شہباز سپیڈ بھی فیل : توقعات کے برعکس شہباز شریف کے حکومت میں آنے کے بعد بری طرح ناکام ہونے کی اصل وجہ کیا ؟ آپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلمان عابد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ، نئی حکومت کا قیام، نئے اور فوری انتخابات کا مطالبہ ، پہلے اصلاحات پھر انتخابات ، اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست اور فیصلے، اداروں کی بالادستی اورخود مختاری سے جڑے سوالات ، حزب اقتدار اور

حزب اختلاف سمیت رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد یا اداروں کے درمیان ایجنڈا کی طرف دیکھیں تو ایک دوسرے کے خلاف’’ سیاسی مہم جوئی یا سیاسی تقسیم ‘‘ کا کھیل عروج پر ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ہم ذاتی کردار کشی اورمنفی سیاسی مہم جوئی سے باہرنکلنے کے بجائے اس کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔جو بھی سیاسی یا غیر سیاسی فریقین ہیں سب کے سامنے محض اقتدار کا کھیل اورمخالفین کو جائز و ناجائز نیچا دکھا کر خود کو بالادست کرنا ہے۔پاکستان کی سیاست میں تبدیلی کا حالیہ اسکرپٹ بری طرح ناکامی سے دوچار ہے ۔ نئی حکومت بھی بن گئی اورنیا اقتدار بھی پرانے لوگوں کو ہی مل گیا ہے۔مگر سیاسی اورمعاشی معاملات میں بہتری کے بجائے اور زیادہ ابتری کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔حکومت کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ جس کھیل میں وہ خود کودے ہیں یا ان کو زبردستی دھکا دیا گیا ہے اس سے نمٹنا مختصر حکومت میں ممکن نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان کی بھی سیاسی حکمت عملی میں اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا یا دیوار سے لگانا سمیت سابقہ حکومت پر تمام الزامات دے کر خود کو سیاسی شودا بنانا ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف میں معاملات مفاہمت کے مقابلے میں ٹکراؤ اور الزامات کی شکل اختیار کررہے ہیں۔یہ عمل کسی بھی صورت میں ریاست اورجمہوریت کے مفاد میں نہیں ۔کیونکہ جب ہم کہتے ہیں سیاست اور جمہوریت کے عمل کی ایک مضبوط بنیاد ’’ مکالمہ اور مفاہمت ‘‘ ہے۔ لیکن حالیہ سطح پر تمام فریقین میں

’’بداعتمادی اورعدم برداشت‘‘ کی پالیسی ہے اس سے کیسے باہر نکلا جائے ۔ کوئی کسی کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں جو بھی تیار ہوتا ہے وہ بات چیت سے قبل ہی اپنی شرائط رکھ کر بات کرنا چاہتا ہے۔پاکستان میں حکومتوں کو بنانے اورگرانے کا کھیل اب فلاپ ہوچکا ہے یا اس کھیل سے جڑے پس پردہ طور طریقے اب بے نقاب ہوچکے ہیں۔ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ’’نئے رولز آف گیم ‘‘ اختیار کرنے ہونگے۔لیکن اس کے لیے پہلے ہمیں ماضی اور حال کے تضادات سے باہر نکلنا ہوگا اور ہم سب کو یہ ہی طے کرنا ہوگا کہ جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں ہر سطح پر سیاسی مہم جوئی سے گریز کرنا ہوگا۔سیاسی مہم جوئی میں جو سازشی کردار کی بنیاد پر کھیل سجایا جاتا ہے اس سے پورے سیاسی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔سیاسی مہم جوئی سے متاثر محض ہماری سیاست اور جمہوریت ہی نہیں ہوتی بلکہ اداروں کا سیاسی استعمال اور ان پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا بالخصوص ملکی معیشت یا معاشی معاملات کو پیچھے کے طرف دھکیلنا ہوتا ہے ۔ یہ جو حالیہ قومی بحران ہے اس میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج بھی معیشت ہی ہے اوراس سیاسی بحران یا مہم جوئی کے کھیل نے معیشت کو بری طرح ناکام اور دیوالیہ کردیا ہے۔ ہمارے جیسے ملکوں میں جو معیشت کی کمزوری کا سوال ہے اس میں ایک اہم اور بڑا عمل قومی سیاست میں موجود مہم جوئی کا کھیل ہے۔اس کھیل میں ہم معیشت کی قربانی دے کر اپنی سیاست کا بھی بیڑہ غرق کرتے ہیں اور خود معیشت کے مفادات کو بھی پیچھے کی طرف دھکیلتے ہیں۔حالیہ بحران میں بھی ہم کو جو عالمی حمایت معیشت کی بحالی کے تناظر میں نہیں مل رہی اس کی ایک بڑی وجہ بھی پاکستان کے سیاسی معاملات میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.