اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والے سرکاری افسران جو حیات ہیں ان میں سے اکثر ان دنوں اسلام آباد میں کیسی عبرتناک زندگی گزار رہے ہیں؟ سبق آموز واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار موسیٰ رضا آفندی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کسی افسر کے ایک مقام سے تبادلے پر ناتو کوئی آنکھ اشکبار ہوتی ہے اور ناکسی کو کسی قسم کا افسوس ہوتاہے۔ افسروں کا آنا جانا کسی کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جن ملکوں میں پاکستانیوں کی تعداد

ہزاروں اور لاکھوں میں ہوتی ہے وہاں سے بھی کبھی کسی سفارتکار کے تبادلے پر رخصت کرنے لئے ائرپورٹ کوئی نہیں جاتا۔ اسلئے کہ افسروںکی سرشت میںیہ بات رکھدی گئی ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں سے مختلف مخلوق ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سبھی اعلیٰ افسر ایک طرح کے ہوتے ہیں۔ حاضر سروس لفٹینٹ جنرل اعظم خان کو جب مشرقی پاکستان کے گورنر کے عہدے سے ہٹایا گیا تو وہی بنگالی اُس کے تبادلے کے خلاف ہزروں کی تعداد میں ریل کی پٹری پر لیٹ گئے تھے ۔ جسٹس محمد رستم کیانی کی موت پر پورا پاکستان رویا تھا۔ انھوں نے ایک مرتبہ ایک سائیلہ کے سوال پر جو اُن کی عدالت میں اٹھایا گیا تھا جب فیصلہ اس کے خلاف صادر ہواتھا ’’کیا یہ عدالت ہے؟ ‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا ’’بی بی یہ عدالت نہیں کچہری ہے‘‘ جب منصف لوگوں کے ساتھ ناطہ جوڑ کر فیصلے کرتاہے تو لوگ بھی اُسے یاد رکھنے میں کنجوسی نہیں کرتے۔ بہت کم افسر ہوتے ہیں جو ریٹائر منٹ کے بعد ولی اللہ بننے سے بیشتر بھی لوگوں کے بجائے اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میںنمک کے برا بر ہے۔ میں اسلام آباد کی جس گلی میں میں رہتا تھا اس گلی میں پاکستانی افسر شاہی کے دو بڑے نام اور سگے بھائی بھی رہتے تھے۔ دونوں اپنے زمانے کے دبنگ افسر تھے ۔دونوں اس قدر تنہا اور اکیلے تھے کہ ان کی زندگی میں بھی کوئی انھیں ملنے نہیں جاتاتھا ۔

ایک کا موت کے بعد جسم تین دن تک تعفن پھیلنے کے بعد گھر سے نکالا گیا اور دوسرے کا پتہ نہیں چلا کہ وہ کہا ں گیا ۔ اسلام آباد میں ایسے کئی بڑے بڑے ریٹائر افسران ابھی زندہ ہیں اور وسیع وعریض مکانوں کے اندر کربناک اور عبرتناک تنہائیوں میں رہ رہے ہیں جبکہ ان کی کمائیوں پر پلنے والے بچے دُوردراز ملکوں میں اس طرح عیاشیوں میں مشغول ہیں کہ ان کی موت پر بھی نہیں آپاتے اور بوڑھوں کوپرائے لوگ سپردخاک کرتے ہیں ۔ افسران اور اعلیٰ حکام یہ سب کچھ کیوں کرتے ہیں؟ افسران یہ سب کچھ زن زر اور زمین کے لئے کرتے ہیں ۔ پوری تاریخ انسانی انہی تین باتوں کے پیچھے دوڑتی نظر آتی ہے ۔ کوئی دلیل کوئی منطق اور کوئی حکم یہاں کام نہیں کرتی۔ ان با توں کی بے ثباتی کو صفین کی لڑائی سے واپسی پر ایک قبرستان سے گذرتے وقت مُرودں کو خطاب کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے فرمایا ’’اے وحشت ناک قبروں والو ، اے اجڑے گھروں والو، اے تنہائی کے مسافرو ، آپ تیزرو تھے ، ہم سے پہلے چلے گئے ، ہم آپ کے پیچھے پیچھے آنے والے ہیں ۔ آپ جو گھر چھوڑ کر گئے تھے وہ آباد ہوگئے ۔ جو مال چھوڑ کر گئے تھے وہ تقسیم ہوگئے اور جو بیویاں چھوڑ کر گئے تھے انھوں نے نکاح کرلئے۔ یہ ہمارے ہاں کی خبریں ہیں تمہارے ہاں کی کیا خبریں ہیں؟ ‘‘ اس کے بعد اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا ’’اگر یہ بول سکتے تو بتاتے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ‘‘ ایک مختصر ترین خطاب میںعلی نے زن ز ر اور زمین کی بے ثباتیاں نہایت دلنشیں اندازواضح کردی ہیں ۔ نوسوچوہے کھا کر حج اور عمرہ کرنے والوں کی سمجھ کے لئے یہ کافی ہونا چاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.