پی ٹی آئی کے استعفے منظور ہونے چاہیں یا نہیں۔۔۔؟ حکومت کیا سوچ رہی ہے؟ بڑا راز کھل گیا

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) پی ٹی آئی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے معاملے پر حکومتی اتحاد میں اتفاق ہو گیا۔نجی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے استعفوں کے معاملے پر حکومتی اتحاد نے حکمت عملی مرتب کر لی اور پی ٹی آئی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے معاملے پر

حکومتی اتحاد میں اتفاق ہو گیا۔6 جون سے استعفوں کے معاملے پر باقاعدہ کاررائی کے آغاز کا امکان ہے۔ حکومتی اتحاد کی 25 سے 30 اراکین کو استعفیٰ دینے سے روکنے پر قائل کرنے کی کوشش ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ 3 اراکین شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے اسمبلی میں استعفوں کا اعلان کیا۔تینوں اراکین تصدیق کے لیے آئیں یا نہ آئیں استعفے منظور ہو سکتے ہیں۔مزید اراکین کی تقاریر کا ریکارڈ اسمبلی اسٹاف چیک کر رہا ہے۔ جن اراکین کے خطاب کا ریکارڈ کیا جا رہا ہے ان میں اسد قیصر، قاسم سوری اور اسد عمر شامل ہیں۔پہلے مرحلے میں 3 سے 6 یا دس اراکین کے اسعتفے الیکشن کمیشن کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔قبل ازیں پی ٹی آئی قیادت نے اپنے ارکان کو استعفوں کی تصدیق کے عمل کا حصہ نہ بننے کی ہدایت کر دی تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے ارکان قومی اسمبلی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ استعفوں کی تصدیق کے عمل کا حصہ نہ بنیں اور اس سلسلے میں ارکان اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے لیے نہ جائیں۔رپورٹ کے مطابق قیادت نے پارٹی ارکان کے سامنے موقف اپنایا کہ ہم استعفے دے چکے ہیں لہذا مزید کسی اقدام کی ضرورت نہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی ارکان کو 6 جون کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا ہے۔جبکہ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں واپسی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے اسمبلیوں میں واپسی کے فیصلے سے متعلق خبر حسب معمول خواہش پر مبنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.