لوڈشیڈنگ کا زمانہ ہوا پرانا ، دنیا میں تونائی بحران ختم ہونے کے قریب،سائنسدانوں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

پروونس (ویب ڈیسک) توانائی کا بحران کا سامنا صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہے مگر سائنسدان اس کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اگر آپ کو کبھی جنوبی فرانس کے علاقے پروونس جانا ہو تو وہاں آپ 2 سورج دیکھ سکتے ہیں، ایک تو ہمارا اپنا ستارہ ہے

جو اربوں سال سے آسمان پر جگمگا رہا ہے جبکہ دوسرا ہزاروں انسانی دماغوں اور ہاتھوں سے تیار کردہ ہے۔ مگر یہ دوسرا سورج آسمان پر نہیں ہوگا بلکہ ایک وسیع و عریض عمارت کے اندر چھپا ہوا ہوگا۔ اور یہ مصنوعی سورج انسانی تاریخ کے ایک بڑے بحران کو حل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سینٹ پال لیز ڈیورنس میں 35 ممالک مل کر جوہری فیوژن (ایسا عمل جس میں ٹھوس مادہ تبدیل ہو کر مائع بن جاتا ہے) کو ممکن بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ عمل سورج اور تمام ستاروں میں قدرتی طور پر ہوتا ہے مگر زمین پر اس کی نقل کرنا تکلیف دہ حد تک مشکل ہے۔ جوہری فیوژن لامحدود توانائی کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جبکہ خام ایندھن کے مقابلے میں اس سے زہریلی گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا جب کہ اس وقت جوہری انشقاق سے بننے والی توانائی کے مقابلے میں اس سے جوہری فضلے کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ گر جوہری فیوژن میں مہارت حاصل کرلی جائے تو اس کے ایندھن کا ایک گرام اتنی توانائی فراہم کرسکے گا جتنی 8 ٹن آئل سے پیدا ہوتی ہے۔سائنسدانوں کی جانب سے عموماً فیوژن توانائی کی بڑے پیمانے پر دستیابی کے بارے میں تخمینہ نہیں لگایا جاتا بلکہ مذاق میں ہمیشہ 30 برس بعد کا کہا جاتا ہے۔مگر تاریخ میں پہلی بار یہ حقیقت بن سکتا ہے۔فروری 2022 میں برطانیہ میں آکسفورڈ کے قریب ایک گاؤں میں کام کرنے والے محققین نے اہم ترین پیشرفت کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے 59 میگا جول فیوژن توانائی بنانے اور 5 سیکنڈ تک برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ویسے تو اتنی توانائی ایک گھر کو صرف ایک دن تک ہی بجلی فراہم ہی کرسکتی ہے مگر یہ تاریخی لمحہ تھا کیونکہ اس سے ثابت ہوا کہ جوہری فیوژن کا حصول ممکن ہے۔

یہ پیشرفت فرانس میں انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیرمنٹل ریکٹر (آئی ٹی ای آر) میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو پرجوش کردینے والی تھی۔اگر فیوژن توانائی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کیا جانے لگا تو دنیا کو خام ایندھن جیسے کوئلے، آئل اور گیس کی ضرورت نہیں رہے گی جو موسمیاتی تبدیلیوں میں اہم کردار بھی ادا کررہے ہیں۔برطانیہ میں کامیابی کے بعد آئی ٹی ای آر میں کام کرنے والے افراد میں نمایاں پیشرفت کا احساس پیدا ہوا مگر اس پروگرام کی قیادت کرنے والے برنارڈ بگوٹ 14 مئی کو چل بسے جس سے کام متاثر ہوسکتا ہے۔ قدرتی طور پر فیوژن توانائی 2 ذرات کے اکٹھا ہونے سے پیدا ہوتی ہے مگر سائنسدان ٹوکامک نامی مشین میں معمولی مقدار میں ایندھن کو ڈال کر بڑے مقناطیس متحرک کرکے ایک پلازما بناتے ہیں، جو کسی گیس یا سیال جیسا ہوتا ہے جس میں برقی رو ہوتی ہے،اس مشین کے اندر درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھا کر اس ایندھن کو ایک جز میں تبدیل کیا جاتا ہے جس سے ہیلیم اور نیوٹرونز بنتے ہیں جو بہت ہلکے ہوتے ہیں،اس طرح بہت زیادہ مقدار میں توانائی بنائی جاسکتی ہے کیونکہ نیوٹرونز مشین کی دیواروں کی بلینکٹ لائنوں سے ٹکراتے ہیں اور ان کی توانائی حرارت کے طور پر منتقل ہوتی ہے۔یہ حرارت پانی گرم کرنے، بھاپ بنانے اور ٹربیونز کو بجلی بنانے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ان سب کے لیے مشین میں 150 ملین ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو سورج کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ گرم ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوا کہ زمین پر اتنا درجہ حرارت کیسے کوئی برقرار رکھ سکتا ہے۔یہ جوہری فیوژن توانائی کے حصول کی راہ میں حائل ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جن پر قابو پالیا گیا ہے۔ سائنسدانوں نے ایسے بڑے مقناطیس تیار کیے ہیں جو اتنے مضبوط مقناطیسی میدا بناتے ہیں جو حرارت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ توانائی پیدا کرنا درحقیقت مشکل حصہ نہیں بلکہ بنیادی چیلنج اسے برقرار رکھنا ہے،اب تک صرف برطانیہ میں جوائنٹ یورپین ٹورز نامی منصوبے میں اس توانائی کو 5 سیکنڈ تک برقرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے، اگر اس مشین میں 1970 کی دہائی کے مقناطیس استعمال ہورہے ہیں اور توانائی کو زیادہ دیر تک برقرار رکھا جاتا تو مشین بھی پگھل سکتی تھی۔اس کے مقابلے میں آئی ٹی ای آر میں نئے مقناطیس استعمال کیے جارہے ہیں جو اس توانائی کو زیادہ وقت تک مستحکم رکھ سکتے ہیں اور پراجیکٹ کا مقصد 50 واٹ ان پٹ سے 500 میگا واٹ توانائی بنانا ہے۔مگر سائنسدان بنیادی طور پر بجلی کے لیے یہ توانائی استعمال نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں فیوژن توانائی کو زیادہ وقت تک بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔اس کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ مستقبل میں اس توانائی سے کمرشل پیداوار ممکن ہوسکے گی۔سورج تو ہائیڈروجن ایٹمز سے ہیلیم تیار کرتا ہے مگر برطانوی منصوبے میں ہائیڈروجن isotopes کو استعمال کیا گیا اور آئی ٹی ای آر میں بھی اسے ہی استعمال کیا جائے گا۔سائنسدانوں کو توقع ہے کہ وہ 2025 تک پہلے پلازما کو تیار کرسکتے ہیں مگر اس میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.