احتساب عدالت نے اہم ترین شخصیت کو سات سال قید کی سزا سنا دی،وجہ کیا بنی؟ جانیے

کوئٹہ (ویب ڈیسک )کوئٹہ احتساب عدالت نے حاضر سروس بیورو کریٹ علی گل کرد کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 7سال قید کی سزا سنا دی ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق حاضر سروس بیوروکریٹ علی گل کر پر ناجائز اثاثہ جات بنانے کا الزام تھا،احتساب عدالت نے بد عنوانی

ثابت ہونے پر 63کروڑ روپے جرمانے کا بھی حکم دے دیا،کیس میں نامزد بے نامی دار کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ علی گل کرد فش ہاربر کے ایم ڈی کے طور پر تعینات تھے،جرم ثابت ہونے پر ان کی اربوں روپے کی جائیداد بھی بحق سرکار ضبط کر لی گئی ہے ،علی گل کرد کو نیب حکام نے گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کر لیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں وفاق کو وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے سیکریٹری کے ذریعے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار داؤد غزنوی اور دہری شہریت رکھنے والے عاطف اقبال خان کی جانب سے وکیل عارف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے کہا کہ جو پہلے ترمیم تھی وہ بھی یہی تھی، اب والی ترمیم میں زیادہ وضاحت دی گئی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ لوگ باہر ہیں وہ وہاں سکونت رکھتے ہیں، دونوں ترامیم ان کے حقوق کو ختم نہیں کر رہیں۔درخواست گزار کے وکیل عارف چوہدری نے دلائل دیے کہ 30 سال سے یہ کام چل رہا تھا اب یہ کام ہوا ہے، یہ تو کوئی کہہ نہیں سکتا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں۔اس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ 9 لاکھ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ امریکا میں کیسے ووٹ ڈالے جاتے ہیں وہاں کا کوئی قانون ہوگا، وکیل نے جواب دیا کہ ابھی وہاں کا قانون مجھے معلوم نہیں۔عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں گزشتہ حکومت کی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نہیں تھی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اب جو ترمیم ہوئی اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم نہیں کیا گیا۔عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 جون تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 26 مئی کو قومی اسمبلی نے الیکشن ترمیمی بل 2022 منظور کر لیا تھا جس کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور اوورسیز ووٹنگ سے متعلق گزشتہ حکومت کی ترامیم ختم کردی گئیں جبکہ قومی احتساب ترمیمی بل بھی منظور کرلیا گیا تھا۔اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے بل اسمبلی میں پیش کیا، انتخابات ایکٹ 2017 کے سیکشن 94 اور سیکشن 103 میں ترامیم کی گئی ہیں۔انتخابات ایکٹ 2017 کے سیکشن 94 کے تحت الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کرے تاکہ ٹیکنیکل، رازداری، سیکیورٹی اور اس طرح کی ووٹنگ کے لیے اخراجات کا تعین کیا جائے اور نتائج سے حکومت کو آگاہ کرے اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد 15 دن کے اندر ایوان کا اجلاس بلایا جائے اور اس کو دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے۔الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 103 میں کی گئی ترامیم کے تحت الیکٹرانک اور بائیومیٹرک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا بھی ضمنی انتخابات میں پائلٹ پراجیکٹ کیا جائے۔وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترامیم کا بل بھی ایوان میں پیش کیا تھا جو کہ بعد ازاں منظور کرلیا گیا۔اس بل کا عنوان قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2021 ہے جس کے تحت چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.