گورنر کی بجائے سپیکر راجہ پرویز سے حلف!! حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانے میں اتنی جلدی کیوں تھی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا پینڈورا باکس کھل گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) چودھری خادم حسین اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” ساٹھ اور ستر کی دہائی کے دوران اگرچہ وکلاء کی تعداد آج کے مقابلے میں بہت کم تھی،مگر اہلیت اور ضابطہ اخلاق کا معیار بہت اچھا تھا،ان دنوں بھی اکثر دلچسپ واقعات اور حادثات ہوتے رہتے تھے، میں آج صرف دو محترم وکلاء کو یاد کر رہا ہوں۔

ایک ایم ڈی طاہر اور دوسرے عبدالرحمن(غازی) تھے، ایم ڈی طاہر مسٹر رٹ بھی کہلاتے تھے اور پھر عدالت میں پیش ہو کر اردو زبان میں بات کرتے تھے،دیہات سے تعلق ہونے کی وجہ سے ان کا لہجہ بھی دیہی پنجابی والا تھا، ان کا ایک خصوصی فقرہ بہت مشہور ہے، مجھے آج بھی یاد ہے اور اس دور کے اکثر دوستوں کو بھی یاد آ جائے گا جب اس فقرے کی بدولت ان پر عدالت میں آنے کی پابندی لگا دی گئی،میں بوجوہ وہ فقرہ یہاں درج کرنے سے قاصر ہوں کہ عدالت کا خوف ہے،اگرچہ آج کے دور میں ایک خاص طبقے اور جماعت کے لوگ جو دِل چاہتا کرتے ہیں اور ان کا عمل صریحاً ایسی توہین کے زمرے میں آتا ہے کہ مجھ جیسا کمزور بندہ ایسی بات کرنے کی جرأت تو کیا سوچ بھی نہیں سکتا، دو روز قبل عدالت عظمیٰ نے تبادلوں کے حوالے سے ازخود نوٹس کے تحت سماعت کی اور ملک کے بیشتر اداروں سے جواب بھی طلب کیا ہے، وفاقی حکومت بھی جواب دہ ہے، میں نے گزشتہ روز اس کی تعریف کی تھی اور توقع بھی کرتا ہوں کہ عدالت عظمیٰ اعلیٰ ترین عدالتی روایات کو برقرار رکھے گی۔ سید خورشید شاہ نے بھی ایسی ہی توقع کا اظہار کیا ہے۔ آج میرے اپنے خیالات گڈ مڈ ہیں کہ میں اس ملک کا شہری،مزدور اور بچوں والا ہوں، ایسے تمام حالات مجھے براہ راست متاثر کرتے ہیں، آزادی مانگنے والوں کو میں نے ایک بار پہلے بھی بتایا تھا کہ میرے والدین ہی نہیں۔

ددھیال اور ننھیال بھی غلام نہیں تھے، خود اپنی روزی کماتے اور عزت سے گذارہ کرتے تھے،میرے والد محترم نے قیام پاکستان کے لئے خود اور اپنے گھرانے کی جو قربانیاں دیں،ان کا صلہ بھی نہیں مانگا اور چاہا۔ گزشتہ دنوں سندھ کے لئے نامزد گورنر کا ذکر آیا تو پتہ چلا کہ وہ سابق ڈپٹی کمشنر (مرحوم) ظفر الاحسن کی صاحبزادی ہیں،جو 1947ء میں لاہور میں تعینات تھے۔ مجھے یاد آ گیا کہ میرے والد صاحب مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار اور مسلم لیگی کارکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے تو ڈپٹی کمشنر ظفر الاحسن سے ان کے قریبی تعلقات کار تھے اور یہ ڈپٹی کمشنر جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھے اور مہاجرین کی آباد کاری کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے، مجھے جب وہ واقعات یاد آتے ہیں تو دل سے دُعائے مغفرت ہی نکلتی ہے، صرف ایک واقعہ کا ذکر کروں گا کہ لاہور کا ماڈل ٹاؤن ہندو ساہو کاروں نے آباد کیا اور بنایا تھا، چنانچہ اس کی بڑی بڑی کوٹھیوں میں ہندو سرمایہ دار آبادتھے اور ان کا سامان بھی ان کی حیثیت ہی کے مطابق تھا۔ڈپٹی کمشنر اور میرے والد باہم مل کر ان کوٹھیوں کا تحفظ کرتے اور آباد کاری کا بھی دھیان رکھتے تھے۔ اللہ میرے والد محترم کی مغفرت فرمائے، انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ ایک روز ظفر الاحسن اور وہ دیگر اہلکاروں اور رضا کاروں کے ساتھ والٹن کے مہاجر کیمپ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد ماڈل ٹاؤن آئے تو ایک کوٹھی کے باہر پولیس کی گاڑی نظر آئی۔

