استعفیٰ دیا نہیں بلکہ لے لیا گیا!!!! عمران خان شفقت محمود سے کس وجہ سے ناراض ہیں؟نازک صورتحال میں استعفیٰ کیوں لِیا گیا؟

لاہور (نیوز ڈیسک ) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے لانگ مارچ میں ناکامی پر شفقت محمود سے پارٹی عہدے سے استعفی لے لیا،شفقت محمود نے اپنا استعفی عمران خان کو بھجوا دیا ہے، شاہ محمود قریشی کو پی ٹی آئی صدر پنجاب بنائے جانے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے

چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان 25 مئی کو لانگ مارچ کی ناکامی پر پارٹی کی سینئر قیادت سے شدید ناراض ہیں،عمران خان نے شفقت محمود سے پی ٹی آئی پنجاب کے صدارت سے استعفا لے لیا ہے، بتایا گیا ہے کہ شفقت محمود لانگ مارچ میں بندے نہیں لاسکے جبکہ مرید کے سے ہی واپس چلے گئے۔جس پر عمران خان ان سے شدید ناراض ہوئے اور انہیں معطل کردیا تھا۔ تاہم اب انہوں نے پارٹی چیئرمین کے کہنے پر پی ٹی آئی صدر پنجاب کے عہدے سے بھی استعفا عمران خان کو بھجوا دیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ گزشتہ رات دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا پاکستان میں سوئی گیس بھی ختم ہونے والی ہے، تاہم اب انہوں نے پارٹی چیئرمین کے کہنے پر پی ٹی آئی صدر پنجاب کے عہدے سے بھی استعفا عمران خان کو بھجوا دیا ہے۔گیس اور تیل کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں، امپورٹ کیے گئے تیل پر سبسڈی کیسے دی جاسکتی تھی،اضافی بوجھ ہمیں ڈالنا پڑا کیوں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا گوادر سے کراچی تک ٹرانسپورٹ کی سہولت بہتر ہوگی، گوادر میں 3200 گھرانوں کے لیے چین سولر پینل مہیا کر رہا ہے، گوادر میں ابھی کام کی رفتار تسلی بخش نہیں۔گوادرمیں ایسٹ بے ایکسپریس وے کا افتتاح اور 7 دیگر منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی دیکھ کر سابق حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم کر دی اور ہمارے لیے ایک جال پھینکاوزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومت کو ساڑھے 3 سال توفیق نہ ہوئی جو آٹا،

چینی اور دال میں ریلیف دیتی، ہم نے پوری کوشش کی کہ عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں، پچھلی حکومت کی وجہ سے ملک قرض کی زندگی بسر کر رہا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سوئی گیس بھی ختم ہونے والی ہے، گیس اور تیل کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں، امپورٹ کیے گئے تیل پر سبسڈی کیسے دی جاسکتی تھی، اضافی بوجھ ہمیں ڈالنا پڑا کیوں کہ ہمارے پاس آپشن نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سوار اور بس پر سفر کرنے والوں کو 2000 روپے ادا کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا ہے، چین نے معیاری ایسٹ بے ایکسپریس وے بنائی ہے، گوادر سے کراچی تک ٹرانسپورٹ کی سہولت بہتر ہوگی، گوادر میں 3200 گھرانوں کے لیے چین سولر پینل مہیا کر رہا ہے،گوادر میں ابھی کام کی رفتار تسلی بخش نہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک گوادر ایئرپورٹ مکمل نہیں ہوسکتا، گوادر کے عوام کے لیے پینے کا پانی ابھی تک مکمل طور پر مہیا نہیں کیا جاسکا، کوشش ہے کہ گوادر اور اطراف میں 100 یا 150 میگاواٹ کے سولر پارکس لگائیں، گوادر کی تعمیر و ترقی کے لیے جنگی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔ گوادر کے عوام کے لیے پینے کا پانی ابھی تک مکمل طور پر مہیا نہیں کیا جاسکا، وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں گوادر یونیورسٹی کے لیے فنڈز مختص کریں گے، گوادر یونیورسٹی کے منصوبے کو فی الفور عملی جامہ پہنائیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیز چینی باشندوں کو عمدہ سکیورٹی دے رہے ہیں، چینی بھائیوں، پاکستانی دوستوں اور سکیورٹی ایجنسیز کا شکر گزار ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.