تحریک انصاف حکومت کے چند سابق وزرا سرکاری رہائش گاہیں خالی کیوں نہیں کر رہے ؟۔ نیا پینڈورا باکس کھل گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) حمیرا کنول لکھتی ہیں کہ” پاکستان میں جاری سیاسی ہنگامہ خیزی کے دوران تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفوں کے اعلان اور نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بعد بھی چند سابق وزرا کی جانب سے سرکاری مراعات کا استعمال سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا۔

ان مراعات میں ایک اہم معاملہ ان سرکاری رہائش گاہوں کا ہے جو ہر نئی آنے والی حکومت کی جانب سے وزرا اور اہم شخصیات کو اسلام آباد کے منسٹرز انکلیو میں الاٹ کی جاتی ہیں۔ دو روز قبل سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں تسلیم کیا تھا کہ سابق وزرا اور مشیروں نے اب تک سرکاری گھر خالی نہیں کیے۔ ان کا موقف تھا کہ ’ہم حکومتی گھروں اور گاڑیوں کو چوروں کے حوالے نہیں کرنا چاہتے۔‘ تاہم گزشتہ اتوار جب بی بی سی اردو نے سرکاری رہائش گاہوں کے معاملے پر فواد چوہدری سے رابطہ کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ حکومتی مراعات استعمال نہیں کر رہے اور نہ ہی کوئی اور سابق وزیر ان مراعات کو استعمال کر رہا ہے۔ اس وقت انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ کس نے کہا؟ میں کوئی حکومتی سہولت استعمال نہیں کر رہا۔‘ پی ٹی آئی اور موجود حکومت کا میڈیا آفس یہ تصدیق کرنے سے گریزاں ہے کہ سابق حکومت کے کتنے وزرا یا مشیر منسٹرز انکلیو میں گھر خالی نہیں کر رہے اور ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے۔ بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق سابق وزیر دفاع پرویز خٹک، سابق وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور سابق وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا اب تک منسٹر انکلیو میں سرکاری رہائش گاہوں کا استعمال کر رہے ہیں جب کہ چند سابق وزرا نے اس سوال پر بی بی کو جواب نہیں دیا۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایف فائیو میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے ساتھ ہی منسٹرز انکلیو ہے۔ ریڈ زون میں واقع اس جگہ پر 37 گھر اور چھ اپارٹمنٹس ہیں۔ تمام سہولیات سے آراستہ یہ رہائش گاہیں وزرا اور حکومتی مشیروں کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اہم حکومتی شخصیات جیسے کہ اٹارنی جنرل اور چیئرمین نیب کو بھی یہیں رہائش کے لیے جگہ دی جاتی ہے۔ منسٹر انکلیو کے داخلی دروازے پر لگی تختی پر سنگ بنیاد کی تاریخ 16 اپریل سنہ 1990 ہے جہاں بغیر شناخت اور پہلے سے لی گئی اجازت کے بغیر سیکیورٹی اہلکار آپ کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ منسٹر انکلیو کی سکیورٹی پر مامور ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ منسٹر انکلیو لگ بھگ ایک کلومیٹر تک کا علاقہ بنتا ہے۔ ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ رہائش گاہیں مختلف سائز پر مشتمل ہیں جن میں ایک کنال یا اس سے زیادہ کا رقبہ شامل ہوتا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سابق وفاقی کابینہ بھی قانونی طور پر تحلیل ہو گئی جس کے نتیجے میں وفاقی وزرا منسٹر انکلیو کی ان رہائش گاہوں سے بھی قانون و قائدے کے مطابق محروم ہوئے جو ان کو الاٹ کی گئی تھیں۔ اب ان رہائش گاہوں کو وزیر اعظم شہباز شریف کی نئی کابینہ کے وزرا کو الاٹ کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کے راستے میں ایک رکاوٹ چند سرکاری رہائش گاہوں کا اب تک خالی نہ ہونا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں سابق وزیر فہمیدہ مرزا نے تصدیق کی کہ وہ ابھی منسٹرز انکیلو میں ہی رہ رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اب تک استعفی نہیں دیا اور سابق سپیکر کی حیثیت سے اور ایسے وقت میں جب میں صحت کے حوالے سے بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہوں، مجھے ایک محفوظ اور باعزت رہائش گاہ چاہیے۔‘ فہمیدہ مرزا کے مطابق اس معاملے میں انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کیا ہے۔ تاہم بی بی سی سے گفتگو کے دوران فہمیدہ مرزا نے یہ بھی کہا کہ ’اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ ایک ایک منسٹر کے پاس لاجز میں کتنے اپارٹمنٹس ہیں اور کیا نئی کابینہ کے وزیروں نے انھیں خالی کر دیا ہے۔‘ متعلقہ حکام سے منسٹر انکلیو میں سابق وزرا کی جانب سے گھر خالی نہ کرنے کی معلومات کی فراہمی نا ہونے پر بی بی سی نے منسٹر انکلیو کی سکیورٹی سے منسلک ایک اہلکار سے بات کی۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے علاوہ پرویز خٹک، نور الحق قادری، فواد چوہدری، حماد اظہر اور عثمان ڈار نے اب تک منسٹر انکلیو میں سرکاری رہائش گاہ باضابطہ طور پر خالی نہیں کی۔ بی بی سی نے حماد اظہر سے رابطہ کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ اب ان کے پاس اسلام آباد میں اپنا اپارٹمنٹ ہے اور وہ منسٹر انکلیو میں نہیں رہتے۔ دوسری جانب نورالحق قادری، جو کہ سابق دور میں مذہبی امور کے وزیر تھے، نے تاحال گھر خالی نہیں کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘میں بیرونِ ملک تھا، اب وطن لوٹ آیا ہوں اور چند ہی روز میں مکان خالی کر دوں گا۔’

سابق وزیرِ دفاع پرویز خٹک سے بی بی سی کی جانب سے مؤقف جاننے کی بارہا کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستان کے نجی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پرویز خٹک نے اس معاملے پر کہا ہے کہ ’سرکاری رہائش گاہ چھوڑ کر انھوں نے جس گھر میں منتقل ہونا ہے، وہ 25 مئی کو خالی ہوگا، اُس وقت موجودہ رہائش گاہ چھوڑ دوں گا۔‘ انھوں مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’جب میں وزیر بنا تھا، سرتاج عزیز کا گھر خالی ہونے کے لیے میں نے 4 ماہ تک انتظار کیا تھا۔‘ دوسری جانب جے یو آئی ایف سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالواسع جو اس وقت وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ہیں گذشتہ ماہ کی 19 تاریخ سے منسٹر انکلیو میں اس مکان کے خالی ہونے کے منتظر ہیں جو کہ وزیرِ دفاع پرویز خٹک کے پاس ہے۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کر کے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے۔ مولانا عبدالواسع نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’ایک طرف وہ (پرویز خٹک) کہہ رہے ہیں کہ ہم نے استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن وہ گھر نہیں چھوڑ رہے۔ پھر مولانا صاحب سے درخواست کی تھی کہ ایک ہفتے کے لیے چھوڑ دیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’پرویز خٹک نے بار بار متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا، یہ ان کے شایان شان نہیں وہ کھرب پتی آدمی ہیں، کیا ان کے پاس اسلام آباد میں اپنی رہاش گاہ نہیں ہو گی۔