یہ حضرات رُک کر کوٹھی کے اندر گئے تو اس وقت کے ایک بڑے پولیس افسر کو قالین اٹھواتے دیکھا،ان حضرات کی آمد پر وہ خفیف ہوئے اور قالین کو چھوڑ کر شرمندہ سے چلے گئے۔ یہ اس لئے عرض کیا کہ اچھائی اور برائی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ میں نے وکلاء اور عدلیہ کے حوالے سے بات شروع کی کہ درمیان میں یاد داشت نے مجبور کر دیا کہ بات کر ہی لی جائے۔ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ کا ذکرکیا تو ایک اور ذکر بھی کر دوں، ایک محترم عبدالرحمن (غازی) تھے ان کا دفتر شاہ عالم دروازہ کے باہر تھا۔ ایک روز ان کے پاس قتل کا ایک کیس آیا، آنے والے ملزم کے لواحقین تھے،بات چیت کے دوران جب فیس کا ذکر ہوا تو محترم عبدالرحمن نے پانچ ہزار روپے مانگے اگرچہ اس دور میں یہ بھی بڑی رقم تھی تاہم سائلین کو جچی نہیں۔اور وہ اُٹھ کر واپس چلے گئے۔ انہوں نے وکیل صفائی کے طور پر چودھری نذیر احمد (سابق اٹارنی جنرل) کو انگیج کیا، لاہور کی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا، چودھری نذیر نے پیروی کا حق بھی ادا کیا، پھر فیصلہ کا دن آیا تو ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم کو سزائے موت کا سزا وار ٹھہرایا، جب لواحقین فیصلہ سن کر کمرہئ عدالت سے باہر آ کر اظہار دُکھ اور افسوس کر رہے تھے تو ہمارے محترم عبدالرحمن(غازی) کا گذر بھی ہوا، وہ رک گئے اور پوچھا کیا ہوا، جب بتایا گیا کہ سزائے موت کا حکم ہوا ہے تو وہ بے ساختہ بولے یہی کام میں پانچ ہزار میں کروا رہا تھا کہ آپ نے لاکھ سے اوپر خرچ کروا کر کرا لیا ہے۔

یہ گذارشات آپ تفنن طبع جان لیں، آج جو حالات ہیں مجھے وہ دور یاد دلا رہے ہیں اگرچہ وہ زمانہ بہت ہی اچھا تھا، موجودہ دور میں عدالت عظمیٰ نے آئینی تشریح پر اپنی رائے دی تو اس پر بحث ہونے لگی،حالانکہ نظرثانی کی درخواست دائر ہو سکتی ہے،لیکن کسی نے نہیں کی شاید متاثرہ فریق والا اعتراض سامنے آیا ہو، اب اسی عدالت عظمیٰ نے ایک اور بڑا حکم امتناع جاری کر دیا ہے تو ہمارے سپیکر چودھری پرویز الٰہی بھی حوصلہ کر کے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں۔انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا انتخاب چیلنج کر کے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے،اس صورت حال میں ذرا حالیہ تاریخ پر نظر ڈالنے یا واقعات یاد کر لینے میں کوئی حرج نہیں، کسی اعتراض یا تنقید سے گریز کرتے ہوئے عرض ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا منظر سب نے دیکھا۔ یہ عدالت عالیہ کے حکم سے ہوا اور جو منظر پنجاب اسمبلی کا تھا وہ سب مناظر سوشل میڈیا پر بھی دکھائے گئے یہاں بھی یہ تنقید سے گریز کرتا ہوں، حالانکہ گنجائش بہت ہے۔ بہرحال انتخاب تو ہو گیا،اس وقت کے گورنر عمر سرفراز چیمہ نے حلف لینے سے انکار کیا اور یہ ذمہ داری بھی عدالت عالیہ کے فاضل جج کے حکم سے پوری ہوئی اور سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے گورنر ہاؤس کے سبزہ زار میں حلف لیا، حمزہ شہباز اس کے مطابق فرائض انجام دے رہے ہیں،لیکن ان کی کابینہ تشکیل نہ پائی کہ حلف لینے والا کوئی نہیں۔صدر مملکت نے آئین کے تحت وزیراعظم کی ”ایڈوائس“ پر سرفراز چیمہ کو گورنر شپ سے ہٹا کر وزیراعظم کے تجویز کردہ گورنر کے لئے ”اپنے فرض“ کے مطابق حکم جاری نہ کیا۔

سرفراز چیمہ معیاد پوی ہونے پر حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق فارغ ہوئے۔وہ اس سے پہلے وزیراعلیٰ کے حلف کے حوالے سے حکم دینے والے فاضل جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر چکے تھے جو اب تک تو دائر نہ ہوا،البتہ وہ خود اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں کہ ان کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے رجسٹرار نے اعتراض کیا کہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ سے متعلق ہے، تاہم چیف جسٹس نصر من اللہ نے سماعت کر لی اور ایک بڑا بنچ بھی بنا دیا جو منگل سے سماعت شروع کرے گا۔ ادھر لاہور ہائی کورٹ کے سابقہ تین احکام کے خلاف تحریک انصاف کے اراکین کی طرف سے انٹرا کوٹ اپیل کی، سماعت بڑا بنچ کر رہا ہے کہ اب چودھری پرویز الٰہی بھی آ گئے، چنانچہ اقتدار کی یہ کشمکش عدلیہ کے روبرو ہے اب فیصلے بھی وہاں ہوں گے کہ ہمارے سیاست دان آئین کو اپنی مرضی کے معنی پہناتے ہیں اور پھر تصفیہ تو تیسرا فریق ہی کر سکتا ہے اور یہ عدلیہ ہے۔ میں نے حالات کو پیش کیا اور رائے سے گریز کیا ہے تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ اگر آئین کو اسی طرح مذاق بنانا اور اپنی ہی من مانی کرنا ہے تو بالآخر عدلیہ کے پاس جانا ہے تو پھر تنقید سے گریز کر کے سرنڈر کریں اور عدلیہ ہی سے کہیں کہ حکومت بھی کرے اور اسمبلیوں میں قوانین بھی بنائے،میں تو فیصلوں کا منتظر ہوں، حقیر تجویز ہے کہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس عطا بندیال اس حوالے سے بھی ازخود نوٹس لیں اور سب درخواستیں عدالت عظمیٰ میں طلب کر کے ایک لارجر سے بھی بڑا بنچ بنا کر سماعت کریں اور حتمی فیصلہ کر دیں کہ عوام کے نام پر عوام کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں، میں نہیں تو کچھ بھی نہیں کا فلسفہ ہے، فیصلہ بنچ ہی کر دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.