کپتان اور پی ٹی آئی مقبولیت کی انتہا پر :اب اگر کھمبوں کو ٹکٹ دیے جائیں تو انہیں بھی کامیابی ملے گی، تو پھر خان صاحب اس بار الیکٹیبلز کی بجائے واقعی کھمبوں کو ٹکٹ دے دیں ۔۔۔۔۔ ایک زبردست مشورہ

لاہور (صحافی گمنام ) عمران خان کو حکومت سے کیوں نکالا گیا ، یہ بات اب ہر خاص وعام جانتا ہے ۔اس وجہ سے عمران خان کے ساتھ عوامی ہمدردی اور حمایت میں اچانک بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ حکومت سے نکلنے کے بعد عمران خان نے متعدد بار کہا

کہ الیکٹیبلز نے انہیں دھوکا دیا اس لیے اب وہ الیکٹیبلز پر انحصار نہیں کریں گے ۔لیکن چند بار یہ بات کرنے کے بعد خان صاحب شاید اس بات کو بھول چکے ہیں ، لیکن ہمیں یہ بات اچھی طرح یاد ہے ، قوی امکان ہے کہ جلدانتخابات کا اعلان ہو گا اور پھر عمران خان کا ہر جلسہ الیکشن کمپین کے ضمن میں ہو گا ، مگر اس بار ٹکٹوں کی تقسیم کیسے ہو گی ، یہ بات مبہم ہے ۔ اس حوالے سے گزارش ہے کہ اگر خان صاحب اپنے اگلے دور حکومت میں ان مسائل سے بچنا چاہتے ہیں جو انہیں پچھلے دور حکومت میں اتحادیوں اور الیکٹیبلز کی وجہ سے فیس کرنا پڑے تو اس کا بہترین طریقہ اصل جمہوری طریق پر چلنے کا ہے ۔ جمہوریت یہ نہیں کہ سرمایہ کار اور ایلیٹ کلاس دولت کے بل بوتے پر اقتدار کے ایوانوں اور ملکی سیاست پر قابض ہو جائے ، بلکہ جمہوریت یہ ہے کہ ایک پڑھا لکھا ، قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والا اور عوامی مسائل کو سمھجنے اور انہیں حل کرنے کے لیے تجاویز دینے کے قابل عام اور غریب نوجوان بھی اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو سکے ۔ ہمارے ملک کے ہر شہر میں ایسے پڑھے لکھے ، قابل نوجوان موجود ہیں لیکن صرف غربت کی وجہ سے وہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے ۔اسکے باوجود وہ مقامی سطح پر سوشل ورک میں مصروف ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ موجودہ حالات میں عمران خان کو الیکٹیبلز اور اتحادیوں کو

بالکل اہمیت نہیں دینی چاہیے بلکہ ایسے نوجوانوں کو سامنے لانا چاہیے ۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف ایک بڑے کنونشن کا انعقاد کرکے باصلاحیت اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے انٹرویوز کر سکتی ہے ۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر عمران خان پورے ملک کے نوجوانوں کو اقتدار اور سیاست میں شریک ہونے کی دعوت دیں تو لاکھوں نوجوان کپتان کی کال پر اسلام آباد دوڑے چلے آئیں گے۔ اس سے نہ صرف تحریک انصاف کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو گا بلکہ پورے ملک کی عوام عمران خان اور تحریک انصاف کے اس اعلان کر اپنے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اور شاندار آغاز سمجھ کر اس فیصلے کی بھر پور حمایت کرے گی ۔ بے شک یہ بہترین اور قابل عمل راستہ ہے اور یہی جمہوریت ہے ۔ اس فارمولے کی کامیابی کا مجھے اس وجہ سے بھی یقین ہے کہ ان انتخابات میں تحریک انصاف جس کسی کو بھی ووٹ دے گی وہ مکمل طور پر عمران خان اور تحریک انصاف کی وجہ سے شاندار کامیابی حاصل کرے گا ۔تو پھر خان صاحب اس بار کھمبوں کو ووٹ دیجیے جو کامیابی کے بعد مضبوطی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور یہ کام کرکے آپ پاکستان میں ایک شاندار اور اصل جمہوری روایت کا آغاز کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر جائیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں رائج موجودہ جمہوریت میں بے شمار خامیاں اور خرابیاں موجود ہیں جنکی وجہ سے یہ نظام عوام کے لیے فائدہ مند بننے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کو پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی شکل میں رائج کیا جائے ۔ اب اس کام میں تحریک انصاف پہل کرتی ہے یا کوئی اور جماعت ۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.