یہ گردہ ہے یا پتھریلا پہاڑ!ڈاکٹروں نے مریض کے گردے سے ایک ساتھ 206 پتھریاں نکال لیں

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارتی ریاست تلنگانہ میں ڈاکٹروں نے معمر شخص کے گردے سے 206 پتھریاں نکال لیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق میڈیکل کی تاریخ میں کسی انسان کے گردے سے سیکڑوں پتھریاں نکلنا انتہائی کم سامنے آنے والا کیس ہے، لیکن ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کا 56 سالہ شہری کے

گردے میں سیکڑوں پتھریاں پائی گئیں۔ مریض کے گردے میں گزشتہ چھ ماہ سے شدید درد ہورہا تھا جو گرمی کی شدت میں اضافے سے مزید بڑھ گیا۔ 56 سالہ ویرملّا رامالاکشیمایہ نے ڈاکٹر سے رجوع کیا تاہم ڈاکٹر کی دی ہوئی دوائیں کام نہ آئیں درد میں اضافہ ہوتا رہا، جس پر ڈاکٹروں نے مریض کے ٹیسٹ کیے۔ ٹیسٹ کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ بھارتی شہری کے گردے میں 26 پتھریاں موجود ہیں جنہیں ایک گھنٹے کی سرجری کے بعد گردے سے نکالا گیا۔ یورولوجسٹ ڈاکٹر وینو ماننے کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث اکثر لوگ ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوجاتے اور پانی کم پینے کی وجہ سے ان کے گردے میں پتھری ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شہریوں کو دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے یا دھوپ میں کم سے کم سفر کرنا چاہیے اور گرمی بڑھنے پر سوڈا پینے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔آئیے آپ کو ایک اور خبر کے بارے میں بتاتے ہیں ،تو خبر یہ ہے کہ ) ایک انجینیئر نے محض عام کاغذ، پرنٹر اور دھاتی پرت کی مدد سے ایک آلہ بنایا ہے جس سے 6 جی فون نیٹ ورک کے بعض سگنل سنے جاسکتے ہیں یا پھر ان میں خلل ڈالا جاسکتا ہے۔ رائس یونیورسٹی سے وابستہ انجینیئر زنبیل شیخانوف نے اسے ’میٹا سرفیس اِن دی مڈل‘ کا نام دیا ہے جو 6 جی وائرلیس نیٹ ورک کی ہائی فری کوئنسی امواج کو دوسری سمت میں بھیج سکتی ہیں جنہیں تکنیکی زبان میں ’پینسل بیم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ سان انتونیو میں کمپیوٹراور موبائل فون سیکیورٹی سے وابستہ ایک کانفرنس میں ہیکنگ کا عملی مظاہرہ بھی کریں گے۔ ایک اور ماہر ایڈورڈ نائٹلی نے بتایا کہ ان کا الہ جن فری کوئنسیوں کو ہیک کرسکتا ہے، ابھی وہ استعمال میں نہیں مگر مستقبل میں وہ ضرور استعمال ہوں گی۔

اس لیے ضروری ہےکہ مستقبل کے خدشات اور حفاظتی اقدامات کا پہلے ہی جائزہ لیا جائے۔ کاغذ اور دھاتی چادر سے بنائی جانے والی میٹاسرفیس دو صارفین کے درمیان 150 گیگا ہرٹز پینسل بیم کے کچھ حصے کا دوسری جانب رخ موڑسکتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.