سکیورٹی یا گرفتاری کا خوف؟ عمران خان نے پشاور میں ڈیرے کیوں ڈالے ہوئے ہیں؟ بی بی سی کا تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم عمران خان کے پشاور میں قیام کے حوالے سے ان کے چیف آف سٹاف ڈاکٹر شہباز گل سمیت کسی بھی رہنما نے موقف نہیں دیا تاہم بی بی سی اردو کے مطابق ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا “ایک افراتفری کا عالم ہے،

ایسے میں عمران خان اگر پنجاب میں رہنےکو ترجیح دیتے تو وہ وہاں پر رہ کر کوئی جلسہ نہیں کر سکتے تھے، انھیں گرفتار بھی کیا جا سکتا تھا اور نظر بند بھی ہو سکتے تھے۔ ایسے میں ہماری اطلاعات تھیں کہ عمران خان کو کئی مقدمات میں گرفتار کر کے انھیں پھنسا دیا جاتا۔ عمران خان کی سلامتی کے حوالے سے بھی بعض خدشات درپیش تھے اور خود اسٹیبلشمنٹ بھی اس حوالے سے کسی حد تک پریشان نظر آرہی تھی اس لیے کچھ خیرخواہوں کے ذریعے عمران خان کو پشاور میں رہنے کے پیغامات مل رہے تھے۔”انہوں نے مزید کہا “ایک ایسے وقت میں جب سیاستدان، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ سمیت سب تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں، مزید نقصان سے بچنا ہی ضروری تھا۔ اسی لیے مزید کسی نقصان سے بچنے کے لیے عمران خان کو پشاور میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ ان کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان سب کا نقصان ہوتا۔” دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ انتخابات سے قبل مہنگائی اور غربت میں کمی کے لیے قلیل مدتی اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے،ملک میں آئندہ عام انتخابات 15 ماہ میں ہوں گے اور اس دوران ان کا ہدف مہنگائی اور غربت کے چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ ترکی کے سرکاری ٹیلی ویڑن ’’ٹی آر ٹی‘‘ کو انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ کہ میرا وڑن پاکستان کی تعمیر نو، غربت میں کمی لانے

اور کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری شعبہ کے بجٹ میں کٹوتی کے لیے اپنی پوری کوشش کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بات زور دے کے کہی کہ ان کی حکومت انتخابات سے قبل عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل مدتی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں ان کی جماعت عوام کی مرضی کے مطابق اقتدار میں آتی ہے تو بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مکمل ترقیاتی ایجنڈا شروع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی آسمان سے چھوتی ہوئی قیمتوں نے حکومت کو تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہوا ہے، یہ اقتدار کی ایک آئینی اور قانونی منتقلی ہے جو آئین میں فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’’کوانٹم جمپ‘‘ کی بجائے ایک بڑا قدم ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں یہ ایک قابل قبول معمول ہو گا کہ اگر پارلیمنٹیرین کی اکثریت محسوس کرتی ہے کہ ایک خاص حکومت ہو، تو انہیں ملک کے قانون کے تحت آزادانہ طور پر ووٹ دینے کی اجازت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ماضی میں اسی طرح کے حالات میں مارشل لا اور فوجی مداخلت کا مشاہدہ ہوا ہے لیکن اب اس نے پوری صورتحال کو تبدیل کیا ہے اور اس کی حمایت کی جانی

چاہیے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بے پناہ افہام و تفہیم کے ساتھ علاقائی تعاون کے روڈ میپ پر گامزن ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان یکجہتی پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے ترکی کے دورے کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی رشتے کے بندھن سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے تقسیم برصغیر سے قبل کے زمانے کا ذکر کیا جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ترک تحریک کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد کا رشتہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک مستقل بھائی چارہ بن گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاک ترک دفاعی تعلقات کے بارے میں کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ فوجی منصوبوں میں مشترکہ تعاون کا خواہاں ہے اور یہ کہ ملجم جنگی بحری جہاز کی حالیہ لانچنگ اسی وڑن کے مطابق ہے۔ ترکی کے ساتھ 5 ارب ڈالر کی تجارت کے ہدف کے حصول کےبارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد دونوں ممالک کے فائدے کے لیے مختلف شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے۔ وزیراعظم نے شام میں ’’پی کے کے اور وائی پی جے‘‘ کے دہشت گردوں کے خلاف ترکی کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر کہا کہ چونکہ پاکستان دہشت گردی کا بڑا شکار رہا ہے، اس لیے اس نے اس لعنت کو ختم کرنے کی کوششوں پر ترک قیادت کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کے لیے چین، پاکستان اور ترکی کے درمیان

سہ فریقی انتظامات پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک میں ترکی کی شرکت خطے کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی، وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی یہ تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں وسیع مہارت کئی ارب کے علاقائی منصوبے کو کامیاب بنا سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے ترکی اور خلیجی ملکوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک سوال پر اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ترکی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عالمی امن کے لیے اہم اور پورے خطے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں اور فلسطینیوں سمیت محکوم اقوام کی حمایت جاری رکھے گا جو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، یہ اسرائیل یا بھارت کا سوال نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی اخلاقی حمایت کا سوال ہے،جب تک ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک خطے میں امن واپس نہیں آسکتا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت نے گزشتہ تین سالوں میں بہت نقصان اٹھایا اور پاکستان معیشت کو درست کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔وزیراعظم نے یوکرین میں روسی حملے پر پاکستان کے مئوقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا غیر متزلزل موقف یہ ہے کہ ہم معاشروں کے آزاد حقوق کے لیے کھڑے ہیں، انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ مذاکرات کی میز پر آجائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.