عمران خان دور میں کرپشن کے پیسے کی ریکارڈ ریکوریز !!! شہباز حکومت نے بھی اعتراف کر لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عمران خان کے دور میں قائم کردہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے (اےآر یو) نے تین سال کے دوران ریکارڈ ریکوریز کیں، شہباز شریف حکومت نے اعتراف کرلیا ہے۔خبررساں ادارے ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کی حکومت آنے کے ایک ماہ بعد کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے مئی 2022 میں تیار کردہ سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب

سے بیرون ممالک سے لوٹی گئی رقم واپس پاکستان لانے کے لیے قائم کیے گئے اثاثوں کی ریکوری یونٹ (اے آر یو) نے گزشتہ تین سالوں میں 426.4 ارب روپے کی وصولی میں مدد کی۔کیبنٹ ڈویژن کے مطابق کل رقم میں سے صرف گزشتہ مالی سال میں 334 ارب روپے سے زائد کی وصولی ہوئی، یہ تاریخی طور پر ایک ریکارڈ ہے کیونکہ نیب نے گزشتہ تین سالوں کے دوران 389اعشاریہ 5 بلین روپے ریکور کیے جبکہ سال 2000ء سے 2017 کے 17 سال کے دوران صرف 295 اعشاریہ6 بلین مالیت کی لوٹی ہوئی دولت ریکور کی گئی تھی۔واضح رہے کہ اے آر یو کا قیام ستمبر 2018 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) اور صوبائی انسداد بدعنوانی اداروں (ACEs) جیسے تمام اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ نئے کیسز اور غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے آف شور اثاثوں کی حتمی وطن واپسی کو نشانہ بنانے والے تمام موجودہ کیسز کا سراغ لگایا جاسکے۔ دوسری جانب سابقہ حکومت کی دور اندیش معاشی پالیسیوں کے ثمرات اس حکومت کے خاتمے کے بعد بھی جاری ہیں، رواں مالی سال میں ترسیلات زر اور ملکی برآمدات میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے معاشی صورتحال پر ماہانہ رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق رواں مالی سال کےپہلے 10 ماہ میں ترسیلات زر میں 7اعشاریہ 6 فیصد اور برآمدات میں27اعشاریہ8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر اس اضافے کے بعد 26اعشاریہ1 ارب ڈالر جبکہ برآمدا ت26 اعشاریہ9 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، دوسری جانب ملکی درآمدات میں بھی 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جس کے بعد یہ59اعشاریہ8 ارب ڈالرتک پہنچ گئی ہیں۔وزارت خزانہ کے مطابق ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 13اعشاریہ 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 1اعشاریہ 6 فیصد کمی کے بعد1عشاریہ 45 ارب ڈالر رہی، مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں زرعی مقرضہ1اعشاریہ 4 فیصد کمی کے بعد 1ہزار 58ارب روپے رہا جبکہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد رہی، صرف اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح13اعشاریہ 4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔معاشی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ملک کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں مئی کے تیسرے ہفتے تک16اعشاریہ108 ارب ڈالر موجود تھے، جس میں سے 10 اعشاریہ2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ6اعشاریہ 08 فیصد کمرشل بینکوں کے پاس موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.