قیادت کے فیصلوں سے اختلاف کی سزا تاحیات نااہلی : یہ کیسی جمہوریت اور کیسا انصاف ہے ؟ منحرف اراکین کے حق میں بڑی دلیل پیش کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مزمل سہروردی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 A کی تشریح کے لیے ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے دلچسپ ریمارکس بھی سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ریمارکس فیصلے نہیں ہوتے۔

یہ وہ سوالات ہوتے ہیں جو آنریبل ججز کیس کی سماعت کے دوران پوچھتے ہیں تا کہ دلائل کو بخوبی سمجھا جا سکے۔ ان ریمارکس کو ججز کا ذہن بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انھی سوالات کے جوابات کی روشنی میں ججز اپنا ذہن بناتے ہیں جس سے فیصلہ بنتا ہے۔ججز کے ریمارکس تو شائع ہو جاتے ہیں لیکن ان ریمارکس میں دیے جانے والے دلائل اس طرح شائع نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ ریمارکس بھی یک طرفہ کہانی ہی ہوتے ہیں۔پارلیمانی جمہوریت میں اصلاحات کی ابتدا سیاسی جماعتوں میں جمہوریت سے ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ کو ایسی قانون سازی کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو سیاسی جماعتوں میں آمریت کے کلچر کو فروغ دے۔ایسی قانون اور آئین سازی جس سے سیاسی جماعتوں کی قیادت کو آمرانہ اختیارات حاصل ہو جائیں‘ وہ جمہوری نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے آئین میں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے خود کو ایسے اختیارات دے دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں میں مطلق العنان بادشاہ بن گئے ہیں۔ ان سے اختلاف سیاسی موت بن جاتا ہے۔ اس لیے ان کی اطاعت میں ہی سیاسی بقا بن گئی ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔یہ بات بھی غلط ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ ارکان اسمبلی جب بھی اپنی پارٹی قیادت سے اختلاف کریں گے تو پیسے لے کر ہی کریں گے۔ کیا ہم یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ارکان اسمبلی اپنی سوچ اور اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کے تحت اختلاف کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں فرد واحد کا ہر غلط حکم ماننا بھی جمہوریت ہے۔

یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں پارٹی قیادت سے اختلاف کی سزا عمر بھر کی نا اہلی مانگی جا رہی ہے۔ اگر ہم ارکان اسمبلی کو اپنی سوچ سے فیصلے کرنے کی آزادی نہیں دیں گے تو وہ ارکان اسمبلی نہیں رہیں گے بلکہ پارٹی قیادت کے وہ غلام بن جائیں گے جن کو اپنی مرضیٰ سے کوئی فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی‘ وہ بس ہاں میں ہاں ملانے والی کٹھ پتلیاں بن جائیں گے۔ جہاں انھوں نے اختلاف کیا وہاں ان کی سیاسی زندگی کو موت مل جائے گی۔سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس ٹکٹوں کی تقسیم کے لامحدود اختیارات ہیں۔ وہ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو پہلے ہی ٹکٹ نہیں دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی منصفانہ اور شفاف نظام نہیں ہے۔ تمام ٹکٹ پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں میں فرد واحد کے مرہون منت ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی اختلاف کرنے کی جرات کر بھی لے تو اس کے لیے سخت قانون سازی پہلے ہی کر دی گئی ہے۔ایسے میں اگر اس قانون سازی کو مزید سخت کر دیا جائے گا تو یہ جمہوریت کے لیے کوئی نیک شگون ہی نہیں ہوگا۔ ایسے تو ارکان اسمبلی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ پارٹی قیادت کی جیب میں ووٹ دے دیے جائیں۔ اس کی مرضی وہ جب چاہے جہاں چاہے جیسے چاہے استعمال کر لے۔ اس سے کوئی پوچھ ہی نہیں سکتا۔ یہ ارکان اسمبلی نہ ہوئے روبوٹ ہو گئے جہاں بٹن دبایا ویسے ہی چل دیے۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پارٹی پالیسی سے اختلاف کی سخت سزا ہونی چاہیے۔

