پاکستان میں اب روزانہ کتنے گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوا کرے گی ؟ اسلام آباد سے متعلقہ محکموں کو حکم جاری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر بجلی محکموں کے افسران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ کچھ بھی کریں لیکن 2؍ گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کچھ برداشت نہیں، عوام کو مشکل سے نکالیں، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کہنا ہے

کہ ملک میں توانائی کی مجموعی صورتحال پر وزیراعظم کو تفصیلی سے بریفنگ دی گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے لوڈشیڈنگ میں کمی کا ہنگامی پلان 24؍ گھنٹے میں طلب کرلیا، اس پر موثر عملدرآمد کرانے کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم لوڈشیڈنگ کے حوالے سے وزراء اور افسران کی وضاحتوں اور رپورٹس کو بھی مسترد کردیا۔واضح رہے کہ بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگا واٹ سے بڑھ گیا ہے جبکہ 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے، پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار 135میگاواٹ ہے اور طلب 26 ہزار میگاواٹ ہے،دوسری جانب حکومت نے کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد شروع کردیا، حکومتی ذرائع کا کہناہےکہ وفاقی کابینہ ارکان اور سرکاری افسران کے بجلی، گیس اور ٹیلیفون بل پر بھی کٹوتی کی تجویز ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر وزراء اور افسروں پر برس پڑے اور تمام وضاحتیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وضاحتیں نہیں عوام کو تکلیف سے نجات چاہیے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں توانائی بحران پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں لوڈشیڈنگ کی وجوہات، محرکات اورسدباب کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے لوڈشیڈنگ میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی وضاحتوں کو مسترد کردیا، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ عوام تکلیف میں ہیں، اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کچھ بھی کریں 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ برداشت نہیں، عوام کومشکل سے نکالیں،

کوئی وضاحت نہیں چاہیے، عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات چاہیے۔ وزیر اعظم کی سرکاری افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے شارٹ اور لانگ ٹرم پلان تیار کیا جائے، شارٹ ٹرم پلان کے تحت لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں فوری واضح کمی لائی جائے، وزیر اعظم نے سستی اور وافر مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرنے کہ بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے وزیرخزانہ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قیمت پر اور کچھ بھی کرکے عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے، عوام کی زندگی میں سکون آنے تک کسی وزیراور افسر کو سکون سے نہیں بیٹھنے دوں گا، دن رات ایک کریں، کاروبار اور عوام کی سانس بحال کریں، وضاحت نہیں، رزلٹ چاہئے۔ لوڈشیڈنگ کی موجودہ صورتحال قبول ہے نہ اس پر کوئی سمجھوتہ ہوگا۔علاوہ ازیں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت پانچ گھنٹے طویل جاری رہنے والے اجلاس میں تمام صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.