وفاقی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں کتنااضافہ ہوگا؟ سرکاری ملازمین کو خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پے اینڈ پنشن کمیشن کی جانب سے آئندہ بجٹ سے قبل اپنی ر پورٹ جمع کرانے میں ناکامی اور وزیراعظم کی جانب سے کمیشن کو کام مکمل کرنے کیلئے مزید مہلت دینے کے فیصلے کے بعد حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہوں میں پانچ سے

15؍ فیصد اضافہ کرنے کیلئے تین آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی شائع خبر کےمطابق فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیراعظم نے پے اینڈ پنشن کمیشن کی مدت 30؍ جون 2022ء تک بڑھا دی ہے اور اس عرصہ کے دوران یہ کمیشن اپنی سفارشات پیش کریگا۔ سینئر سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گریڈ ایک سے 19؍ تک کے ملازمین کیلئے ڈسپیرٹی الائونس یکم مارچ 2022ء سے دینے کی منظوری دی تھی۔ جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اقتدار سنبھالا تو اس نے پنشن میں 10؍ فیصد اضافے اور کم از کم ماہانہ تنخواہ 25؍ ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پس منظر کے تحت وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت تین مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جس میں تنخواہوں میں پانچ، دس اور پندرہ فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ بجٹ میں گریڈ ایک سے 19؍ تک کے ملازمین کیلئے تنخواہوں میں پانچ سے دس فیصد ایڈ ہاک الائونس کی مد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ گریڈ 20تا 22کے ملازمین کیلئے دس سے 15؍ فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ پنشنرز کیلئے دو آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے اور حکومت ان کی پنشن میں پانچ تا دس فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.