تو ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پار ٹی کی تمام پالیسیاں بھی ارکان اسمبلی کی مرضی سے ہی بنیں گی۔پارٹی قیادت بند کمروں میں من پسند لوگوں سے مشاورت کر کے پالیسی بنائے اور ارکان اسمبلی کو اسے ماننے پر مجبور کیا جائے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کئی کئی ماہ بلایا ہی نہیں جاتا۔ ارکان اسمبلی کو صرف حکم دیا جاتا ہے کہ انھوں نے کب‘ کہاں اور کیسے ووٹ ڈالنا ہے۔ ان کی مرضی جاننے کا نہ تو کوئی پلیٹ فارم ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔سب سے پہلے تو سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کو حکم دینا چاہیے کہ آرٹیکل63A پر عمل کرنے سے پہلے سیاسی جماعتوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے اندر مکمل جمہوریت قائم کریں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کا اختیار مقامی کارکنوں کے پاس ہوگا۔ ہر سیاسی جماعت کے مقامی کارکنوں کو اپنے علاقے کے ٹکٹ کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کی مرضی کم سے کم کر دی جائے۔ سیاسی کارکن کو مضبوط کیا جائے۔ سیاسی جماعت کے اندر فیصلہ سازی کے پلیٹ فارمز کو مضبوط کیا جائے۔پارلیمانی لیڈر بدلنے کے راستے آسان کیے جائیں۔ سیاسی جماعتوں میں فرد واحد اور خاندانوں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سیاسی جماعتوں میں نامزدگیوں کو ختم کیا جائے۔ الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کو الیکشن لڑنے سے روک دے جس کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم کا شفاف نظام نہ ہو۔ جس کے اندر آمریت ہو۔ جہاں فیصلے جمہوری انداز میں نہ کیے جائیں۔ اگر ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو

سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانا ہوگی۔ارکان اسمبلی کے انحراف کو پیسوں کے تناظر میں دیکھنا بھی غلط ہے۔ اگر کسی کے پاس پیسوں کے لین دین کا کوئی ثبوت ہو تو وہ سامنے لائے۔ لیکن ہر اختلاف کو پیسوں کے ترازو میں دیکھنا غلط ہے۔ یہ ارکان اسمبلی کی توہین کے مترادف ہے۔ مجھے توبہ جیسے ریمارکس سے بھی اختلاف ہے۔کیسی توبہ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ رکن اسمبلی نے اپنی ایماندارانہ سوچ سے اختلاف کیا ہو؟ کیا سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت بدلنے کا کوئی نظام موجود ہے؟ کیا سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت بدلنے کے کوئی جمہوری راستے بنائے ہوئے ہیں؟ کیا ارکان اسمبلی کے پاس پارلیمانی لیڈر بدلنے کا اختیار ہے؟اگر کسی کے خلاف پیسے لینے کا کوئی ثبوت موجود ہے‘ اسے سامنے لانا چاہیے۔ اس کے لیے بدعنوانی کے قوانین موجود ہیں لیکن ہر اختلاف اور ہر انحراف کو پیسوں کا لالچ کہنا درست نہیں ہے۔یہ پارلیمانی جمہوریت کی بنیادی روح کے بھی خلاف ہے۔میں سمجھتا ہوں سپریم کورٹ کو سیٹ سے ڈس کوالیفائی کرنے کو بھی مشروط کرنا چاہیے۔ تاحیات نا اہلی کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ڈس کوالیفائی بھی صرف تب ممکن ہونا چاہیے جب سیاسی جماعت کے اندر جمہوریت موجود ہو۔ فیصلوں کے لیے مشاورت کے پلیٹ فارمز ہوں۔ جس سیاسی جماعت میں جمہوریت نہ ہو، وہ اپنے اندر آمریت قائم رکھے وہاں ارکان اسمبلی کو اختلاف کی اجازت دینا ہی جمہوریت ہے۔ اس کو روکنا آمریت ہوگا۔موجودہ کیس میں بھی اگر اتنی بڑی تعداد میں ارکان نے عمران خان کا ساتھ چھوڑا ہے۔ تو کیا تحریک انصاف کے اندر عمران خان سے اختلاف کی کوئی گنجائش تھی۔ کیا عمران خان پارلیمانی جماعت کے اجلاس باقاعدگی سے کرتے تھے۔کیا سیاسی بحران میں ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کی گئی۔ جن سے ووٹ مانگے گئے ہیں ان سے کسی نے رائے بھی مانگی تھی۔ یہ تمام محرکات بھی نا اہلی اور ڈس کوالیفائی کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر آمریت ملک میں آمریت سے بھی خطرناک ہے۔سیاسی جماعتوں کی قیادت بحث کو اس طرف آنے ہی نہیں دیتی۔ اسی لیے سیاسی جماعتوں کی طرف سے جو وکیل پیش ہو رہے وہ بھی اس پر بات نہیں کر رہے۔ کیونکہ وہ بھی سیاسی جماعتوں کے نہیں ان کی قیادت کے نمایندے ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اس ریفرنس میں سول سوسائٹی اور ملک میں جمہوریت کی سربلندی کے لیے کام کرنیوالوں کو بھی رائے دینا کا موقع دینا چاہیے۔ تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.