ساری بات سن کر ماہر نفسیات نے کیا کام کی بات کہی ؟ ایک دلچسپ مزاحیہ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو،آج ہم آپ سے کچھ ایسی کام کی باتیں کریں گے جو آگے چل کر آپ کی زندگی میں بہت کام آسکتی ہیں۔۔ اس لئے لڑکیاں ان باتوں کو اپنے پلو سے باندھ لیں جب کہ لڑکے انہیں اپنے موبائل فون کی

گیلری میں محفوظ کرلیں۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ۔۔اگر کوئی آپ سے مشترکہ کاروبار کرنا چاہے تواس کیساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاؤ اورمشاہدہ کرو کہ وہ کھانے کی بہتر چیز خود زیادہ کھاتا ہے یا تمھیں زیادہ کھلانا پسند کرتا ہے۔دوسری صورت ہو تو کاروبار کرو جبکہ پہلی صورت ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کاروبار میں تم سے زیادہ لینے کی کوشش کرے گا۔۔۔اگر کوئی آپ سے دوستی کرنا چاہے تو اس کے ساتھ ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں ، اگر اس نے کرایہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کامطلب ہے کہ وہ آپ سے فائدہ لیناچاہتاہے دوستی کے قابل نہیں۔۔۔اگر کوئی تم سے رشتہ جوڑنا چاہے تو اس کی کسی چیز کو معمولی نقصان پہنچاؤ۔مثلاً اسکے جوتے پر سالن گرانا یاموبائل فون کو میز کے انتہائی کنارے پر رکھنا یا اس کی عینک کو چھیڑنا اگر اس نے اپنی چیز کے قیمتی ہونے کاچرچا کیا تو رشتہ مت جوڑنا، کیوں کہ اس کو رشتے سے زیادہ پیسہ پسند ہے۔۔۔اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی آپ سے اُدھار مانگتا ہے تو اس کو قیمت بہت زیادہ بتانا اگر اس نے قیمت کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تو ادھار نہ دینا، کیونکہ اس کو ادائیگی نہیں کرنی ہے اس لیے قیمت سے دلچسپی نہیں۔۔۔اگر کوئی اپنی ہر دوسری تیسری بات پر قسم اٹھاتا ہو۔تو اس کی بات میں ضرور جھوٹ شامل ہوگا، وہ قسمیں اس لیے اٹھاتا ہے کہ اس کو اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کر نا ہو تا ہے۔۔۔اگر تمھارا کوئی دوست تم سے اپنی کوئی برائی چھپاتا ہے

تو آپ اس کو مت بولیں کہ تم کو سب کچھ معلوم ہے اگر تم نے ایسا کیا تو پھر وہ اس برائی کو تمھارے سامنے بھی کرے گا۔۔۔بچوں کو برے کام سے منع کرتے وقت جن، بلا، یاجانور سے نہ ڈرانا کیوں کہ جب وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ چیزیں فرضی تھیں تو وہ برائی واپس شروع کریں گے ،بلکہ اللہ سے یا جہنم سے ڈرانا کیونکہ اس کا تصور تمام عمر ہوتا ہے۔۔۔بچوں کی ہر غلطی پر سزا نہ دینا کیونکہ اس سے اس کی ذہنیت ایسی بن جاتی ہے کہ بڑے ہوکر ہر غلطی کرنے والے سے لڑے گا۔پھر ساری عمر جھگڑوں میں گزرے گی۔۔۔اپنے ماں باپ سے اپنے بچوں کے سامنے بہت محتاط رہنا کیونکہ جو انداز تم اپناتے ہو وہی کل تمھاری اولادِ اپنائے گی۔۔۔معاشرے میں جس کا کوئی کام برا لگے وہ خود نہ کرنا۔اب والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو یہ اہم باتیں لازمی سکھائیں۔۔سیڑھی پر اس وقت مت چڑھو جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زاویہ پر رک جاؤ اور اس کے بعد چڑھو۔۔لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھو، اس کے نکلنے کا انتظار کرو اور بعد میں چڑھو۔۔۔اپنے چچا، ماموں، خالہ کے بیٹوں سے مصافحہ مت کرو۔۔۔اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھو۔۔۔ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔۔۔ سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔۔۔

جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دو، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جاؤ اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کرو۔۔گلی محلہ کے سبھی مرد باپ کے سوا اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ تنگ کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکو،کوشش کرو بیٹھ کر چیز دیکھو،پھر کھڑے ہو جائیںتاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم بے نقاب نہ ہو۔۔ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کرو۔۔باباجی فرماتے ہیں۔۔جب بھی شادی پر جاؤ تو یہ پانچ نصیحتیں لازمی یاد رکھنا۔۔رشین سلاد ہو یا عام سی کوئی بھی سلاد سب سے پہلے اپنی پلیٹ میں وہ بھرلو کیوں کہ یہ ایک بار ختم ہوجائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔۔ آئس کریم، کھیر، قلفا، فیرنی، کسٹرڈ، دودھ دلاری، لب شیریں یا کوئی سا بھی میٹھا جب بھی لو، ہمیشہ بڑی پلیٹ میں ڈالوکیوں کہ اس طرح دیکھنے میں چھوٹی پلیٹ میں کم بھی زیادہ لگتا ہے اور آپ نے چونکہ بڑی پلیٹ میں میٹھا لیا ہوتا ہے اس لئے وہ دیکھنے میں ہمیشہ کم ہی لگے گا۔۔آپ بریانی، پلاؤ یا مندی کھارہے ہیں تو اپنی پلیٹ میں تین سے چار چمچ اس طرح سے سجا کر رکھیں کہ دیکھنے والا یہی سمجھے کہ آپ اپنے باقی کے تین ساتھیوں کے لئے بھی ڈال کر لائے ہیں۔

۔اگر شادی میں ریگولر بوتل رکھی گئی ہو تو دو بوتلوں کو جلدی سے تھوڑا تھوڑا پی کر وہیں رکھ دیں اور بے فکر ہوکر تیسری بوتل کو مزے لے لے کر ختم کریں کیوں کہ پہلی دو بوتلیں کم مقدار کی ہوں گی تو لوگ اسے جھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیں گے اور کوئی ہاتھ تک نہیں لگائے گا، کھانے کے بعد آرام سے حسب ضرورت ان دونوں بوتلوں کو بھی پی لیں۔۔اور آخرمیں سب سے قیمتی نصیحت۔ ۔ زیادہ بوٹیاں کھانے کے لئے آدھی روٹی یا نان ہاتھ میں پکڑ یں اور اب باری باری ہر بوٹی اس روٹی یا نان پر رکھ کر کھائیں تاکہ لوگ یہی سمجھیں کہ آپ ساتھ میں نان بھی کھارہے ہو۔۔کبھی کبھار سوال اٹھتا ہے کہ عورت کے لئے شادی کیوں ضروری ہے؟؟؟ایک عورت ماہر نفسیات کے پاس گئی اور کہا، میں شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میں پڑھی لکھی ہوں، خود کماتی ہوں اور خود مختار ہوں اس لئے مجھے خاوند کی ضرورت نہیں ہے مگر میں بہت پریشان ہوں کیونکہ میرے والدین شادی کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔میں کیا کروں؟ماہر نفسیات نے کہا۔۔ بیشک تم نے بہت کامیابیاں حاصل کرلی ہیں لیکن بعض دفعہ تم کوئی کام کرنا چاہو مگر نا کر سکو، کبھی تم سے کچھ غلط ہوگا، کبھی تم ناکام ہوجاؤ گی، کبھی تمھارے پلان ادھورے رہ جائیں گے، کبھی تمھاری خواہشیں پوری نہیں ہوں گی۔۔ تب تم کس کو قصوروار ٹھہراؤ گی؟ کیا اپنے آپ کو قصور دو گی؟لڑکی نے کہا، نہیں ہرگز نہیں ،بالکل نہیں، اپنے آپ کو کیوں دوں گی؟ماہر نفسیات بولا۔۔ بالکل یہی وجہ ہے کہ تمھیں ایک خاوند کی ضرورت ہوگی جسے اپنی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکو۔۔ گئے دنوں کا واقعہ ہے کچھ سردار مل کر اونٹ کو بلڈنگ کی 20 ویں منزل پر چڑھانے کی کوشش کر رہے تھے کسی نے پوچھا ۔۔سردار جی اونٹ کو اتنی اوپر کیوں لے جا رہے ہو؟؟ سرداروں میں سے ایک بولا۔۔ اس کو ذبح کرنا ہے اور چھری چھت پر پڑی ہے اس لیے ۔۔واقعہ کی دُم: ایک بندہ لندن سے پاکستان نہیں آیا ساری کابینہ لندن چلی گئی۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔شرمیلے لوگوں سے ایک بار دوستی ہوجائے تو پتہ چلتا ہے ان سے بڑا بے شرم تو دنیا میں کوئی نہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.