پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اتحادیوں کا حکومت پر شدید دباؤ، اندرون خانہ کیا چل رہا ہے ؟ مظہر عباس کی خاص خبر

لاہور ( ویب ڈیسک)نامور صحافی مظہر عباس اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مہینے میں دوسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اس کے علاوہ فیول ٹیرف میں اضافے اور مزید سخت اقدامات کی رپورٹس سے ظاہر ہے کہ 11 جماعتوں کی اتحادی حکومت میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ کیا وزیراعظم شہباز شریف

کی قیادت میں حکومت عوام کے بڑھتے دبائو کو برداشت کرسکے گی کیوں کہ اہم اپوزیشن لیڈر سابق وزیراعظم عمران خان نئے منصوبے کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ عام انتخابات کا اعلان کرکے اقدار چھوڑ دے۔دوسری جانب جماعت اسلامی نے بھی جمعے کے روز حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر مظاہرے کیے۔ جب کہ عمران خان نے احتجاجی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان آج (ہفتے کے روز) کرنا ہے۔ تاہم، کراچی سے مزید بری خبریں سامنے آرہی ہیں جہاں سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف جانتے ہیں کہ اگر کوئی بھی اتحادی جماعت الگ ہوئی تو ان کے اور حکومت کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ساتھ بھی سب ٹھیک نہیں ہے۔پیپلزپارٹی۔ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کے دو رائونڈز ہوچکے ہیں جس میں ایم کیو ایم کے مطالبات سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم اور ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی کا بیان بریکنگ پوائنٹ ہوسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ سخت فیصلوں کے بعد بڑھتے دبائو کے تناظر میں حکمران اتحاد کے سربراہوں کے اجلاس میں اختلافات کی رپورٹس آئی ہیں۔ جس کے بعد آئندہ ہفتے کچھ اہم فیصلے متوقع ہیں ان میں اقتصادی اور سیاسی مسائل سے نمٹنا اور رواں سال کے آخر یا 2023 کے آغاز میں انتخابات کا انعقاد کروانا شامل ہے۔پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے حکمران اتحاد کے لیے

دبائو سے نمٹنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی پاکستان کا معاشی آئوٹ لک مثبت سے منفی کردیا ہے۔جس کے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جب کہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم ان غیرمقبول فیصلوں کے دفاع کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور گزشتہ حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 8 مارچ کے عدم اعتماد کے ووٹ کا مقصد کیا تھا، کس نے حکمران اتحاد کو خطرے میں ڈالا اور عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ کیا، جو کہ 7 مارچ سے قبل نیچے گررہا تھا۔وزیر خزانہ جو کہ آئندہ ہفتے قومی بجٹ پیش کریں گے۔ اکثر کا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی صورت حال میں یہ بہت مشکل ہوگا۔ حکمران اتحاد کے لیے فی الوقت یہ مشکل ہورہا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کا دفاع کرے اور اس کے پاس اپوزیشن کے اس بیانیئے کا کوئی رد نہیں ہے کہ معاشی حالات مارچ سے قبل خاصے بہتر تھے۔سیاسی اعتبار سے حکمران جماعتیں سیاسی تنائو میں کمی نہیں لاسکی ہیں لیکن وہ ساتھ ہی ایسے اقدامات کررہے ہیں جس سے موجودہ تنائو میں مزید شدت آرہی ہے۔ جس طرح حکومت نے 25 مئی کے لانگ مارچ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور ریاستی مشینری کو اس کے خلاف استعمال کیا، وہ ان کے حق میں نہیں رہا۔ اس طرح کچھ برے فیصلے جیسا کہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب اور ترکی میں شریف خاندان کے کچھ افراد کی

موجودگی درست نہیں تھی۔ اس صورت حال میں کیا حکمران جماعتیں آئندہ ماہ پنجاب میں 20 ایم پی ایز کی سیٹوں کے لیے ہونے والے ضمنی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہر کرسکیں گی۔ اس کے علاوہ لوکل باڈیز کے انتخابات بھی ہیں جو اندرون سندھ رواں ماہ ہوں گے اور آئندہ ماہ کراچی اور حیدرآباد میں ہوں گے۔یہ انتخابات حکمران جماعتوں اور پی ٹی آئی کا اصل امتحان ہوگا، جس سے آئندہ عام انتخابات کا اندازہ ہوجائے گا۔ جیسا کہ آج کی صورت حال ہے اپوزیشن رہنماء عمران خان کو حکمران اتحاد پر واضح برتری حاصل ہے، اگر انتخابات کا انعقاد آئندہ چند ماہ میں ہوتا ہے تو انہیں برتری حاصل ہوگی۔لیکن وہ اب بھی پر اعتماد نہیں ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی حمایت کے خواہاں ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہی حکومت کو گرانے میں اور آئندہ عام انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ عدلیہ کا بھی متحرک کردار چاہتے ہیں کہ یہ دونوں ان کے مستقبل کے لانگ مارچ اور زرداری اور شریف خاندان کے خلاف مقدمات کا جلد فیصلہ کریں۔اسٹیبلشمنٹ اب تک اپنے حالیہ نیوٹرل رہنے کے بیانیے پر قائم ہے لیکن ظاہر ہے گرتی معاشی صورت حال اور غیریقینی سیاسی صورت حال میں اختلاف رائے یقینی ہے۔ لہٰذا کسی قسم کا درمیانی راستہ نکالنا ہوگا جیسا کہ 2023 میں مارچ اور اپریل میں انتخابات سے قبل کم از کم چھ ماہ کے لیے عبوری حکومت بنانا۔ اب اس کا زیادہ انحصار موجودہ حکمران اتحاد پر ہے کہ وہ کس طرح صورت حال سے نمٹتے ہیں کیوں کہ 9 مارچ کا تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ان کے لیے سخت نقصان کا سبب بن رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.