کرپشن الزامات، سب سے زیادہ استعفے اور برطرفیاں کس پارٹی کے کریڈٹ پر؟

لاہور(ویب ڈیسک) مارچ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی تیسری بار برسراقتدار آئی تو ماضی کے کرپشن الزامات نے اس کا پیچھا اب بھی نہ چھوڑا۔صرف ایک سال بعد دسمبر 2009 میں سپریم کورٹ نے صدر جنرل مشرف کی طرف سے جاری کردہ متنازع قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے خاتمے کے ذریعے پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری سمیت متعدد کابینہ

ارکان اور رہنماوں کے خلاف کرپشن کے کیسز بحال کر دیے جس سے حکومت شدید مشکلات کا شکار ہو گئی۔این آر او کے ذریعے مشرف نے جنوری 1986 سے اکتوبر 1999 تک سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو کرپشن منی لانڈرنگ جیسے کیسز میں عام معافی دے دی تھی۔این آر او کے خاتمے کے بعد پارٹی سربراہ آصف زرداری کے خلاف سوئس کیسز بحال ہونے کا راستہ کھل گیا، لیکن بطور صدر انہیں استثنیٰ حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی تھی۔تاہم اپریل 2012 میں سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اسی بنا پر توہین عدالت کی سزا سنائی تھی کہ انہوں نے صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا تھا۔گویا اسی کیس کی بنا پر جون 2012 میں یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔پیپلز پارٹی کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو مشہور زمانہ میموگیٹ سکینڈل کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ میمو گیٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حسین حقانی نے امریکی افواج کے سربراہ کو خط لکھ کر پاکستان میں ممکنہ مارشل لا کا راستہ روکنے کی درخواست کی تھی۔حقانی نے الزامات کی تردید کی تھی تاہم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔جنوری 2013 میں سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت کئی عہدیداران کی رینٹل پاور کیس میں گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ گو کہ عدالت نے بعد میں گرفتاری کے حکم پر عمل درآمد نہیں کروایا تھا۔اس کیس میں راجہ پرویز اشرف اور دیگر پر بجلی بنانے والے کمپنیوں سے ’کک بیکس‘ لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا

جس کی انہوں نے تردید کی تھی۔ تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوتے ہی نیب نے راجہ پرویز اشرف اور دیگر پیپلز پارٹی رہنماوں کو طلبی کے نوٹس بھیج دیے تھے۔گویا پیپلز پارٹی کے پورے دور حکومت میں کرپشن کے باعث کسی وزیر کو خود سے نکالا نہیں گیا نہ ہی کسی نے خود استعفیٰ دیا۔مسلم لیگ نواز کے تیسرے دور حکومت میں آغاز میں تو کرپشن کا کوئی سکینڈل نہیں بنا۔ تاہم پارٹی سربراہ نواز شریف کی وزارت عظمی بھی پانامہ سکینڈل کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں ہاتھ سے گئی۔اسی طرح مسلم لیگ نواز کے دور میں 2015 میں مرحوم مشاہد اللہ سے اسٹیبشملنٹ کے خلاف بیان پر استعفیٰ لیا گیا، جبکہ ڈان لیکس تنازعے پر 2016 میں پرویز رشید سے وزارت اطلاعات واپس لی گئی۔اس کے بعد نومبر 2017 میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد سے فیض آباد مظاہرین کے مطالبے پر استعفیٰ لیا گیا۔تاہم مسلم لیگ نواز کے دور میں بھی کرپشن سکینڈل کی بنیاد پر کسی وزیر کو برطرف کیا گیا نہ ہی استعفیٰ لیا گیا، بلکہ عدالتی احکامات کے باعث 2017 میں نواز شریف کی وزارت عظمی گئی۔مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خاتمے کے بعد پارٹی کے صدر شہباز شریف سمیت کئی سابق کابینہ ارکان کے خلاف نیب کیسز بنے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں جن میں شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال نمایاں ہیں۔اگست 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کی جماعت کرپشن کے خاتمے کے منشور کے ساتھ حکومت میں آئی تھی تاہم حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف سکینڈل سامنے آنا شروع ہو گئے تھے جن پر فوری ایکشن بھی لیا جاتا رہا۔دسمبر 2018 میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو اسلام آباد میں سی ڈی اے کی زمین پر ناجائز قبضے اور اپنے پڑوسی کے

خلاف اختیار کے ناجائز استعمال کے الزامات کے بعد مستعفی ہونا پڑا تھا۔تاہم صرف چار ماہ بعد یعنی اپریل 2019 میں اعظم سواتی کو کیس ختم ہونے کے بعد دوبارہ سے کابینہ میں شامل کرکے پارلیمانی امور کا وفاقی وزیر مقررکر دیا گیا تھا۔اسی طرح ستمبر 2018 میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نندی پور ریفرنس کی تحقیقات کے باعث وزارت سے مستعفی ہو گئے تھے تاہم احتساب عدالت سے بریت کے بعد انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کر لیا گیا تھا۔فروری 2019 میں نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں پنجاب کے سینیئر وزیر اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست علیم خان کو گرفتار کر لیا جس کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفی دے دیا لیکن رہائی اور بریت کے بعد اپریل 2020 میں ان کی بھی صوبائی کابینہ میں واپسی ہو گئی۔اسی طرح اپریل 2019 میں اس وقت کے وزیرصحت عامر محمود کیانی کو بھی عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ ان پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے سکینڈل کے حوالے سے نیب کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔پھر اپریل 2020 میں گندم اور چینی کے بحران کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں لائی گئیں اور کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔
وزیراعظم نے اپنے مشیر شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا جب کہ ‏جہانگیر ترین کو بھی چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ خسرو بختیار سے فوڈ سیکورٹی کی وزارت واپس لے کر ان کا قلمدان تبدیل کیا گیا۔سابق وزیراعظم کے ترجمان شہباز گل نے تصدیق کی تھی کہ کابینہ میں تبدیلیاں چینی اور آٹے سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کی وجہ سے کی گئی ہیں۔اسی طرح پنجاب کے سابقہ وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے آٹا اور چینی بحران سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ میں اپنا نام آنے پر اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published.