘ خواہ کھل کر اظہار نہ کریں۔اتنی سی بات تو جناب سراج الحق کئی بار دہرا چکے ہیں کہ عمران خان اور ان کے حریفوں میں کوئی فرق نہیں۔ برسبیل تذکرہ تین ایسے آدمی جماعت اسلامی کی صفوں سے ابھرے ہیں‘جن کے انداز سیاست نے خلق خدا کو چونکا دیا ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد جو ہر اہم قومی معاملے پر کمال جرات سے بات کرتے ہیں۔گوادر کے مولانا ہدایت اللہ‘جو ساحلِ سمندر سے مکینوں کے اجتماعی ضمیر کی آواز بن کے ابھرے ہیں اور ہاں! نعیم الرحمن جو کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ اس محروم شہر کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ مگر کیا عمران خان کا انداز غیر جذباتی ہے‘ہیجان میں‘طوفانی پانیوں میں حل تجویز کرنے کی بجائے حریفوں پر وہ آگ بن کے برستے ہیں۔آج بھی عثمان بزدار‘ ان کے سٹیج پر موجود ہوتے ہیں‘ جو ہماری سیاسی تاریخ کے بدترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔آج بھی حقیقی تحمل اور غور و فکر کی دولت سے وہ محروم ہیں‘ کسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول‘ جس کے بغیر ناممکن ہے۔تاریخ کا سبق یہ ہے اور اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے کہ اظہار صداقت کافی نہیں؟سچی کامرانی کے لئے تحمل اور تدبر کی ضرورت ہے۔برقرار رہنے والے صبر کی۔ امکان بہت ہے کہ حکمت عملی میں معمولی سی تبدیلیاں بھی اگر کر سکیں تو انتخابی فتح سے وہ ہمکنار ہو سکتے ہیں۔کل نہیں تو پرسوں‘ پرسوں نہیں تو ترسوں۔مگر یہ عثمان بزدار‘ مگر یہ محترمہ فرح گجر‘ جن کا خاندان بھی ان کے حق میں گواہی دینے پر آمادہ نہیں۔خان صاحب اس کا دفاع کیوں کرتے ہیں۔ جیت جائیں گے اور جیت کر وہ حکومت بھی بنا لیں گے۔دھاندلی سے ہرا دیئے گئے تو طوفان اٹھائے رکھیں گے اور آخر کار دوبارہ الیکشن کرانا ہوں گے۔خواہ وہ اپنے حریفوں کو چاروں شانے چت کر دیں‘سوال یہ ہے کہ کیا ملک قرار پا سکے گا۔مطلوب امن اور سیاسی استحکام حاصل ہو سکے گا‘معاشی فروغ جس کے بغیر ممکن نہیں وہ افلاس‘ جس نے ہمیں دریوزہ گر بنا رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ کشمکش جاری رہے گی۔بدذوقی پر مبنی بد کلامی پہ مشتمل وہی ہیجان انگیز کشمکش۔ تو پھر اس بحران کا حل کیا ہے؟طوفانی پانیوں میں لرزتی ہماری کشتی ساحل سے کیونکر ہمکنار ہو سکتی ہے؟ظاہر ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ کئے جانے والے ایک مکالمے سے ‘ جو کھیل کے کم از کم قواعد طے کر دے ۔تمام فریق خوش دلی اور سختی کے ساتھ جن کی پاسداری کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت مشکل ہے مگر مشکل ہی تو ہے‘ ناممکن تو نہیں۔ ملّت کو جس کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا وہ قومی لیڈر بن کر ابھر سکتے ہیں؟ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.