آگ کے لیے پانی کا ڈر کافی ہوتا ہے :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وشال بھردواج بھارتی ہدایت کار ہیں۔ شاید شیکسپیئر سے بہت متاثر ہیں اس لیے ان کے انگریزی ناولوں کا سہارا لے کر فلمیں بناتے رہتے ہیں۔ انہوں نے Othelloسے متاثر ہوکر Omkaraبنائی، Hamletکے طرز پر Hiderبنائی

اور Macbethکا بنیادی تصور مستعار لے کر Maqboolبنائی۔ اس فلم میں مرالی شرما پولیس افسر ہیں، ایک گینگ کے لوگ مارے جاتے ہیں تو وہ اپنے ماتحت افسروں اوم پوری اور نصیرالدین شاہ سے پوچھتے ہیں کہ اس واردات کے وقت تم لوگ کہاں تھے؟ وہ کہتے ہیں ہم ڈیوٹی پر تھے۔ مرالی شرما جواب دیتے ہیں کہ اگر تم دونوں ڈیوٹی پر ہوتے تو شاید یہ کرائم ہوتا ہی نہیں۔ اوم پوری کہتے ہیں، پھر تو بہت بڑا کرائم ہو جاتا سر! اور پھر اپنا فلسفہ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں، شکتی (یعنی طاقت) کا سنتولن (توازن) بہت ضروری ہے سنسار (دنیا)میں سر! پاس کھڑے نصیرالدین شاہ گرہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں، آگ کے لیے پانی کا ڈر بنے رہنا چاہیے۔ اس فلم کی یاد یوں آئی کہ ہمارے ہاں سیاسی بندوبست کی روایت نے بھی اسی فلسفے کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ توازن قائم رکھنے کی کوشش میں سیاسی شطرنج کی بساط پر ایک مہرے کے مقابل دوسرے کو لایا جاتا ہے، دوسرے کو حدود و قیود کا پابند کرنے کے لیے تیسرے کو متعارف کروایا جاتا ہے اور یوں یہ سلسلہ مربوط و منظم انداز میں آگے بڑھتا رہتا ہے۔ میرے ایک دوست نے دوسری شادی کے بعد جب تیسری شادی کا ارادہ کیا تو اس کی اہلیہ نے بہت مزاحمت کی، اس نے اپنے دفاع میں یہ دلیل پیش کی کہ میں تو انصاف پسند ہوں۔ جس طرح پہلی بیوی پر تمہیں سوتن بنا کر لایا، عدل کا تقاضا ہے کہ اسی طرح اب تمہیں اس احساس سے روشناس کروانے کے لیے تیسری بیوی لے کر آئوں۔

اسٹیبلشمنٹ بھی ہر نئے سیاسی عقد کے لیے یہی جواز پیش کرتی ہے۔ اگرچہ حالات توقع سے زیادہ بگڑ جانے پر بعض اوقات کسی کو طلاق بھی دینا پڑتی ہے مگر بالعموم سابق منکوحہ سے رشتہ نہیں توڑا جاتا تاکہ آگ کے لیے پانی کا ڈر بنا رہے، مسابقت کی فضا قائم ہو اور کوئی ایک لاڈلی بن کر پریشان نہ کرے۔پروجیکٹ عمران بھی اسی فلسفے اور سوچ کے تحت لانچ کیا گیا کہ پاکستان کی سیاست پر دو جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی اجارہ داری ہے، ان کا تسلط ختم کرنے اور توازن قائم کرنے کیلئے ایک تیسری سیاسی طاقت کو میدان میں لایا جائے۔ یہ پروجیکٹ فلاپ ہو گیا اور اب عارضی طور پر اس کی بساط لپیٹ دی گئی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ’’لاڈلی‘‘ جماعت کو مکمل طور پر عاق کردیا گیا ہے۔ ارادہ یہ ہے کہ اسے ایک شمشیرِ برہنہ کے طور پر لہرایا جاتا رہے تاکہ آگ کے لیے پانی کا ڈر بنا رہے۔ اگرچہ میں اس حق میں نہیں کہ کوئی غیرسیاسی طاقت مصنوعی طور پر شکتی کا سنتولن قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرے تاہم اس کی افادیت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسابقت و مقابلے کی فضا ہمیشہ کارکردگی میں بہتری لانے کا سبب بنتی ہے تاہم جب اس کے فطری بہائو میں رکاوٹ ڈال کر طاقت کا توازن مصنوعی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں معاملات خراب ہوتے ہیں۔ اب بھی عمران خان کے محسن اور خیرخواہ انہیں ایک موثر سیاسی طاقت کے طور پر زندہ رکھنا چاہتے ہیں

