(ن) لیگ والے برے پھنسے : اگلے الیکشن میں عمران خان سرخرو جبکہ شہباز شریف اینڈ کمپنی عوامی کٹہرے میں کھڑی ہو گی ۔۔۔۔۔ ایک حیران کن سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں حکمران اتحاد بھی مہنگائی کے طوفان کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ پی ڈی ایم بھا ن متی کا ایک کنبہ ہے لہٰذا طرح طرح کی بولیاں اس کے پلیٹ فارم سے بولی جارہی ہیں۔

پی پی پی اورجمعیت علما اسلام کا موقف ہے کہ سبسڈی ختم نہ کی جائے۔ نون لیگ بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف کا مینڈیٹ ہی یہ ہے کہ وہ معیشت کو سنبھالا دیں گے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ سبسڈی ختم کردی جائے تاکہ سرکاری خزانہ میں کچھ روپیہ جمع ہوسکے اور آئی ایم ایف بھی قرض دینے پر آمادہ ہو۔ اس کے برعکس پی پی پی اور جے یو آئی کو پٹرول بم گرانے سے عوامی ردعمل کا خوف بے کل کیے ہوئے ہے۔ حکمران اتحاد کے اندر پائے جانے والے تضادات اور متحارب سیاسی مفادات بھی اسے متفقہ حکمت عملی اختیار نہیں کرنے دیتے۔مخمصے کا شکار حکومت اب تشد د اور گرفتاریوں کا سوچ رہی ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کو زندگی سے محروم کرنے کا منصوبہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں مقبول عوامی لیڈروں کوبرداشت نہیں کیا جاتا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو رات کے اندھیرے میں تختہ دار پر پہنچا دیا گیا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دن دیہاڑے لیاقت باغ میں زندگی سے محروم کر دیا گیا۔ شواہد مٹانے کے لیے وہ جگہ بھی دھو دی گئی جہاں واقعہ ہوا ۔ امکانی گواہ بھی راتوں رات زندگی سے محروم ہوگئے ۔ بے نظیر کی موت کے بعد پانچ برس پی پی پی نے حکومت کی۔ بے نظیر کے مجرموں کوپکڑنے کے بجائے زرداری صاحب نے کہا :’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘۔عمران خان کا مقابلہ سیاسی میدان میں کیا جانا چاہیے۔ بیانیہ کا مقابلہ زیادہ موثر اور مقبول بیانیہ سے کریں۔ جلسہ کا جواب اس سے بڑا جلسہ کرکے دیں۔ سیاسی آئیڈیاز کو پابندیاں لگا کر قید نہیں جاسکتا۔ اگرپی ڈی ایم کے پاس عوام کو دینے اور کہنے کو کچھ بہتر ہے تو وہ گھروں سے نکلیں۔ گرم لو میں جلد کی خرابی کی پروا نہ کریں۔عوام کے پاس جائیں۔ لوگوں کو عمران خان کے طرزحکمرانی پر بہت سارے اعتراضات تھے لیکن اب وہ بھول چکے کہ عمران خان نے کیا غلط کیا تھا۔ اب کٹہرے میں نون لیگ، پی پی پی اور جے یو آئی ایف ہے ۔ اگلے عام الیکشن میں عمران خان کو اپنی کارکردگی کا حساب نہیں دینا بلکہ وزیراعظم شہباز شریف کو دینا ہے کہ آٹا، دال، چینی مہنگی کیوںہوئی؟حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم شہبار شریف جنہوں نے پنجاب میں ایک مضبوط حکمران ہونے کا تاثر قائم کیا تھا وہ اسلام آباد آکر متحارب مفادات کے حامل گروہوں میں تن تنہا کھڑے ہیں۔ جیسے اپنی پارٹی اور خاندان کے لوگوں سے مسلسل ٹانگ کھینچے جانے کا خطرہ لاحق رہتاہے۔ ایک خبر کے مطابق پی پی پی کے رہنما نیئر بخاری نے وزارت داخلہ کو عمران خان کو ’’تحویل‘‘ میںلینے کا مشورہ دیا ہے۔ مخلوط حکومت کے اندر یہ کھچڑی پک رہی ہے کہ بیس مئی سے پہلے پہلے پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں اور کارکنا ن کو قید کی کوٹھڑیوں میں ڈال دیا جائے تاکہ وہ اسلام آباد کی طرف مارچ نہ کرسکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.