مشکلات کے گہرے بادل: حکومت نے قریبی ہمسایہ ملک سے مدد مانگ لی۔۔۔گرتی معیشت کو پھر سے کندھا دینے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کی سمری منظور کرلی ، چین سے تین سال کیلئے قرض ملے گا، چین پاکستان کو ایک فیصد مارجن پر قرض کی رقم فراہم کرے گا، قرضہ 2019 کے معاہدے کے تحت ملے گا۔جیو نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے

وزارت خزانہ کی سمری منظور کرلی ہے، وفاقی کابینہ نے قرض کے حصول کیلئے سمری سرکولیشن کے ذریعے منظور کی ہے، وفاقی کابینہ نے چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کیلئے سمری کی منظوری دی۔سمری میں بتایا گیا ہے کہ چین سے ملنے والا قرضہ تین سال کیلئے ہوگا،2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرضہ ایک فیصد مارجن پر ملے گا،چین سے ملنے والا قرضہ 2019 کے معاہدے کے تحت ملے گا۔ اس سے قبل 02 جون کو وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا تھا کہ چین کے ساتھ 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے قریب بینک ڈیپازٹ کی ری فنانسنگ پر اتفاق ہوا ہے، چینی بینکوں کے ڈیپازٹ سے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئے گی، معمول کی منظوری کے بعد پاکستان کو رقم کو دی جائے گی۔اسی طرح امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم پیٹرول ، ڈیزل اور بجلی کے شعبے میں سابقہ حکومت کی سبسیڈیز کو ختم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے پراعتماد ہوں۔ جون کے اوائل میں جو بجٹ آئے گا اُس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی اُمید ہے۔ دوسری جانب موڈیز نے پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کو مثبت سے منفی قراردیتے ہوئے مقامی اور غیرملکی کرنسی کی صورتحال بھی غیرمستحکم کردی ہے۔ موڈیز کی رپورٹ کے تحت پاکستان کا آؤٹ لک منفی کرنے کا فیصلہ بیرونی خطرات کے باعث ہوا، پاکستان کو مقامی اور بیرونی ادائیگیوں میں مسائل کا سامنا ہے۔ موڈیز نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ بڑھتی مہنگائی کے باعث پاکستان کو بیرونی خطرات میں اضافہ ہوا، ملکی خسارہ ، روپے کی قدر میں کمی اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں دباؤ ہے،پاکستان میں سیاسی و سماجی خطرات کے تناظر میں یہ فیصلہ لیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.