پٹنہ کے عجائب گھر میں رکھے 1200 کلو وزنی پتھر سے جڑا یہ تاریخی واقعہ آپ کو حیران کر ڈالے گا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔نظم ونسق کے باب میں انگریزی عہد کی مثال بہت دی جاتی ہے۔ عرب بھی کم نہ تھے کہ ساڑھے سات سو برس ہسپانیہ میں ڈٹے رہے؛ تاآنکہ خاندانی اور قبائلی تعصبات کی دیمک چاٹ گئی۔ تاآنکہ باہم دست و گریباں رہنے لگے،

جیسے ہمارے آج کے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ ہندوستان کے ترکانِ تیموری ترکانِ عثمانی سے کم نہیں تھے۔ اپنے عہد کے علمی مجدد سے اختلاف کی جرات کون کرے۔ واقعہ مگر یہ ہے کہ عثمانی سلطنت بکھرنے کے بعد یورپ، افریقہ اور ایشیا میں جو نئی اقوام ابھریں‘ا ن کی تعداد بائیس سے زیادہ ہے۔ سلیمان ذی شان ٹہلتا ہوا آسٹریا تک چلا جاتا۔ بحر بازی گاہ تھا ان کے سفینوں کے لیے 144برس پہلے امرتسر کے ایک غریب خاندان میں آج ہی کے دن ایک بچے نے جنم لیاغلام محمد بخش۔ ہم اسے گاما پہلوان کے نام سے جانتے ہیں۔ تاریخ لکھنے والے دیو قامت آدمی کی غیر معمولی خوراک کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک دن میں تین عدد بکرے، پندرہ کلو دودھ، تین پاؤ مکھن، پھلوں کی تین ٹوکریاں اور بہت کچھ۔دیوانہ نہیں تھا، وہ سلیمان بن عبد الملک نہیں تھا۔ تین ہزار بیٹھکیں اور پانچ سو ڈنڈ نکالا کرتا۔ صبح سویرے جاگتا اور مختصر وقفوں کے سوا سارا دن ورزش میں جتا رہتا۔ 32برس کی عمر تک بھارت اور یورپ کے تمام بڑے پہلوانوں کوہرا چکا تھا۔ اس کے رستمِ زماں ہونے پر کبھی کسی کو اعتراض نہ ہوا۔ پٹنہ کے عجائب گھر میں 1200کلو وزنی ایک پتھر رکھا ہے، گاما نے جو اپنے ہاتھوں سے اٹھا لیا تھا۔ بعد میں ہمیشہ وہ کرین سے اٹھایا گیا۔ انسانی عزم و ہمت کی کوئی حد نہیں۔ جیسا کہ ہمارے سامنے ہے، انسانی پستیوں کی بھی کوئی حد نہیں۔ کوئی حد نہیں ہے کمال کی، کوئی حد نہیں ہے زوال کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.