اگر اسٹیبشلمنٹ آپ کا ساتھ نہیں دیتی تو آپ کا اگلا پلان کیا ہو گا ؟ سمیع ابراہیم کے سوال پر عمران خان کا تہلکہ خیز جواب

لاہور (ویب ڈیسکج) پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے متنبہ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ’درست فیصلے‘ نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور ’پاکستان کے تین حصے ہو جائیں گے۔‘ان خدشات کا اظہار انھوں نے نجی ٹی وی چینل کے اینکر سمیع ابراہیم سے گفتگو کے دوران کیا۔

اس شو کے دوران عمران خان سے پوچھا گیا کہ اگر ملک کی اسٹیبلشمنٹ ان کا ساتھ نہیں دیتی تو ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کریں گے، یہ بھی تباہ ہوں گے۔ فوج سب سے پہلے تباہ ہو گی۔’انھوں نے کہا کہ ‘اگر ہم ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ کون سا ہے جو متاثر ہو گا، پاکستانی فوج۔‘عمران خان کے اس تبصرے پر ان کے سیاسی مخالفین کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ردعمل دیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کے حامی جہاں ان کی بات سے اتفاق کر رہے ہیں وہیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں ’ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہیے تھا۔‘اس انٹرویو کے دفاع میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’عمران خان نے جائز طور پر ان خطرات کی نشاندہی کی جو معاشی تباہی کی صورت میں پاکستان کو درپیش ہوں گے۔‘سمیع ابراہیم کے ساتھ انٹرویو کے آغاز میں عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران اپنے کارکنان کی گرفتاریوں کی مذمت کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ’ہم اطمینان میں تھے، ہم نے سمجھا ہم آرام سے نکل جائیں گے۔ مگر اب سوچنا چاہیے ہمارا مقابلہ مافیا کے ساتھ ہے۔‘ان سے پوچھا گیا کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو تحریک عدم اعتماد کی شب پارلیمنٹ کے باہر قیدیوں کی وین کھڑی کی گئی اور ’وہ کون تھا؟

ان کا جواب تھا کہ ’اگر پھر سے ویسی ہی حکومت ملنی ہوتی تو کبھی قبول نہ کرتا۔ یہ ایک اتحادی حکومت تھی، جن لوگوں نے ہمیں جوائن کیا انھیں ہم جانتے نہیں تھے۔ ہم بہت کمزور تھے۔ اب ایسا ہو تو دوبارہ الیکشن کرا کے اکثریت حاصل کرنا چاہوں۔‘اس انٹرویو میں عمران خان نے اپنے کارکنان کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا مقابلہ گروہوں سے تھاعمران خان نے کہا کہ ’ہمارے ہاتھ بندھ گئے۔ ہم ہر طرف سے پکڑے گئے۔ یعنی (ہم) ہر جگہ سے پریشرائز ہوتے تھے۔ پاور پوری طرح ہمارے پاس نہیں تھی۔۔۔ پاکستان میں سب کو پتا ہے کہ پاور کدھر ہے۔تو ان کے اوپر دار و مدار کرنا پڑا۔ سارا وقت ان پر انحصار کرتے تھے۔ انھوں نے کچھ اچھی چیزیں بھی کیں۔ لیکن کئی چیزیں جو ہونی چاہیے تھیں وہ نہیں کیں۔ ان کے پاس پاور تو ہے۔ اس لیے کہ وہ ادارے کنٹرول کرتے ہیں جیسے نیب (قومی احتساب بیورو)۔ نیب تو ہمارے کنٹرول میں نہیں نیب آزاد ہے، عدلیہ آزاد ہے۔‘ملک کی ذمہ داری میری ہے۔ لیکن اختیارات پورے نہیں ہیں۔۔۔ ذمہ داری اور اختیارات ہمیشہ ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں، تب ہی ایک نظام چلتا ہے۔‘جب اینکر نے ان سے پوچھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ ان سے تعاون نہیں کرتی اور ان کے خلاف ہے تو آیا انھیں لگتا ہے کہ وہ حکومت میں نہیں آسکیں گے اور ان کی مستقبل کی حکمت عملی کیا ہے۔عمران خان نے جواب دیا کہ ’اللہ نے جو کچھ دینا تھا دے چکا ہوا دنیا میں، وزارتِ عظمیٰ پر بھی بیٹھا رہا ساڑھے تین سال۔

یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے۔ اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کریں گے، تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ یہ بھی تباہ ہوں گے، فوج سب سے پہلے تباہ ہو گی۔’انھوں نے کہا کہ ‘میں آپ کو ترتیب بتا دیتا ہوں۔ یہ جب سے آئے ہیں روپیہ گر رہا ہے، سٹاک مارکیٹ، چیزیں مہنگی۔ ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے پاکستان۔ اگر ہم ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ کون سا ہے جو متاثر ہو گا، پاکستانی فوج۔’جب فوج ہِٹ ہوگی تو اس کے بعد ہمارے سامنے کیا شرط رکھی جائے گی جو انھوں نے یوکرین کے سامنے رکھی تھی کہ ڈی نیوکلیئرائز کریں (یعنی جوہری ہتھیار ختم کر دیں)۔ واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ جب وہ چلا گیا تو پھر کیا ہو گا۔ میں آپ کو آج کہتا ہوں کہ پاکستان کے تین حصے ہوں گے۔’انھوں نے کہا کہ ‘اس وقت اگر صحیح فیصلے نہیں کیے جائیں گے تو ملک موت کی طرف جا رہا ہے۔ میں اس لیے زور لگا رہا ہوں۔’عمران خان ’خطرناک راستے‘ پر چل پڑے ہیں، انھوں نے کوئی ’فُل ٹاس‘ پھینک دیا ہے یا ان کی بات کا سرے سے غلط مطلب لیا جا رہا ہے؟ یہاں بھی لوگوں کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔عمران خان کے سیاسی مخالفین جہاں ان کے بیان کی مذمت کر رہے ہیں وہیں ان کے حامی اس کی وضاحتیں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکڑے کرنے کی بات نہیں کر سکتا،

یہ زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے۔ عمران خان دنیا میں اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بہادر بنو اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر سیاست کرنا اب سیکھ لو۔”اس ملک کے تین ٹکڑے کرنے کی خواہش ہمارے اور ہماری نسلوں کے جیتے جی پوری نہیں ہو سکتی۔’ادھر ڈیجیٹل میڈیا پر سابق وزیر اعظم کے مشیر ارسلان خالد کہتے ہیں کہ ’جس جس نے آج خان کے بیان کو سنے بغیر کسی کی خواہش پر نیچ درجے کے پاکستان مخالف تجزیے دیے ہیں، یہ سب صحافت کی توہین کر رہے۔ یہ آرڈر پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی نہ کوئی ساکھ ہے نہ کوئی انھیں اب سیریس لیتا ہے۔ ان کے ذریعے بیانیہ بنانے کے چکر میں آپ ایکسپوز ہی ہوں گے۔‘تاہم مظہر عباس کا خیال ہے کہ عمران خان ’خطرناک راستے پر چل پڑے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر وہ نکالے گئے تو زیادہ خطرناک ہوجائیں گے۔‘صحافی اجمل جامی نے عام لوگوں سے گزارش کی ہے کہ ’اپنے کسی بھی سیاسی رہنما کو ولی یا پیغمبر کا درجہ نہ دیجیے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اندھی نفرت اور عقیدت میں مبتلا متاثرین سے گزارش ھے کہ رہنما معاشرے کو جوڑا کرتے ہیں، توڑا نہیں کرتے، زخموں پر مرہم رکھتے ہیں نمک نہیں چھڑکتے، ایک سابق وزیر اعظم کو تنبیہہ کے انداز میں ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہیے تھا۔‘دوسری جانب سابق وزیر زرتاج گل اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ عمران خان کسی خطرناک راستے پر نکل پڑے ہیں۔ بلکہ وہ سمجھتی ہیں کہ دراصل ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ’نون لیگ کی طرف واضح جھکاؤ رکھنے والے صحافی اور اینکر خود کو تباہ کرنے والے طریقے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اس غالب حقیقت کے خلاف ہیں کہ قوم عمران خان کی مکمل حمایت کرتی ہے۔‘سوشل میڈیا صارف اسما نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ عمران خان نہیں جو خطرناک راستے پر ہیں بلکہ پاکستان اس وقت خطرناک راستے پر ہے۔‘عمران خان کی بات کا اصل مطلب کیا تھا، یہ تو وہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ مگر سدانند دھومے کی رائے ہے کہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ ’مجھے گھر کی چابیاں دو ورنہ میں پورا گھر جلا دوں گا۔‘انھوں نے کہا کہ ’یہ بات سمجھ سکتا ہوں کہ تین ٹکڑے کہا گیا، چار یا پانچ نہیں۔‘ مگر ان کے اس تجزیے پر یہ بحث بھی ہوئی کہ آیا تین ٹکڑوں سے مراد مکمل تباہی ہے یا واقعی اس میں ’تین ٹکڑوں‘ کا کوئی مطلب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.