سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والے پاکستانیوں کی شامت آگئی!! اب کمائی پر کتنا ٹیکس دینا پڑے گا؟ شہباز حکومت کا ایک اور حیران کُن اقدام

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کی تیاریاں شروع کردی۔آئی ایم ایف کی شرط پر عمل درآمد کے لیے حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس بڑھانے پر غور شروع کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایپس کے دفاتر پاکستان

میں قائم کرنے اور آمدن پاکستانی کرنسی میں ادا کی جائے گی۔سوشل میڈیا سمیت آن لائن گیمز اور ٹک ٹاک سے آمدن پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہیں جب کہ یوٹیوب کی اندرون ملک ادائیگیوں پر ٹیکس بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) نے بجٹ میں انکم ٹیکس کی رعایتیں اور مراعات ختم کرنے کی شرط رکھ دی ۔حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پر عمل درآمد کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے تحت سالانہ 10 لاکھ روپے سے زائد کی آمدن پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے ۔جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ آئی ایم ایف کی منظوری سے منسلک ہے ، آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں ، وزارت خزانہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے رکھے گی گی ۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اضافے کی بجائے ایڈ ہاک الاؤنس دینا چاہتی ہے ، ایڈ ہاک الاؤنس دینے کے لیے بھی آئی ایم ایف کی رضامندی ضروری ہے ، آئی ایم ایف کی منظور کردہ تجاویز ہی بجٹ کا حصہ ہوں گی ۔خیال رہے کہ آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا ، اس مقصد کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کا اجلاس ( آج ) 6 جون بروز پیر طلب کر رکھا ہے ، اجلاس میں بجٹ پر بحث ہوگی اور رواں سیشن میں آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ دوسری جانب آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ 2184 ارب روپے رکھنے کی تجویز دے دی گئی ، وزیر منصوبہ بندی کی صدارت میں سالانہ پلان کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں آئندہ مالی سال کے لیئے ترقیاتی بجٹ 2184 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی۔ذرائع کے مطابق صوبوں کیلئے 1384 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ تجویز کیے گئے ہیں ، آئندہ مالی سال کیلئے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے تک تجویز دی گئی ، اراکین قومی اسمبلی کی پبلک اسکیم کے لیے 91 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ، اراکین قومی اسمبلی کو پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز دیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.