‘ عثمان ڈار نے بی بی سی کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے باوجود اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بی بی سی سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ ماسوائے پرویز خٹک کا مکان خالی کروانے کے اب تک کسی بھی اور سابق وزیر یا مشیر کے گھر پولیس، سٹیٹ آفس اور انتظامیہ کے اہلکار نہیں گئے۔ سٹیٹ آفس کے محکمے کے ایک انسپکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ؎ان رہائش گاہوں میں عام طور پر تمام سامان ہی حکومتی ملکیت کا ہوتا ہے جب رہائش گاہ خالی کروانی ہوتی ہے تو ہم بس مکان تحویل میں لے کر ہاؤسنگ کے حوالے کرتے ہیں جو ان کی اگلے وزرا کو الاٹمنٹ کر دیتے ہیں۔ً اسٹیٹ آفس اسلام آباد جو کہ وزارت ہاؤسنگ اور ورکس کے ماتحت ہے کی جانب سے بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ گھر خالی کرنے کی مدت ایک ہفتے سے 15 دن تک ہوتی ہے۔ سٹیٹ آفس کے انسپکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو جب متعلقہ فورس گئی تو وہاں پرویز خٹک سے ملاقات نہیں ہوئی تاہم ان کے عملے کو مکان خالی کرنے کا بولا گیا تھا۔ اسٹیٹ آفس کی جانب سے پرویز خٹک کو جو نوٹس دیا گیا اس پر بھی گھر خالی کرنے کی مہلت 15 روز ہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے پاس مجسٹریٹ کا اختیار ہوتا ہے اور ’اگر ڈی سی آفس سے کہا جائے تو ہمارا ایک اہلکار بھی ان کی ٹیم کے ساتھ جاتا ہے۔‘انھوں نے تصدیق کی کہ ’گذشتہ ایک ماہ میں انھیں گھر خالی کروانے کے لیے اس قسم کی ایک ہی درخواست موصول ہوئی ہے جو پرویز خٹک کے خلاف متعلقہ ادارے نے کی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘ضلعی انتظامیہ بذاتِ خود معاملے کو تب دیکھتی ہے جب لا اینڈ آرڈر کی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور فی الوقت ایسی صورتحال نہیں ہے۔’

مذکورہ سیکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نئی کابینہ کے وزرا میں سے ابھی صرف وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ ہی یہاں شفٹ ہوئے ہیں جبکہ مریم اورنگزیب پہلے سے ہی قائدِ حزب اختلاف کی رہائش گاہ کو استعمال کر رہی تھیں۔ ان کے علاوہ نئے اٹارنی جنرل بھی گذشتہ رات یہاں منتقل ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’دس مکانوں میں واش رومز کی مرمت کا کام ہو رہا ہے۔ پہلے پی ٹی آئی والے آئے تھے انھوں نے بھی ایسے ہی پورے واش رومز کے فرش اکھاڑے تھے اب یہ بھی وہی کر رہے ہیں۔‘ سرکاری رہائش گاہوں کے معاملے پر پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے مطابق اگر کسی کو وزیر کا عہدہ ملے اور اس کا گھر اسلام آباد میں ہو تو وہ وزرا کے لیے مخصوص منسٹر انکلیو میں رہائشی سہولت نہیں لیں گے۔ بی بی سی سے گفتگو میں پارٹی کے میڈیا ونگ سے منسلک صبغت اللہ نے اس خبر کی تردید تو نہیں کی کہ اب بھی کچھ سابق وزرا مراعات رکھے ہوئے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے وزرا بھی تھے جنھوں نے پالیسی کے مطابق سرکاری رہائش گاہ کو استعمال نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’شبلی فراز، شہزاد وسیم، اسد عمر، علی نواز اعوان، شیریں مزاری اور خرم نواز نے سرکاری رہائش گاہ استعمال نہیں کی۔‘ تاہم انھوں نے یہ تصدیق کی کہ ان کی جماعت کے ایم این اے استعفے دینے کے باوجود پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے موجود پارلیمنٹ لاجز میں ہی موجود ہیں۔ پارلیمنٹ سے متعلقہ انتظامیہ نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز اب بھی اپنی تنخواہیں اور گھر استعمال کر رہے ہیں اور بظاہر لگتا ہے کہ یہ معاملہ بھی استعفوں کے معاملے کی طرح طوالت کا شکار رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.