عوام بیزار جبکہ آئل کمپنیوں، پمپ مالکان کی پانچوں انگلیاں گھی میں:تیل کی بڑھتی قیمتوں سے کس طرح نوٹ چھاپ رہے؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کو راتوں رات کروڑوں روپے کا فائدہ ہوگیا۔بعض کمپنیوں نے 10لاکھ سے ایک کروڑ لٹر تک سٹاک جمع کیا انہیں قیمتیں بڑھنے کی پہلے سےاطلاع تھی ، ذرائع نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کو پہلے

اطلاع تھی کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے وہ گزشتہ ایک ماہ سے پٹرول اور ڈیزل کے اسٹاک جمع کرنے میں مصروف تھے بعض کمپنیوں نے 10لاکھ سے ایک کروڑ لٹر تک کے سٹاک جمع کئے ہوئے تھے، آئل ٹینکروں کو پٹرول اور ڈیزل سے بھرنے کے بعد کھڑا کررکھا تھا،پٹرول پمپ مالکان نے بھی 14سے 40ہزار لٹر کے سٹاک جمع رکھے تھےگزشتہ روز جیسے ہی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا علان ہوا متعدد پمپ مالکان نے پٹرول کی فروخت بند کردی اور نئے قیمتوں کے اطلاق کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی فروخت بحال کردی گئی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد محکمہ ریلوے نے بھی کرائے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں اور فریٹ چارجز میں 10 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے نے کرائے میں اضافے کے لیے سمری اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ خیال رہے کہ 26 مئی کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو معیشت پر مزید دباؤ آتا، مفتاح اسماعیل آج مفتاح اسماعیل کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے فیصلے کی وضاحت سامنے آگئی۔ انہوں نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو ملکی معیشت پر مزید دباؤ آتا۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے روپیہ ڈھائی روپے اوپر گیا، غریبوں کے لیے مہنگائی کا تدارک ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.