مگر وہ سیدھی موت پر مائل ہیں اور کسی کی نہیں سن رہے۔ پہلے انہوں نے اقتدار چھوڑتے وقت اپنا تشخص خراب کیا اور آخری وقت تک چمٹے رہنے کی وجہ سے خود کو ایک غیر ذمہ دار کھلاڑی ثابت کیا۔ میر جعفر اور نیوٹرل کو جانور قرار دے کر اپنی مشکلات میں اضافہ کیا۔ پھر اسلام آبادکی طرف آزادی مارچ کی کال دے کر اپنے راستے مسدود کر لیے۔ انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ سیاسی جدوجہد میں آخری اور بڑا ہتھیار سب سے آخر میں استعمال کیا جاتا ہے، مگر وہ نہیں مانے اور ناکامی کا مزہ چکھنے کے بعد ہی واپس لوٹے۔ واپس آتے ہوئے انہوں نے 6دن بعد دوبارہ اسلام آباد پر یلغار کرنے کا اعلان کردیا۔ 6دن گزر چکے مگر ابھی تک عمران خان کی طرف سے کوئی واضح حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ انہیں ایک بار پھر یہ بتانے اور باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قومی اسمبلی سے استعفے دے کر انہوں نے بہت بڑی سیاسی غلطی کردی ہے۔ اس سے پہلے 2014کے دھرنے میں بھی انہوں نے 31اراکینِ قومی اسمبلی کے استعفے جمع کروا کر سیاسی خطا کی تھی اور پھر اس فیصلے سے رجوع کرتے ہوئے انہیں ایوان میں واپس آنا پڑا تھا۔ تب تو محض 31نشستیں تھیں مگر اب منحرف اراکین کو نکال کر بھی ان کے اراکینِ قومی اسمبلی کی تعداد 123بنتی ہے۔ اگر وہ اس سیاسی بلنڈر کا ارتکاب نہ کرتے تو حکومت کو راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنا کر من مانی کرنے کا موقع ہرگز نہ ملتا۔

پنجاب میں آئینی بحران ختم ہو چکا۔ وفاق میں حکومت قدم جما چکی، اب کسی دھرنے یا مارچ کے ذریعے شہباز شریف کا تختہ نہیں اُلٹایا جا سکتا۔ اگر ایک یا ڈیڑھ سال تک ایوان سے باہر رہیں گے تو سیاسی پرندے خزاں رسیدہ موسموں سے تنگ آکر ہجرت کرنے لگیں گے۔ عمران خان کو ان کے مہربان اور قدر دان سمجھا رہے ہیں کہ مقننہ میں شکتی کے سنتولن کے لیے آپ کی واپسی ناگزیر ہے۔ اگر آپ اپوزیشن بنچوں پر موجود ہوں تو اس کمزور ترین حکومت کو دن میں تارے دکھائے جا سکتے ہیں۔ پیٹرول، بجلی اور کوکنگ آئل سمیت تمام بنیادی ضرورت کی اشیاء مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، بجٹ میں حکومت کو مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، اس موقع پر عوام کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ حکومتی اتحادی بالخصوص ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین کو اس عوامی مفاد کے معاملے پر ساتھ ملایا جا سکتا ہے، اگر بجٹ کی منظوری کو روکا نہ بھی جا سکا تو کم از کم حالات اس قدر کٹھن ضرور ہو جائیں گے کہ بجٹ منظور کروانے کے لیے حکومت کو ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے دانتوں پسینہ آجائےگا۔کپتان کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ آپ کے پشاور میں قلعہ بند ہو جانے سے اچھا تاثر نہیں جارہا۔ آپ گرفتاری سے نہ گھبرائیں، ویسے بھی آپ کے خلاف کوئی مضبوط مقدمہ نہیں لیکن بالفرض آپ کو گرفتار کر لیا جائے تو بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ اگر آپ قید میں جائیں گے تو حکومت کیخلاف تحریک مزید زور پکڑے گی۔ لیکن کپتان کو سمجھانا اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ کیا عمران خان مان جائیں گے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.